لبرل ازم اور کلاسیکی یورپی/امریکی سماج کا تصادم کیسے ممکن ہوا؟
طاہر راجپوت
ٹرمپ اور ان جیسے دیگر روایت پسند اور قوم پرست سیاستدان یورپ اور امریکہ میں اقتدار میں آ رہے ہیں، جبکہ لبرلز کا سورج غروب ہو رہا ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ خود لبرلز بھی فیمینزم، ٹرانس جینڈر حقوق، تارکین وطن، اور اپنی مخصوص لبرل اقدار پر حد سے زیادہ زور دے کر توازن کھو بیٹھے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان میں نااہلی اور کرپشن بھی سرایت کر چکی تھی۔ مزید یہ کہ انہوں نے آزادیٔ اظہار کے نام پر کئی آوازوں کو دبایا اور یورپی عیسائی سماج کی کلاسیکی روایت پسندی، جس میں بڑا خاندان، سفید فام قبائل کی روایات اور سماجی ڈھانچے شامل تھے، کو شدید نقصان پہنچایا۔
یہ حد سے بڑھا ہوا لبرل ازم آخرکار یورپی، امریکی کلاسیکی سماج سے ٹکرا گیا، کیونکہ اس نے تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی اور ثقافتی نظریات کو ایک لازمی حقیقت کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کی۔ جنس، خاندان، مذہب، اور قومیت جیسے بنیادی تصورات کو محض روایتی یا دقیانوسی قرار دے کر مسترد کر دیا گیا، جس سے وہ طبقات شدید ردِعمل دینے لگے جو ان تصورات کو اپنی شناخت کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ لبرلز نے جس تنوع اور مساوات کو فروغ دیا، وہ بہت سوں کے لیے اپنی بنیادی شناخت اور ثقافتی تسلسل کے لیے خطرہ بن گیا۔ یوں، ٹرمپ، جورجیا ملونی (اٹلی)، مارین لی پین (فرانس)، اور گیرٹ ولڈرز (نیدرلینڈز) جیسے سیاستدانوں کا ابھرنا دراصل اسی حد سے بڑھے ہوئے لبرل ازم کا ردِ عمل ہے۔
1. خاندانی ڈھانچے پر حملہ
مغربی سماج میں خاندان ہمیشہ ایک مرکزی اکائی رہا، جہاں مرد اور عورت کے درمیان شادی اور والدین کی روایتی ذمہ داریاں مقدس سمجھی جاتی تھیں۔ مگر حد سے بڑھے ہوئے لبرل ازم نے ان تصورات کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ امریکہ میں 2022 کے دوران فلوریڈا کے "Don't Say Gay" قانون پر شدید تنازع ہوا، جہاں قدامت پسندوں نے کہا کہ بچوں کو کم عمری میں ہم جنس پرستی اور ٹرانس جینڈر نظریات سکھانا والدین کے حقوق پر حملہ ہے۔ یہی رجحان کینیڈا میں مزید شدت اختیار کر گیا، جہاں والدین کی اجازت کے بغیر اسکولوں میں بچوں کو جنس تبدیل کرنے کی اجازت دی جانے لگی، جس پر قدامت پسند حلقوں میں سخت ردعمل آیا۔
2. مذہب اور روایات کی بے قدری
یورپ اور امریکہ میں عیسائیت صدیوں سے سماجی اور اخلاقی اقدار کی بنیاد رہی ہے، مگر حد سے بڑھے ہوئے لبرل ازم نے مذہب کو ایک فرسودہ اور غیرضروری چیز قرار دینا شروع کر دیا۔ کئی یورپی شہروں میں کرسمس کی تقریبات کو "Winter Festival" کہا جانے لگا تاکہ غیر عیسائی کمیونٹیز کو خوش رکھا جا سکے، جس سے قدامت پسند عیسائیوں میں بے چینی پھیلی۔ فرانس میں مذہب کے خلاف لبرل پالیسیوں کے باوجود، بعض مذاہب کو خصوصی رعایت دی گئی، جبکہ عیسائی روایات کو دقیانوسی کہہ کر رد کیا جانے لگا، جس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ان کی اپنی ثقافت اور مذہب کو جان بوجھ کر کمزور کیا جا رہا ہے۔
3. امریکی اور یورپی شناخت پر حملہ
سفید فام اکثریتی ممالک میں "سفید فام برتری" کے خلاف ایک نیا بیانیہ پروان چڑھایا گیا، جو بظاہر نسل پرستی کے خلاف تھا، مگر عملی طور پر سفید فام شناخت کو ایک جرم بنانے لگا۔ امریکہ میں BLM (Black Lives Matter) تحریک کے دوران سفید فام افراد کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں "اپنے استحقاق (privilege) کو قبول" کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا نے 2019 میں ایک گائیڈ جاری کی، جس میں "I'm proud to be American" جیسے جملے کو "نسل پرستانہ" قرار دیا گیا، جس سے قدامت پسند طبقات میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔
4. امیگریشن اور ثقافتی کشمکش
حد سے بڑھا ہوا لبرل ازم تارکینِ وطن کی مکمل حمایت پر اتر آیا، چاہے وہ کسی بھی معاشی یا سماجی پس منظر سے آئے ہوں۔ جرمنی میں 2015 میں انگیلا مرکل کی حکومت نے 1 ملین سے زائد شامی اور افریقی مہاجرین کو قبول کیا، جس سے جرمنی میں عوامی ردعمل بڑھا، اور AfD (Alternative for Germany) جیسی قوم پرست پارٹی کو عروج ملا۔ یہی صورتحال فرانس میں بھی دیکھی گئی، جہاں پیرس کے کئی علاقوں میں مقامی یورپی باشندے اقلیت میں تبدیل ہو گئے، اور وہاں کے کلچر پر مشرق وسطیٰ اور افریقی ثقافت کا غلبہ ہونے لگا۔ اس سے مقامی آبادی میں بے چینی بڑھتی گئی، اور قدامت پسند سیاست دانوں کو ایک مضبوط بنیاد میسر آ گئی۔
5. آزادیٔ اظہار پر منافقانہ رویہ
مغرب میں آزادیٔ اظہار ایک مقدس اصول سمجھا جاتا تھا، مگر حد سے بڑھے لبرل ازم نے قدامت پسند آوازوں کو خاموش کر دیا۔ جے کے رولنگ، جو ہیری پوٹر کی مشہور مصنفہ ہیں، نے جب بائیولوجیکل جنس کے حق میں بات کی، تو انہیں "ٹرانس فوبک" قرار دے کر ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی، اور انہیں پبلک ایونٹس سے نکال دیا گیا۔ اسی طرح، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرمپ سمیت کئی قدامت پسند رہنماؤں کو "نفرت انگیز مواد" کے الزام میں بین کر دیا گیا، جبکہ BLM اور اینٹیفا کے تشدد کو برداشت کیا گیا۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک شدید ردِعمل پیدا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹرمپ، گیرٹ ولڈرز، مارین لی پین اور دیگر قدامت پسند رہنما یورپ اور امریکہ میں ابھر رہے ہیں۔ یہ دراصل حد سے بڑھے ہوئے لبرل ازم کا ردعمل ہے، جو مقامی اکثریتی طبقے کے مذہب، روایات، خاندان، قومیت، اور آزادیٔ اظہار کے خلاف ایک زبردستی کا ایجنڈا مسلط کر رہا تھا۔
یہ ابھی آغاز ہے...
واپس کریں