بادشاہ عادل
یہ بات ہمیں سمجھ لینی چاہیے کہ سود بنک میں نہیں ہوتا بلکہ سوسائٹی میں مزدور اور کسان کا جو استحصال ہو رہا ہوتا ہے سود وہاں ہوتا ہے اور وہی پیسہ بنک میں جاتا ہے ۔ ہم اسلام ،سرمایہ داری اور کمیونزم کے سوسائٹی میں تقسیم دولت کے اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سود اک اکنامک ٹرم ہے جس کو آسان الفاظ میں معاشی استحصال کہہ سکتے ۔موجودہ سودی نظام میں سود کو ختم کرنا ناممکن ہے کیونکہ سودی نظام کے بانی ایڈم سمتھ نے دولت کی تقسیم کے اصول سرمایہ کی بنیاد پر ڈیزائن کیے ہیں نہ کہ محنت کی بنیاد پر ،ایڈم سمتھ کے مطابق دولت پیدا کرنے کے زرائع چار ہیں 1-سرمایہ 2-زمین 3-تنظیم 4-محنت اور جب منافع تقسیم ہو گا تو ان چاروں پر تقسیم ہو گا اگر منافع سو روپے آتا ہے تو اس منافع میں سے 90 روپے سرمایہ ،زمین اور تنظیم لے جاتی باقی دس روپے محنت کے ہوتے ہیں یعنی سرمایہ پر منافع ، زمین پر کرایہ اور تنظیم یعنی مینجمنٹ کی سیلری صرف اکیلا سرمایہ دار لے جاتا ہے باقی ساری محنت مزدور کی ہوتی تو اسے ٹوٹل منافع میں سے دس روپے مزدور کے ہوتے ہیں ۔اسی طرح آپ اک فیکٹری کی مثال لے لیں جہاں100 مزد ور کام کرتے ہیں ،فیکٹری میں ساری دولت یہ مزدور پیدا کرتے ہیں لیکن منافع اگر نوے لاکھ آتا ہے تو اس منافع میں سے دس سے بارہ لاکھ کا حصہ ان سو مزدوروں کا ہوتا اور اسی لاکھ وہ ایک سرمایہ دار منافع لے جاتا ہے حالانکہ ساری محنت مزدور کی ہوتی ہے تو یہی محنت کا استحصال سود کہلاتا ہے یعنی ایڈم سمتھ نے تقسیم دولت سرمایہ کی بنیاد پر رکھی اور آپ سوسائٹی میں جہاں بھی دیکھیں گے تو وہاں محنت کرنے والے کا استحصال ہی ہو رہا ہوتا ہے اور محنت کرنے والا ہی غریب اور مفلس رہتا ہے کیونکہ اس کی محنت ایڈم سمتھ کے دئیے تقسیم دولت کے اصول کے مطابق سرمایہ دار لے جاتا ہے ۔ اب سودی بنکاری اور اسلامی بنکاری کیا ہے ؟ یہ یاد رکھنے کی بات ہے جو پہلے بھی ہو چکی ہے کہ سود بنک میں نہیں ہوتا سود اکنامک سرگرمی میں ہوتا ہے جیسے آپ کو اک فیکٹری کی مثال دی جہاں سے سرمایہ دار بنک سے قرض لیتا ہے اور اپنی فیکٹری چلاتا ہے اور مزدوروں کا استحصال کر کے قرض سود سمیت واپس کرتا ہے اسی منافع کو بنک کچھ اپنے پاس رکھتا ہے اور کچھ اکاونٹ ہولڈرز کو منافع کے طور پر دیتا ہے اب سود بنک میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ فیکٹری میں اکنامک سرگرمی سے پیدا ہوتا ہے اب بنک کو آپ اسلامی بنک کہیں یا اس کے اسلامی لائقے سابقے لگا لیں جو پیسہ آئے وہ مزدور کا استحصال یعنی سود سے ہی آئے گا تو پھر اس سودی نظام اسلامی اور غیر اسلامی بنک لوگوں کو اسلام کے نام پر کنفیوز کرنا ہے ۔ ہمارا معاشی ڈھانچہ سرمایہ کی بنیاد پر تقسیم دولت کے اصول پر کھڑا ہے ۔ اس سودی معاشی ڈھانچے کا لنک بریٹن ووڈ کا معاہدہ جو 1945 میں ہوا تھا کا IMF ' World bank جیسے ادروں کے ساتھ کر کے ہمارے معاشی ڈھانچے کو انٹرنیشنل اداروں پر depend کر دیا گیا یعنی استحصال سود کو بین الاقوامی بنا دیا گیا ۔ کا ر ل مارکس نے متبادل معاشی ڈھانچہ کے اصول دئیے ہیں ،ایڈم سمتھ نے چار عاملین پیدائش بتائے تھے لیکن کارل مارکس نے سرمایہ ،زمین اور تنظیم کا انکار کر دیا یعنی کارل مارکس کے نزدیک عاملین پیدائش ایک ہی ہے وہ ہے محنت ، ملک کے سارے وسائل ریاست پاس کے پاس ہوں گے اور لوگوں کی بنیادی ضروریات ریاست پوری کرے گی ریاست لوگوں کی صلاحیت کے مطابق کام لے گی اور ضروریات کے مطابق ان کو وسائل اور بنیادی ضروریات دے گی یہاں سرمایہ پیدا کرنے کی گنجائش کو ختم کر دیا یعنی امیر غریب کا تصور ہی ختم ہو گیا ۔ اب اسلام کے معاشی نظا م کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں شاہ ولی اللہ رح نے تقسیم دولت کے اصول بھی محنت کی بنیاد پر دئیے ہیں یعنی اسلام کے مطابق عاملین پیدائش دو ہیں محنت اور سرمایہ لیکن اسلام کے معاشی ڈھانچے میں محنت اصل ہے جبکہ سرمایہ contributing factor ہے اسلام کے معاشی ڈھانچے میں محنت کو زیادہ ملے گا اور سرمایہ کو کم ملے گا اسلام کے معاشی نظام میں محنت کش خوشحال ہو گا جبکہ سرمایہ داری نظام میں محنت کش بدحال ہے ۔ اسلام سرمایہ کا انکار نہیں کرتا جس طرح کمیونزم نے کیا ۔ اب اگر سود ختم کرنا ہے تو سرمایہ داری کے معاشی ڈھانچے کے متبادل اسلام کا معاشی ڈھانچہ کھڑا کرنا ہو گا جس کے تقسیم دولت ،تبادلہ دولت ،پیدائش دولت اور صرف دولت کے اصول سرمایہ داری کے معاشی ڈھانچے سے بالکل مختلف ہوں گے پھر جا کر ہی سودی نظام اور سود کو سوسائٹی سے ختم کیا جا سکتا ہے عام بنکوں سے بائیکاٹ کر کے اسلامی بنکاری کو فروغ دینا اسی سرمایہ داری نظام کا اک دھوکہ ہے ۔
واپس کریں