دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
حج بیت اللہ ۔چند نکات کا خلاصہ
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
حج کا اک مقصد تو اللہ کی خوشنودی تھا اور دوسری طرف حج اک world international annual conference تھی جہاں دین کے global socio-economic system کے countries اور regional heads خلیفہ وقت کو اپنے سالانہ کارکردگی پیش کرتے تھے اور نیے global development framework کو اپنے اپنے regions میں implement کرتے تھے یعنی وہاں سے اک نیا world order جاری ہوتا تھا لیکن اج حج اک رسم کے طور پر ادا کیا جاتا ہے 25 لاکھ مجمع کا دنیا کے سیاسی اور معاشی فیصلوں پر کوٸی اثر نہیں ڈال سکتا جبکہ world economic forum پر چند ممالک فیصلہ کرتے ہیں تو پوری دنیا ہل جاتی ہے ۔ اج حج کے تمام لوازمات پانی ، رہاٸش ، کھانا پینا وغیرہ ملٹی نیشنل کمپنیاں کر رہی ہوتی ہیں اربوں روپے یہاں سے کما کر مسلمان ممالک پر حملہ اور ہو تی ہیں ان کے وساٸل پر قابض ہو رہی ہوتی ہیں حالانکہ اس پیسے کو انسانی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونا چاہے ۔
میدان عرفات میں آخری نبی، نبی رحمت محمد رسول اللہﷺ نے 9 ذی الجہ ، 10 ہجری (7 مارچ 632 عیسوی) کو آخری خطبہ حج دیا تھا۔ ان میں سے چند نکات کا خلاصہ !
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔

یعنی یہاں دونوں انفرادی اور اجتماعی حقوق کی بات ہو رہی ہے اور اجتماعی حقوق کے لیے ملک میں ایسا سیاسی نظام قاٸم کرنا جہاں دوسروں کی زندگی اور عزت محفوظ ہو اور ایسا معاشی نظام قاٸم کرنا ہے جہاں قانونی اور غیر قانونی طور پر دوسروں کے مال نہ لوٹا جاۓ بلکہ ہر شہری کے مال کی حفاظت ہو بے جا ٹیکس لگا کر غریب کی جیب پر ڈاکہ نہ ڈالا جاۓ ۔
*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔

لیکن اج ہم نے اپنے اوپر سودی نظام کو مسلط رکھا ہوا ہے جو ہمارے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ اج دنیا کا بین الااقوامی نظام سامراج کا ہے ہماری مذھبی رسومات بھی وہ نظام ہی طے کرتا ہے اور مسلمان ممالک کے فیصلے بھی وہی کرتا ہے ۔ سامراجی نظام کے خلاف شعوری جدوجہد ہی اک واحد حل ہے ۔
واپس کریں