بادشاہ عادل
ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ۔ زمین پر فساد خود انسان اپنے ہاتھوں سے ہی لاتا ہے ۔ اج جتنی بھی ذلت میں ہم مبتلا ہیں اس کی بنیادی وجہ ہم نے سودی نظام capitalism کو لبیک کہا ہوا ہے ۔ جب اجتماعی معملات کا نظام ہی استحصال پر مبنی ہے تو وہ نظام اپ کو امن , خوشحالی اور ترقی کیسے دے سکتا ہے ۔
ہمارا پولیس کا نظام 1861 کا ایکٹ ہے جس میں جاگیردار کو تحفظ اور عام ادمی کو ذلیل کرنا ہے
ہمارا معاشی نظام سودی ہے جس کی وجہ سے دولت کا ارتکاز اک چھوٹے سے سرمایہ دار طبقہ میں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت غربت کا شکار ہو گٸی ۔
ہمارا سیاسی نظام میکاولی کا ہے جو جھوٹ اور تقسیم کے فلسفہ پر ہے ۔
ہمارا تعلیمی نظام لارڈ میکالے کا ہے جو طبقاتی اور dived and rule کے اصول پر قاٸم ہے ۔
ہمارا عدالتی نظام 1860 کا تعزیرات ہند ہے جہاں سو سال تک اپ کا مقدمہ چل سکتا ہے انصاف کی باقاعدہ قیمت لگتی ہے ۔
ہمارا اٸین 1835 کے انڈین ایکٹ کی copy ہے جو غلامی کی طرز فکر پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔
تو پھر بنکوں کو اسلامی کہنا , پارلیمنٹ پر کلمہ لکھنا , دوکانوں کا نام مدینہ یا مکہ سٹور رکھنا اور اپنے اپ حاجی صاحب کہلوانے سے تو لوگوں کی زندگی میں تبدیلی نہیں ا سکتی . results یا نتائج تو ان اصولوں کے اتے ہیں جن اصولوں پر ملک کا socio-economic framework ڈیزائن کیا جاتا ہے اج جس عذاب میں ہم مبتلا ہیں وہ عذاب خود ہی ہم نے استحصال پر مبنی نظام کی صورت میں اپنے اپ پر مسلط کیا ہوا ہے اور اس عذاب سے ہم خود ہی چھٹکارہ پا سکتے ہیں جب ہم اس فرسودہ نظام کو بدلنے کی کوشش کریں گے ۔
واپس کریں