دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غربت ہے نہیں! بلکہ پیدا کی جاتی ہے ۔
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
پاکستان میں تقریباً 150000 خیراتی ادارے ،NGOs اور INGOs کام کر رہی ہیں (Pakistan Centre for Philanthropy (PCP)) ورلڈ بنک کے مطابق 2۰90 ڈالر یعنی 535 روپے یا اس سے نیچے فی دن کما رہا ہے وہ غربت کی لکیر سے نیچے ہے ۔ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق 39۰9 % پاکستانی آبادی poverty line سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ایشن بنک کی رپورٹ کے مطابق 10% عام چیزوں کی قیمت بڑھنے سے 38 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے گر جاتے ہیں ۔ اگر ایک خیراتی ادارہ 1000 نفوس پر مشتمل آبادی کو غربت کی لکیر سے نکالنے کی کوشش کرے اور ساتھ ایک سال کا پلان دے تو ہر سال 15000000 لوگوں کو غربت کی لکیر نکالا جا سکتا ہے ۔اسی تقریباً 126 ہمارے ملک میں رجسٹرڈ پولیٹکل پارٹیاں ہیں اگر 5 سال کا منصوبہ بنائیں کہ 5 سال میں ہم نے 5 لاکھ لوگوں کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانا ہے تو یہ ہر پانچ سال میں 6 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو غربت کی لکیر سے اوپر لا سکتے ہیں ۔ اتنی بڑی تعداد میں خیراتی ادارے اور پولیٹکل پارٹیاں اور اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود غربت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟

اسی طرح پاکستان پر کل قرضہ 129 ارب ڈالر ہے اور پاکستان کی ریکوڈک میں 350 ارب ڈالر سے زیادہ سونا اور چاندی پڑا ہوا ہے اور یہی حالات سینڈک ہیں ۔ پاکستان میں 27 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں 185 بلین ٹن کوئلہ کے ذخائر ہیں , اسی طرح گیس کے ذخائر Gas Reserves ملین کیوبک فٹ MMcf 24 ,700,000 ہیں ۔ ابھی چین نے دریائے سندھ پر اک سروے کیا ہے کہ پاکستان ایک لاکھ میگاواٹ بجلی دریائے سندھ سے پیدا کر سکتا ہے جبکہ پاکستان ٹوٹل 24 ہزار میگاواٹ بجلی چاہیے اسی طرح سندھ میں wind corridore کی نشاندہی ہوئی ہے جہاں سے 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ پاکستان کل agriculture land بیس ملین ہیکٹر ہے جہاں صرف 8 ملین ہیکٹر پر پرانے طریقوں سے کاشت کی جاتی ہے اگر 20 ملین ہیکٹر پر جدید طریقوں سے زراعت کو پروان چڑھایا جائے تو یہ اپنے ریجن کے ممالک کی بھی خوراک پوری کر سکتا ہے ۔پاکستان کا کل رقبہ 796096 مربع کلومیٹر ہے ایک مربع کلو میڑ سے دس مرلہ کے 4000 پلاٹ بنا سکتے ہیں اگر ہر فرد کو دس مرلہ کا پلاٹ دیا جائے تو 22 کروڑ آبادی کے لیے 60 ہزار مربع کلو میٹر سے بھی کم رقبہ درکار ہو گا ۔ 7 لاکھ 35 ہزار مربع کلو میڑ پھر بھی بچ جائے گا ۔
شاہ ولی اللہ رح فرماتے ہیں غربت کی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اس کی غلط تقسیم ہے ، نوم چومسکی کہتا ہے کہ کوئی ملک بھی غریب نہیں ہوتا بلکہ وسائل کی منیجمنٹ غلط ہوتی ہے ۔ کارل مارکس کہتا کہ اگر دولت اک چھوٹے سے طبقہ میں سمٹ جائے تو دوسری طرف اکثریت غربت میں گر جائے گی ۔

اب وسائل کی صحیح تقسیم اک عادلانہ معاشی نظام کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے ملک کا معاشی نظام colonial structure کا ہے جس کوbretton woods agreement کے تحت IMF , world bank اور WTO کے ساتھ لنک کیا گیا بلکہ آج سٹیٹ بنک کو IMF کے حوالہ کر دیا اب ہمارا معاشی پلان یہ ادارے بناتے ہیں یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ بجلی کا بل کتنا رکھنا ہے اور گیس کا کتنا رکھا جائے باقی فیصلے آپ سمجھ گے ہوں گے کون کرتا ہے جو ملک اپنی گیس اور بجلی کے بل کی قیمت خود نہ رکھ سکے وہ اپنے وسائل کا فیصلہ کیسے خود کر سکتا ہے ۔ ہمارا معاشی نظام انٹرنیشنل capitalism کا طفیلیہ نظام ہے یہ نظام انگریز نے اپنی لوٹ مار کیلئے بنایا تھا جو 200 سالوں میں 45 ہزار ارب ڈالر برصغیر سے لوٹ کے گیا اور یہ لوٹ مار colonial economic structure کے زریعے اب بھی جاری ہے ۔ امیر ممالک 138 ارب ڈالر ہر سال امداد کی مد میں تیسری دنیا کو دیتے ہیں اور بدلے میں 2000 ارب ڈالر ان غریب ممالک سے لوٹ کر واپس لے جاتے ہیں یعنی ایک ڈالر کے بدلے 24 ڈالر لے کر جاتے ہیں ان کی ملٹی نیشنل کمپنیاں 100 روپے یہاں سے لوٹ کے لے کر جاتی ہیں اور 1روپے خیرات میں دے دیتی ہیں جس کا شور میڈیا پر کیا جاتا کہ اتنی امداد دی گئی لیکن لوٹ مار کو چھپایا جاتا ہے ۔

آج ہمیں capitalism کے economic machanism کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اک آزاد اور عادلانہ معاشی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو حق معشیت میں مساوات equlity in economic resources اور درجات معشیت میں تفاوت equity in social classification کے معاشی اصولوں پر ہے ۔ محنت اور سرمایہ میں توازن balance in labor and capital کا معاشی اصول اور اس کے ساتھ احتکار و اکتناز دولت concentration and hoarding کی سخت ممانعت ہو تاکہ دولت کی گردش پوری سوسائٹی ہو سکے جیسے قرآن کہتا ہے ۔ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ: «تاكه دولت تم ميں سے مال داروں هى كے درميان گردش ميں نه رهے»۔
واپس کریں