بادشاہ عادل
نظام فرد واحد کبھی تبدیل نہیں کر سکتا !!
عمران خان باتیں بالکل تھیک کر رہا ہے کہ ھم امریکہ کے غلام ہیں کیونکہ ہماری controled economy ہے جو انٹرنیشنل اداروں کے ہاتھ میں ہے جہاں آپکی معشیت آزاد نہ ہو وہاں سیاست کبھی آزاد نہیں ہو سکتی ، اسی طرح خان نے کہا کہ ہما را نظام عوام کے مسائل حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،اس سسٹم میں رہ سسٹم تبدیل نہیں کیا جا سکتا وغیرہ وغیرہ لیکن خان کو دوبارہ وزیراعظم بننے کیلئے اسی نظام کے مہروں (الیٹیبلز) کا سہارا لینا پڑے گا وہی غلامی کی طرزِ پر قائم بیوروکریسی کے زریعے نظام چلانا پڑے گا اور حلف بھی اسی سودی نظام کے تحفظ کا اٹھانا پڑے گا تو غلامی سے نکلنے کے لیے متبادل نظام اور اس نظام کو چلانے کیلئے الیکٹیبلز کے متبادل تربیت یافتہ ٹیم ہونا ضروری ہے جو خان کے پاس شاید نہیں ہے ۔
الیکشن تو اسی سودی نظام کا اک ٹول ہے اگر خان صاحب کے پاس متبادل ٹیم آ جاتی ہے تو اس نظام کے الیکشن میں آپ الیٹیبلز کے علاوہ جیت نہیں سکتے جیسا کہ خان صاحب نے خود کہا تھا کہ الیکشن جتنے کے لیے الٹیبلز ناگزير ہیں تو پھر آپ کو الیکشن کے متبادل ٹولز کی نشاندہی کرنا ہو گی یعنی آپ موجودہ نظام اور نئے نظام پر لوگوں ریفرنڈم کروا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن کے لیے بھی آپ کو جاگیرداری کے متبادل نظریہ کی ضرورت ہے وہ بھی شاید آپ کے پاس نہیں ہے ۔
اگر ایسا بھی ممکن نہیں تو آپ الیٹیبلز کی مدد سے دوبارہ وزیراعظم بن جاتے ہیں تو آپ جاگیرداری نظام کو تبدیل کرنے کی بجائے اس کو اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں یعنی لینڈ ریفارمز کے زریعے جاگیرداری نظام کو کلاسیکل سرمایہ داری میں تبدیل کر سکتے ہیں یعنی آپ ملک میں زمین رکھنے کی حد مقرر کر سکتے ہیں جسے 30ایکڑ سے زیادہ زمین کوئی نہیں رکھ سکتا اور باقی زمینیں ہاریوں میں تقسیم کر کے ان سے عشر لے سکتے ہیں مگر یہ بھی ممکن نہیں کیوں کہ نظام کے الیٹیبلز اس وقت 75%زمینوں کے مالک ہیں کیا وہ ایسا ہونے دیں گے کبھی نہیں ؟
پھر آخری حربہ یہی ہے کہ عوام کو نان ایشوز میں الجھائے رکھو ان کی بے شعوری کو کیش کرتے رہو یعنی چور پکڑے گے چور نکل گئے ، کرپشن کا خاتمہ ، اسلام کو نافذ کر رہے ہیں، امربا لمعروف ، دوسری سیاسی جماعتوں پر تنقید ،ریاست مدینہ بنا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ اور ا لیکٹیبلز کے نظام کو تحفظ دو اور اپنے پانچ سال پورے کرو اور نئے نعرے کے ساتھ نئے الیکشن کی تیاری کرو ۔
واپس کریں