بادشاہ عادل
کالونیل دور میں سب سے پہلے معاشی ڈھانچہ تبدیل کیا گیا ، زمین جو ریاست کی ملکیت ہوتی تھی اس کو ان خاندانوں میں بانٹ دیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا ساتھ دے رہے تھے 1793 کے permanent land settlement کے تحت زمینوں کی ملکیت چند خاندانوں کو دی گئی جن کو آج ہم الیکٹیبلز کہتے ہیں ان ہی الیٹبلز خاندانوں کے زریعے برصغیر میں جنگیں جیتی گیئں 1861 کے پولیس ایکٹ کے تحت ان خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا گیا اور ہر تھانے کو ان کے ماتحت رکھا گیا کہ اگر کوئی ان خاندانوں کے خلاف سر اٹھائے گا تو مقامی پولیس کے کنٹرول کیا جائے گا۔ آج بھی لوگ تھانے کچہری ،نوکریوں اور عام مسائل کے لیے ان ہی الیکٹیبلز کے محتاج ہوتے ہیں آس ملک کی بڑی سیاسی پارٹیاں/ انٹرنیشنل ادارے عوام کی بجائے ان ہی چند خاندانوں کو خرید لیتے ہیں یہی لوگ مقامی وسائل کے مالک بھی ہوتے ہیں ان ہی کی زمینوں اور ملوں میں 12 کروڑ سے زیادہ مزدور اور کسان کام کرتے ہیں ، یہی خاندان ملک کے 85% وسائل پر جاگیرداری نظام کے زریعے قابض ہیں اگر ہم ملک کے سیاسی ڈھانچے کا مطالعہ کریں تو پارلیمنٹ میں ان کی تعداد 99% ہوتی ہے حالانکہ ان کی آبادی ملک کا 1% بھی نہیں ہے آپ چاہیں الیکشن کو بائیومیٹرک کر لیں تو آخری نتیجہ ان ہی کے حق میں جائے گا کیونکہ نظام کی ڈیزائننگ ہی ایسی ہے ، سینٹ میں یہ 100% ہوتے ہیں ، ملک کی عدلیہ اور انتظامیہ میں ان ہی کی اولادیں ٹاپ پوزیشنز پر ہوتی ہیں پھر کوئی پالیسی بنتی تو وہ ان ہی چند خاندانوں کے مفادات کے گرد گھومتی ہے اگر کوئی تحریک بھی چلتی ہے وہ بھی ان ہی خاندانوں کے مفادات کے لیے ہوتی ہے ان ہی خاندانوں کے لوگ اسٹیبلشمینٹ کے لوگ ہوتے ہیں یہ نظام انگریز نے ایسا ڈیزائن کیا ہے ان خاندانوں کے لیے الگ نظام تعلیم دیا ، الگ رہن سہن اور کلچر دیا جیسے لارڈ میکالے لکھتا ہے ہم کو ایسی اقلیتی جماعت چاہیے جو عوام اور ہمارے درمیان مترجم کا کردار ادا کر سکے تو وہ جماعت ان ہی خاندانوں کی جماعت ہے ۔ 1945 میں دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا تو برطانیہ کمزور پڑ گیا امریکہ تازہ دم سامراج کے طور پر دنیا پر ابھرا ۔ دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے اک نئی strategy ڈیزائن کی جس کو آج کے دور میں نیو کالونیل ازم کہتے ہیں جہاں اب ڈائریکٹ حکومت نہیں کی جائے گی بلکہ امریکہ اب دنیا پر اپنے عالمی سرمایہ داری نظام کے زریعے حکومت کرے گا اس کے لیے اس نے انٹرنیشنل ادارے تخلیق کیے گئے WTO , IMF , GATT اور World bank وغیرہ اور دنیا کے بیشتر ممالک کے ملکی نظام کو ان کی پالیسی کے تحت کیا گیا ان ہی جاگیردار اور سرمایہ خاندانوں کے زریعے ملکی نظام کو عالمی سرمایہ نظام کا حصہ بنایا گیا اور آج تک ہمارا نظام عالمی سرمایہ داری نظام کے معاشی اور سیاسی ڈکٹیشن اور سپورٹ سے ہی چل رہا ہے ۔ برطانیہ نے یہاں سے 46 ہزار ارب ڈالر لوٹ کر لے گیا اور آج بھی انگریز کے بنائے گئے استحصالی نظام کے زریعے لوٹ مار جاری ہے اک سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق ڈھائی کروڑ ڈالرز روزانہ یہاں سے باہر بھیجے جاتے ہیں جو سالانہ لگ بھگ نو ارب ڈالر بنتے ہیں اسی طرح ملٹینیشنل کمپنیاں اربوں ڈالر ہر سال یورپ بھیجتی ہیں ، ہمارے ملک کی سینڈک ریکوڈک ، بجلی ،پانی ، کوئلہ ، گیس کے ذخائر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ہیں ۔ اسی طرح ہماری مذہبی جماعتیں جن کا کردار تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ لوگوں کو استحصالی نظام کا شعور دیں اور بدلنے کی کوشش کریں لیکن وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور آئی ایم ایف کی سودی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی غربت کو اللہ کی طرف منسوب کر کے صبر کی تلقین کر رہے ہیں اور نظام سے اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں ۔ جبکہ یہ فرسودہ سماجی ،معاشی ،سیاسی اور عدالتی ڈھانچے قائم رہیں گے ان پر وقت کے ولی کو بٹھا دیں تو نتائج وہی ہوں گے جن کیلئے ان سماجی ڈھانچوں کو تشکیل دیا گیا ۔حقیقی آزادی یہ ہے کہ ان فرسودہ سیاسی ،معاشی اور سماجی ڈھانچہ کو عدل کی فکر پر ارسرنو تشکیل دیا جائے تاکہ عالمی سرمایہ داری نظام کی غلامی آزاد ہو جائیں ۔
واپس کریں