دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
فساد فی ارض کیا ہے ؟
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآىٕفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ۔بیشک فرعون نے زمین میں تکبر کیا تھا اور اس کے لوگوں کے مختلف گروہ بنادئیے تھے ان میں ایک گروہ کو کمزورکر رکھا تھا،ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتاتھا، بیشک وہ فسادیوں میں سے تھا۔
فرعون ،ہامان اور قارون حقیقت میں شخصیات نہیں بلکہ ادارے اور سسٹم ہیں ، فرعون ملک کے political framework کی presentation ہے جس کے زریعے لوگوں کو فرقوں ،قوموں ،زبانوں اور علاقوں میں تقسیم کر کے آپس میں لڑایا جاتا ہے اور یہ لوگ قرآن کی اصطلاح میں مستضعفین کہلاتے جو کسی بھی سوسائٹی کی اکثریت یعنی مزدور ،کسان اور محنت کش طبقہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح قارون ملکی سسٹم کے economic framework کی presentation ہے یعنی قارونی فریم ورک کے زریعے ملکی وسائل پر فرعونی طبقہ قابض ہو جاتا اور مستضعفین مزدور ،کسان اور محنت کش طبقے کی کمائی پر عیاشی کرتا ہے ان پر بے جا ٹیکس لگا کر ان کو غربت میں دھکیل دیتا ہے اور کمزور بنا دیتا ہے ۔ملکی وسائل کے حقیقی مالک یہی محنت کش طبقہ ہے لیکن economic framework کے زریعے یہ چھوٹا سا فرعونی طبقہ ملک کے وسائل پر قابض رہتا اور ان کی کمائی پر عیاشی کرتا ہے پھر اسی طرح ہامان سسٹم کے educational framework کی presentation ہے اس میں دونوں educational school of thoughts آ جاتے ہیں مذہبی اور غیر مذہبی جو آج کے دور تناظر میں ہیں ، مذہبی طبقہ اس فرعونی سسٹم سے اپنے مفادات لینے کے لیے مستضعفین طبقہ کو یہ بارو کرانے کی کوشش کرتا کہ یہ دولت اور وسائل کی تقسیم حقیقت میں اللہ کی تقسیم ہے تم اس پر صبر کرو گے تو اللہ آپ کو جنت دے گا لیکن اپنے لیے فرعونی نظام سے وزارتیں اور ڈگریاں لے رہے ہوتے ہیں اور دوسرا کام اس مذہبی طبقے کا یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو فرقوں میں تقسیم کر کے آپس میں لڑا رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح دوسرا گروہ جو غیر مذھبی ہے اس نے طبقاتی تعلیم دے رہے ہوتے ہیں وہ اشرافیہ کے بچوں کو تو سسٹم چلانے کے skills دے رہے ہوتے ہیں لیکن مزدور ،کسان اور محنت کش طبقہ سے کلرک پیدا کر رہے ہوتے ہیں جو فرعونی سسٹم کے پرزوں کے طور پر کام کرتے ہیں یعنی وہ educational framework کی بنیاد پر مذہبی اور غیر مذہبی لٹریچر کے زریعے انسانی شعور کا قتل کر رہے ہوتے ہیں فرعون بھی لڑکوں کو اس لیے ذبح کرتا تھا کہ وہ اس کے فرعونی سسٹم کا شعور حاصل کر کے اس کے سسٹم کو شکت نہ دے دیں آج ہمارا تعلیمی نظام یہ کام کر رہا ہے
جس اکبر آلہ آبادی نے کہا ہے کہ
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
اک اور جگہ قرآن کہتا ہے
اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠(فرعون کے پاس جاؤ، بیشک وہ سرکش ہوگیا ہے۔
۔قرآن نے اس سارے phenomenon کو فساد فی ارض کہا ہے ۔ ہر دور میں انبیاء اور سچے دین کی جدوجہد اسی فساد فی ارض کے خلاف رہی ہے ۔
واپس کریں