دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بین الاقوامی معاشی بندوبست
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
پہلی اور دوسری جنگ عظیم اصل میں دنیا کی منڈیوں پر یورپین ممالک کے درمیان قبضہ کی جنگ تھی اور جب دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو جیتنے والے ممالک کے درمیان برٹن ووڈ معاہدہ طے پایا ۔ جس طرح اینٹوں کا پھٹہ جہاں bonded labor ہوتی ہے وہ اس labor سمیت اک ٹھیکیدار سے دوسرے ٹھیکیدار پر بیچا جاتا ہے بالکل اسی طرح بر طانیہ سے امریکہ نے برصغیر خرید لیا اور اس کی شرط تھی کہ برصغیر اس کو متحد نہیں بلکہ تقسیم چاہیے اور یہاں تقسیم کی تحریکیں چلا کر مسلم ہندو کو آپس میں لڑایا گیا اور امریکہ کی اسحلہ کی کمپنی لاگ ہیڈ مارٹن کی اسحلہ کی سیل کو دگنا کیا گیا یہاں کی labor یعنی عوام کی کمائی کو یورپ اور امریکہ شفٹ کر نے کا اک نیا mechanism ڈیزائن کیا گیا جس کو brettonwoods agreement کہتے ہیں ا سی طرح عرب ممالک کی منڈیوں کی بھی آپس میں تقسیم کی گئی اس بریٹن ووڈ معاہدے میں کچھ انٹرنیشنل ادارے تشکیل پائے IMF , World bank , GATT , WTO وغیرہ جن کے زریعے تیسری دنیا کے ممالک کا معاشی اور سیاسی بندوبست کو کنٹرول کرنا اور وہاں کی عوام یعنی labor کی کمائی کو یورپ اور امریکہ شفٹ کرنا تھا اس مقصد کے لیے برطانیہ کے کالونیل دور کے قائم کردہ کالونیل معاشی ،سیاسی اور عدالتی ڈھانچے پہلے سے وہاں موجود تھے اور برطانیہ کی بنائی گئی بیوروکریسی اور الیکٹیبلز فیوڈل لارڈز مقامی ٹھیکیدار کے طور پر پہلے سے کام کر رہے تھے اب ان کا کنٹرول انٹرنیشنل اداروں کے ہاتھ میں دیا گیا جس کو neo-colonialism کہتے ہیں۔

اب اسی نیو کالونیل mechanism کے زریعے غریب عوام کی محنت کی کمائی کو یورپ منتقل کیا جاتا ہے انور یاسین گورنر سٹیٹ بنک کی اک رپورٹ کے مطابق ہر روز ڈھائی کروڑ ڈالر پاکستان سے یورپین ممالک میں منتقل کیے جاتے ہیں جو سالانہ 9ارب ڈالر بنتے ہیں ، آئی ایم ایف سود کی مد میں ہر سال 4 ہزار سے پانچ ہزار ارب یورپ اور امریکہ لے جاتا ہے ، ملٹی نیشنل کمپنیاں سالانہ اربوں ڈالر منافع یہاں سے امریکہ شفٹ کر دیتی ہیں ۔اسی طرح انٹرنیشنل اداروں کی مقامی ٹھیکیدار سیاسی، مذہبی اور بیوروکریٹ صرف 28 فیملیز پاکستان کا پانچ دفعہ قرضہ ادا کر سکتی ہیں ۔ لیکن پاکستان پھر بھی ڈیفالٹ ہو رہا ہے پاکستان کا ڈیفالٹ ہونا صرف غریب عوام کے لیے ہے جو bonded labor کی طرح نیشنل اور انٹرنیشنل سرمایہ دار کی دولت میں اضافہ کے لیے کام کر رہی ہے ۔ آج ہمیں ضرورت اس امر کی ہے ہم انٹرنیشنل سودی نظام کی چالوں کو سمجھیں اور متبادل نظام کے لیے جدوجہد کریں ۔
واپس کریں