دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نوآبادیاتی ذہنیت
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
انگریز جب برصغیر چھوڑ کر یورپ واپس جاتا تو وہاں اسے نوکری نہیں دی جاتی تھی وجہ یہ کہ colonial socio-economic structure میں غلاموں کو deal کرنے سے ایسے attitudes نشونما پاتے تھے جو یورپ کے socio-economic structure میں misfit تھے اج ہماری بیوروکریسی اسے colonial socio-economic structure پر کھڑی ہے ۔اج بھی غریب لوگوں کو افیسز میں دو دو مہینہ تک فاٸل میں الجھایا جاتا ہے ۔ اج بھی عدالتوں میں 50 یا 100 سال تک کیسسز چلتے ہیں بلکہ 36 لاکھ کیسسں عدالتوں میں بقایا ا رہے ہیں ۔اج بھی پروموشن چاپوسی یا پولیٹیکل بییاد پر ہوتی ہے , اج بھی پیسے والے بندے کو بڑا ادمی سمجھا جاتا ہے ۔ اج بھی yes sir کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوتے ہیں , اج بھی شخصیت پرستی کا مرض ہم میں کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے ، اج بھی ہم انگریزی بولنے والے کو پڑھا لکھا سمھجتے ہیں ۔اج بھی ہم یورپ کے انگریز کو زہین سمجھتے ہُیں اور خود inferiority complex کا شکار ہیں۔ اج بھی شخصیت پرستی کے مرض س باہر نکلنے نہیں پا رہے , اج بھی مکار کو ذہین اور امانت دار کو بیوقوف سمجھا جاتا ہے ۔ اج بھی ہمارا تعلیمی نظام ایک فیصد administers اور نونانوے فیصد کلرک پیدا کر رہا ہے ۔ اج بھی محنت کرنے والے کو کمی کمین اور ان کی محنت پر پلنے والے کو عزت دار سمجھا جاتا ہے ۔اج بھی وہی دو سو خاندان ہم پر حاکم ہیں۔ اج بھی مذھب کو فرقہ واریت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اج بھی وہی ایک فیصد طبقہ ملک کے پچاسی فیصد وسائل کا مالک ہے اور فرسودہ مذھب colonial تقسیم کو اللہ کی تقسیم کہہ رہا ہے ۔

اج بھی خان ,سید , ملک , زردای , لغاری ، مزاری کو برہمن طبقہ سمجھا جاتا ہے اور باقی اچھوت اور کمی کمین کہلاتے ہیں۔ جس socio-economic structure میں خود انگریز جو اقا کے طور پر یہاں نوکری کر رہے تھے ان کو یورپ میں نوکری نہیں دی کیونکہ ان کے attitudes اقا اور غلام کے بن گیے تھے اور ہم نے اس colonial socio-economic structure کو 75 سالوں سے گلے لگایا ہوا ہے جس کے نتائج وہی غلامی والے attitudes نشونما پا رہے ہیں ۔ چین ہم سے دو سال بعد ازاد ہوا اس نے colonial socio-economicstructure کو جڑوں سے اکھاڑ پیھنک دیا اور اک نیا socio-economic structure کھڑا کیا حالانکہ ادھی ابادی سے زیادہ لوگ افیوم کے عادی تھے ۔ اج دنیا کی سپر پاور ہے اج ہماری بدحالی ، غلامی اور فرقہ واریت کا زمہ دار یہی colonial structure ہے جو colonial mind set ہی پیدا کر رہا ہے ۔
واپس کریں