بادشاہ عادل
نظام اک کمپنی کی طرح ہوتا ہے جیسے کمپنی cause and effect کے فارمولے کے تحت design ہوتی ہے وہ وہی impact دیتی ہے جس کے لیے وہ design کی گٸی ہے جیسے فارموسیوٹیکل کمپنی کا مقصد ادویات بیچ کے پیسہ بنانا ہے تو اس کی ساری strategies اور plans ادویات بیچنے کے گرد گھومتی ہیں اور اس کا CEO جو بھی اۓ گا وہ ادویات ہی بیچے گا اگر وہ اٹا بیچنے کے لیے مہم چلاۓ تو اسے دوسرے دن فارغ کر دیا جاۓ گا ۔ بالکل اسی طرح ملک کا نظام بھی cause and effect کے اصول پر ہوتا ہے وہ وہی result دیتا ہے جس کے لیے اس کی designing ہے۔ ہمارے ملک کا موجودہ نظام ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی لوٹ مار کے لیے ڈیزائن کیا تھا جہاں وہ اس نظام کے زریعے سے 45 ہزار ارب ڈالر لوٹ کے گیا اج بھی وہ اسی نظام کے زریعے سے 58 کروڑ ڈالر روزانہ منی لانڈرنگ کے زریعہ سے یورپ بیجا جاتا ہے جو سالانہ 9 ارب ڈالر بنتے ہیں , 6000 ارب سالانہ IMF لے جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر ملٹی نیشنل کمپنیاں لوٹ کے لے جاتی ہیں یہ حصہ گلوبل سرمایہ دار کا ہے ۔ مقامی ٹھیکیدار جو گلوبل سرمایہ دار کی پالیسیاں کی implementation کرتا ہے وہ اپنی سالانہ مراعات UNDP کے مطابق 17.5 ارب ڈالر لیتا ہے اور گلوبل سرمایہ دار کی تمام پالیسیاں اور پلان یہاں implement کرتا ہے ۔ اب موجود نظام میں جو بھی وزیر اعظم اۓ چاہے وہ اس کمپنی یعنی نظام کا CEO ہو گا وہ اسلامی جماعتوں سے کوٸی بڑا مولانا , پیر , مفتی یا سیکولر جماعتوں سے بڑا دانشور , کرکٹ یا ہاکی کا کھیلاڑی یا کوٸی مشہور گانے بجانے والا ہی کیوں نہ ہو اس نے سرمایہ داروں کی لوٹ مار کے لیے ہی کام کرنا ہے اور گلوبل سرمایہ دار کی پالیسیاں ہی implement کرنی ہیں ۔ 1947 سے لے کر اب تک جو بھی حکمران ایا ہے اس نے یہی کام کیا ہے جیسے ہی وہ لوٹ مار کی وجہ سے defame ہوتا ہے تو اسے نظام سے باہر پھینک دیا جاتا ہے اور عوام کے سامنے اک اور لالی پاپ رکھا جاتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ حالیہ عمران خان کی مثال ا پکے سامنے ہے ۔ لوٹ مار کے نظام کو بدلے بغیر تبدیلی اک سیراب ہی رہے گی اور اسے بدلنے کے لیے وہی اجتماعیت متبادل نظریہ پر درکار ہو گی جو اجتماعیت موجودہ نظام کو چلا رہی ہے نظام کو تبدیل کرنا کسی ایک فرد کا کام نہیں ہو سکتا ۔
واپس کریں