دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی سرمایہ دار کا نیا حربہ اسلامی بنکاری !!!
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق صرف 8 لوگ دنیا کی آبادی کے 3۔6 ارب لوگوں سے زیادہ دولت رکھتے ہیں اور تقریباً 300 کے قریب کھرب پتی افراد دنیا کے 90% دولت کے مالک ہیں دوسری طرف 3 ارب آبادی سے زیادہ لوگ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے قرآن تو کہتا ہے هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا جو بھی زمین کے وسائل سب انسانوں کے لیے ہیں ان اک چھوٹے سے طبقہ کا قبضہ اک جرم ہے اک دوسری جگہ قرآن فرماتا ہے مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ جو کچھ بھی زمین سے پیدا ہوتا ہے وہ سب انسانوں کا ہے پھر اس اک طبقہ قبضہ کر کے اکثریت کو بھوکا رکھے جو اک برا فعل ہے ۔

بین الاقوامی سرمایہ دار طبقہ نے عالمی سرمایہ داری نظام کے زریعے دنیا کے دو سو ممالک کو قرضوں میں جھکڑ رکھا ہے امریکہ کا ریزرو بنک بھی ان ہی سرمایہ داروں کے قبضہ میں ہے اور خود امریکی عوام پر 30 ٹریلین ڈالر قرضہ چڑھا چکے ہیں ، آئی ایم ایف ،ورلڈ بنک ،WTO ،پنٹاگان وغیرہ ان ہی کے قائم کردہ ادارے ہیں جو دنیا کو کنٹرول کر رہے ہیں ۔دنیا کی بڑی ملٹی نیشنل خوراک ،ادویات ،اسلحہ ،پانی ،تیل ،گیس ،بجلی وغیرہ کی ان ہی عالمی سرمایہ دار کمپنیاں پوری دنیا کے وسائل پر قابض ہیں اس پوری دنیا پر ان سرمایہ داروں کا تقریباً 305 ٹریلین ڈالر قرضہ ہے اور دنیا کا کل جی ڈی پی 113 ٹریلین ڈالر ہے یہی خوراک کمپنیاں اپنی گندم سمندر برد کر دیتی ہیں لیکن غریب ممالک کو نہیں دیتی اس لیے کہ زیادہ خوراک ہو نے کی وجہ سے اس کی demand کم نہ ہو جائے جس سے ان کا منافع کم ہو جائے گا ۔

امریکہ میں کوئی بھی صدر ان کی منظوری کے بغیر نہیں آ سکتا کیونکہ صدر کا آخری الیکشن الیکٹورل کالج کرتا ہے جس کے 538 ممبران ہوتے ہیں ان کو زیادہ یہی کمپنیاں خرید لیتی ہیں اور جب امریکہ کا صدر بن جاتا ہے تو یہ کمپنیاں اپنے کاروبار کو نیو ورلڈ آرڈر کے زریعے implementation کرتی ہیں ۔ پہلے ان سرمایہ داروں نے ڈالر جہاد افغانستان میں lunch کیا اور آزاد ممالک کے وسائل پر قابض ہوئے افغانستان ،عراق ،یمن ،لیبیا سوڈان اس کی تازہ مثالیں ہیں جن کے تیل کے وسائل پر قابض ہیں ۔آج یہی سرمایہ دار اسلامی بنکنگ کے نام سے مسلمانوں کو بیوقوف بنا رہا ہے اربوں روپے منافع اسلامی بنکاری سے کمایا جا رہا ہے اس سال 8۰23 ارب منافع کمایا جو 142% بنتا ہے سودی نظام کو اسلامی بنا کر پیش کرنا عالمی سودی نظام کا فریب ہے جس نے پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ ہمارا سٹیٹ بنک عمران خان کی حکومت میں آئی ایم۔ایف کے حوالے کیا گیا ہماری حکومت بھی ان ہی عالمی سرمایہ داروں کے معاشی اور سیاسی مفادات کے تحت ہی تشکیل پاتی ہے ۔ ہمارے ملک کا سرمایہ دار اور جاگیردار ان ہی انٹرنیشنل سرمایہ داروں کا ایجنٹ ہے جو ان کے سرمایہ داری نظام کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے ۔ سامراج دنیا کے امیر ممالک کے سرمایہ دار طبقہ کو کہا جاتا جو نہ صرف اپنی عوام کو لوٹتا ہے بلکہ غریب ممالک کے وسائل پر قابض ہو جاتا ہے۔

قرآن نے اس طبقہ اور ان کے بنائے گئے سسٹم کو طاغوت کہا ہے ۔فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی اور جس نے طاغوت کا انکار یعنی طاغوت اور اس کے قائم کردہ نظام کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا ۔ ہمارا نظام عالمی سرمایہ داروں کے نظام کا طفیلی نظام ہے جس کی حفاظت کے عالمی سرمایہ داروں نے مقامی سرمایہ دار اور جاگیردار کو اپنا ایجنٹ بنایا ہے جو 75 سالوں سے عالمی سرمایہ دار کے لوٹ مار کے نظام کی حفاظت کر رہا ہے ۔ آج پاکستان پر 50 ہزار ارب روپے قرضہ چڑھا چکا ہے ۔آج ہمیں نظام کا شعور حاصل کرنا ہو گا اسی میں ہماری نجات ہے ۔
واپس کریں