دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آزادی مارچ :کالم نگار،بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
کیا ہم آزادی مارچ کے بعد الیکشن کروا کر جیت جاتے ہیں تو ھم اپنے ملک سے غلامی کا معاشی ،سیاسی اور تعلیمی نظام کو تبدیل کر پائیں گے ؟کیا ہم آئندہ IMF کی dictation نہیں لیں گے ؟ کیا ہم سٹیٹ بنک کو IMF سے آزاد کروا دیں گے ؟ کیا ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ملک کے وسائل کو چھڑا لیں گے ؟

کیا ہم ملک کے 5% جاگیرداروں سے جو ملک کی 73% زمینوں کے مالک ہیں سے زمینیں چھڑا کر کسانوں میں تقسیم کر پائیں گے اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ کر دیں گے اور ملک کے 60% غذائی قلت کے شکار کسانوں کو زمینوں سے آزاد کروا دیں گے ۔

کیا ہم 1860 کے تعزیرات ہند کے عدالتی نظام سے چھٹکارا حاصل کر سکیں گے ؟ کیا ہم ملک میں قائم برطانیہ کے سودی نظام کو ختم کر دیں گے ؟ اگر نہیں تو پھر آپ آزادی کے نام پر جاگیردار طبقے کے مفادات کیلئے استعمال ہو رہے ہیں جو 74 سالوں سے آپ کو مختلف نعروں پر اپنے مفادات کے استعمال کر رہا ہے اگر ہاں تو پھر آپ کے پاس سودی نظام کے متبادل معاشی نظام کیا ہے ؟ IMF سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں گے لائحہ عمل کیا ہو گا ؟

1860 کے تعزیرات ہند کے عدالتی نظام کے متبادل کیا ہے ؟ کس نظریہ کے تحت نظام کی تبدیلی عمل میں لائی جائے گی اور لارڈ میکالے کے طبقاتی تعلیمی نظام کے متبادل تعلیمی نظام کیا ہو گا ؟

یہ ساری باتیں اک سیاسی ورکرز کو معلوم ہونی چاہیے سیاسی ورکرز نے اپنی جماعت سے ان باتوں پر تربیت لی ہوئی ہونی چاہیے اگر سیاسی ورکرز کو ان باتوں کے متعلق کچھ معلوم نہیں اس کی جماعت نے اس کی تربیت نہیں کی تو وہ اک سیاسی اندھا ہے اور وہ اس بیل کی طرح ہے جس کو اک ماہر بندہ سرخ چادر لہرا کر اپنی مرضی سے گراؤنڈ میں نچا رہا ہوتا ہے اور تماشائیوں سے داد وصول کر رہا ہوتا ہے ۔ سیاسی ورکرز کیلئے نظریات اور نظاموں پر تربیت اشد ضرورت ہے ۔
واپس کریں