دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کھیل مفادات کا ہے ۔
بادشاہ عادل
بادشاہ عادل
ساری سیاسی اور مذہبی پارٹیاں برطانوی سامراج کے ڈیزائن کردہ socio-economic colonial structure کی key stakeholders ہیں ۔ ان کا جھگڑا ملک کے سالانہ تقریباً کم و بیش 9000 ارب بجٹ میں سے اپنا حصہ لینے پر ہوتا ہے جس میں سے تقریباً 2000 ارب سیکورٹی ، 1000 ارب سول بیوروکریسی اور 4500 ارب آئی ایم ایف کے ہوتے ہیں ، چند سو ارب عوام کیلئے اور تقریباً 500 ارب کے لیے ان کے درمیان نورا کشتی ہوتی ہے ۔ اقتدار میں آنے والی پارٹی اور دیگر چھوٹی پارٹیوں کے درمیان فنڈز اور وزارتوں کی بندر بانٹ ہوتی ہے اور ان آپس کی نورا کشتی بھی اقتدار کے لیے ہوتی ہے ۔ یہ اپنے معاشی مفادات دیکھ کر پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں یا اپنی چھوٹی مذہبی یا سیاسی پارٹیوں کو کسی ایک یا دوسری بڑی پارٹی کے ساتھ اتحاد کر دیتے ہیں ۔ یہ اپنے اپنے چورن یعنی نعرے جسے شریعت کا نفاذ ، اسلامی بنکنگ ،اسلامی نظام ، روٹی کپڑا مکان ، انقلاب وغیرہ ہر دور میں نئی پیکنگ کے ساتھ عوام میں مارکیٹ کر رہے ہوتے ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہوتا یعنی اقتدار اور معاشی مفادات ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں قائم نظام یعنی socio-economic colonial structure بنیادی طور پر عالمی سرمایہ داری نظام کا sub- structure ہے جو عالمی سرمایہ داری نظام کے بنائے گے عالمی اداروں کی معاشی معاونت سے چلتا ہے جس کا return وہ عالمی ادارے 50% سے زیادہ منافع کے ساتھ واپس لے جاتے ہیں ۔ ان سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کا کام عالمی ادروں کے economic and political plan کی implementation ہوتی ہے جس کی اسلامی نعروں کے ساتھ contextulization اور localization کی جاتی ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ جس کے under ہماری نیشنل اسٹبلشمنٹ کام کرتی ہے وہ ان ہی سیاسی اور مذھبی پارٹی کو اقتدار میں لاتی ہے جو اس کام میں مہارت رکھتی ہو ۔ یہ مذہبی اور سیاسی پارٹیاں کبھی بھی colonial structure کو چیلنج نہیں کرتی کیونکہ ان کے معاشی مفادات اسی socio-economic colonial structure سے جڑے ہوتے ہیں اور الیکشن کا مقصد نظام تبدیل کرنا نہیں ہوتا بلکہ جو غم غصہ اور غبار عوام میں نظام کے معاشی استحصال کی وجہ سے پیدا ہوتا اس کو پریشر ککر کی طرح عوام کو الیکشن اور پارٹیوں میں تقسیم کر کے اور آپس میں لڑا کر نکال دیا جاتا ہے اس طرح استحصالی نظام کو تحفظ بھی مل جاتا اور اس کی عمر میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری رح نے فرمایا تھا کہ جب بھی عالمی سامراج کو ان سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کی ضرورت ہوتی ہے یا کالونیل نظام کو کوئی خطرہ ہوتا ہے تو یہ سب سیاسی اور مذہبی پارٹیاں ایک ہو جاتی ہیں ۔
واپس کریں