طاہر سواتی
عمران نیازی کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ جاتی ہے کہ یہ مقبول ہے ، یہ واقعی لائق ، ایماندار اور سچا ہے اس لئے عوام کی بڑی تعداد اسے پسند کرتی ہے۔لیکن اب وقت نے ثابت کردیا ہے کہ مقبولیت کا معقولیت کیساتھ کوئی تعلق نہیں ۔
دنیا میں ہزاروں معقول انسان گمنامی میں فنا ہوجاتے ہیں لیکن ٹرمپ جیسا نامعقول مقبولیت کی چوٹیاں سر کرتے ہوئے امریکہ جیسے ملک کا صدر منتخب ہوجاتا ہے اور اس قسم کے نامعقول کو اقتدار حوالے کرنا بندر کے ہاتھ میں ماچس دینے کے مترادف ہے۔
اس بات کا اندازہ تو اب پوری دنیا اور خود امریکی عوام کو ہورہا ہے۔
امریکہُ کی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں حالیہ افغان جنگ سب سے مہنگا ایڈونچر رہا ہے۔ اس بیس سالہ جنگ میں امریکہ نے پہلے افغانستان کو ملیامیٹ کیا اور پھر اس کی از سر نو تعمیر کی ، کوئی ۸۰ فیصد نئی سڑکیں اور انفراسٹرکچر امریکہ کا بنایا ہوا ہے ۔
افغان حکومت کے سالانہ ۱۲ ارب ڈالرز کے اخراجات امریکہ اٹھاتا رہا ، اور تو اور اس جنگ کے سہارے ہمارے مہربانوں کے دال روٹی بھی چلتی رہی۔ ہمیں کوئی ۳۵ ارب ڈالرز کولیشن فنڈ کی مد میں ملے۔
ان سب کے باوجود افغان جنگ کا بیس سالہ تخمینہ کوئی ۲ ٹرلین ڈالرز ( ۲ ہزار ارب ) بنتا ہے ۔
جبکہ دوسری جانب ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکیُ اسٹاک مارکیٹ میں ۹ ٹریلین ڈالرز ( نو ہزار ارب ) ڈوب چکے ہیں ،
یعنی ٹرمپ امریکہ کو بیس سالہ جنگ سے پانچ گنا ذیادہ نقصان صر ف ڈھائی ماہ میں پہنچا چکا ہے۔ جبکہ نعرہ ہے کہ میں نیا امریکہ بنواؤں گا ، جیسے ہمارے والا پرانے پاکستان کا بیڑہ غرق کرکے نیا پاکستان بنا رہا تھا۔
ٹرمپ سے جب اسٹاک مارکیٹ کی تباہی کا سوال ہوا تو کہتا ہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا ، نالائق بائڈن نے اسے مصنوعی طور پر اوپر چڑھایا ہوا تھا ۔
حالانکہ دو درجن سے زائد نوبل انعام یافتہ ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ کی ٹیرف ٹیرف والا کھیل گلے پڑ سکتا ہے ۔ لیکن ٹرمپی کلٹ کو ماہرین سے زیادہ اپنے بونگے لیڈر کی بات پر یقین ہے ۔
ہمارے والا بندر بھی کرنسی، جی ڈی پی ، اسٹاک مارکیٹ سمیت ہر معاشی فیکٹر کو یہی کہہ کر تباہ کرتا رہا کہ ان سب کی قیمت مصنوعی ہے، اور آج بھی ہر یوتھئیے کو یقین ہے کہ وہ پاکستان کو معاشی بلندیوں پر لیکر جا رہا تھا ۔
جب تک اس دنیا میں زومبیز کلٹ موجود ہے ٹرمپ اور نیازی جیسے چول مقبول رہیں گے ۔ اور عقل والے ماتم کرتے رہیں گے ۔
واپس کریں