طاہر سواتی
میں جہاں رہتا ہوں وہاں کی زیادہ تر ایشین آبادی انڈین گجراتی مسلمانوں کی ہے۔ پکے دیوبندی اور تبلیغی زیادہ تر مساجد پر ان ہی کا قبضہ ہے ۔ایک بار فیملی کے ساتھ اوبر میں سفر کررہاتھا جس کا ڈرائیور گجراتی تبلیغی تھا۔ پہلے تو اللہ اور اس کی رسول ص کی باتیں کرنے لگا پھر نوسر باز کی مدحہ سرائی شروع کی ۔اس کی وہ وہ خوبیاں گنوانے لگا جس سے پاکستانی یوتھیے بھی لاعلم تھے ۔
میں نے گزارش کی کہ حضرت میں اسی صوبے کا باشندہ ہوں جہاں اس کی حکومت ہے وہاں کی کارکردگی کے بارے میں مجھے ذیادہ معلومات ہوسکتی ہیں یا آپ کو جو زندگی بھر کبھی پاکستان ہی نہیں گئے ۔
جواب میں طارق جمیل والی گردان شروع کی کہ چلیں کارکردگی کو چھوڑیں صدیوں کے بعد امت مسلمہ میں ایک ایسا لیڈر تو پیدا ہوا جو ریاست مدینہ کی بات تو کرتا ہے۔
میں نے سوچا اس سوچے یوتھیے سے بحث لاحاصل ہے خاموش رہا ۔
لیکن اس وائرس والوں کو آرام کہاں ۔
پھر شروع ہو گیا کہ دیکھیں اگر وہ اچھا اور سچا لیڈر نہ ہوتا تو اتنی عوام کبھی پیچھے نہ ہوتی ۔حکومت اس کی مقبولیت سے خائف ہے اس لئے تو اسے جیل میں ڈالا ہے۔
میں نے پوچھا کیا کسی کی مقبولیت اس کی حقانیت کی دلیل ہے ؟
بڑے جوش سے کہنے لگا ہاں بالکل لوگ چور ڈاکوؤں کو تو سپورٹ نہیں کرتے ۔
عرض کیاکہ
“اس کا مطلب ہے کہ مودی حق پر ہے جو اسے کروڑوں لوگ پسند کرتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں “
ناک چڑھا کر بولا ۔
“ اس کھوتی کے بچے کی کارکردگی تو کچھ بھی نہیں ۔ صرف مذہبی کارڈ استعمال کرکے ہندوؤں کے ووٹ حاصل کرلیتا ہے”
گزارش کی ۔
” اگر مودی مذہبی کارڈ کھیل کر ووٹ حاصل کرے تو کھوتی کا بچہ جبکہ عمران سیاست کے لئے ریاست مدینہ کا چورن بیچے تو امت مسلمہ کا لیڈر “
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
واپس کریں