خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں صحافیوں کو کام کرنے کے دوران جان لیوا خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ برسوں سے میڈیا کے پیشہ ور افراد تشدد، دھمکیوں اور سنسرشپ کی زد میں ہیں۔ نشانہ بنا کر قتل کرنے سے لے کر جبری گمشدگیوں تک، سچ بولنے کی قیمت کئی صحافی اپنی جان دے کر چکا چکے ہیں۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے دوہرے خطرات نے پاکستان کو آزاد صحافت کے لیے ایک خوفناک میدان جنگ بنا دیا ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں، خاص طور پر آئی ایس آئی، طویل عرصے سے اغوا، جبری گمشدگیوں اور اختلافِ رائے رکھنے والی آوازوں کو دبانے کے الزامات کا سامنا کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، طالبان اور مختلف دہشت گرد گروہ بھی صحافیوں کو اپنے نظریاتی دشمن سمجھ کر بے رحمی سے قتل کرتے رہے ہیں۔ ریاستی جبر اور دہشت گردی کے اس خوفناک امتزاج نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں سچ بولنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں قتل، اغوا اور تشدد کا نشانہ بننے والے صحافیوں کی فہرست طویل اور المناک ہے۔ سلیم شہزاد جیسے نام، جو 2011 میں عسکریت پسند گروہوں اور فوج کے اندر موجود عناصر کے روابط بے نقاب کرنے کے بعد سفاکی سے قتل کر دیے گئے، آج بھی آزاد صحافت کے لیے خطرے کی علامت ہیں۔ ان کی مسخ شدہ لاش ایک نہر سے برآمد ہوئی، جس پر شدید تشدد کے نشانات موجود تھے، جیسے دوسروں کو متنبہ کیا جا رہا ہو کہ وہ سچ کی راہ پر چلنے کی ہمت نہ کریں۔ پاکستان کے معروف صحافی حامد میر پر 2014 میں قاتلانہ حملہ ہوا جب انہوں نے بار بار اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت پر آواز بلند کی۔ وہ گولیوں سے چھلنی ہو کر بھی زندہ بچ گئے، لیکن اس حملے نے واضح کر دیا کہ یہاں کوئی بھی صحافی محفوظ نہیں۔ کچھ دیگر صحافی اتنے خوش قسمت نہ رہے۔ ارشد شریف، جو اسٹیبلشمنٹ کے سخت ناقد تھے، جلاوطنی پر مجبور کر دیے گئے اور بالآخر کینیا میں پراسرار حالات میں قتل کر دیے گئے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ریاستی ہدف بندی کے خدشات نے جنم لیا۔
صحافیوں کے قتل کے علاوہ، جبری گمشدگیاں بھی اختلاف رائے دبانے کا مؤثر ہتھیار بن چکی ہیں۔ متعدد صحافیوں کو نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا کیا گیا، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ صحافی کئی دن، مہینے یا سالوں تک لاپتہ رہے، بعض واپس آئے اور کچھ کبھی نہ لوٹے۔ صحافیوں پر یہ خوف مستقل طور پر طاری ہے کہ کسی بھی لمحے وہ اٹھا لیے جائیں گے، جس کی وجہ سے وہ خود پر سنسرشپ لگانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ وہ صحافی جو کسی طرح واپس آتے ہیں، ان کے بیانات لرزہ خیز ہوتے ہیں، جن میں تشدد، قید تنہائی اور ذہنی اذیت کے ناقابلِ بیان واقعات شامل ہیں۔
دہشت گرد گروہ بھی صحافیوں کی آواز دبانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ قبائلی علاقوں اور شورش زدہ خطوں میں، رپورٹرز کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، کیونکہ وہ شدت پسندوں کے نظریات کی پیروی نہیں کر رہے تھے۔ طالبان نے صحافیوں کو کھلے عام قتل کیا، ان کے دفاتر کو بم دھماکوں سے اڑا دیا، اور متعدد بار ان کے خلاف موت کے فتوے جاری کیے۔ سوات سے تعلق رکھنے والے بہادر صحافی موسیٰ خان خیل کو 2009 میں طالبان کے خلاف رپورٹنگ کرنے کے بعد گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ان کے قاتل آج تک آزاد گھوم رہے ہیں، جیسے کہ دیگر بے شمار قتل شدہ صحافیوں کے قاتل، کیونکہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کو سزائیں دینے کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔
پاکستان میں صحافیوں کے لیے مجموعی سیکیورٹی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہیں نگرانی، قانونی دھمکیوں اور جسمانی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ کرپشن، ریاستی جبر یا دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لکھتے ہیں، وہ طاقتور دشمنوں کی ہٹ لسٹ پر آ جاتے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، انہیں زبردستی بند کیا جا رہا ہے، اشتہارات پر پابندی عائد کی جا رہی ہے اور مالی مشکلات میں دھکیلا جا رہا ہے تاکہ وہ حکومتی لائن پر چلیں۔ بہت سے صحافی، جب اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں خطرے میں دیکھتے ہیں، تو ملک چھوڑنے یا صحافت ہی ترک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جاری جنگ صرف انفرادی جانوں کے زیاں کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ آزادیٔ صحافت اور اختلاف رائے کے حق کے منظم خاتمے کی علامت ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں سچائی کا قتلِ عام ہو، وہاں جمہوریت کی سانسیں گھٹنا ناگزیر ہو جاتی ہیں۔
واپس کریں