دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
افغانستان پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشات اور خطے کی تباہی
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خطے میں سیکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، اور بعض باخبر حلقے افغانستان پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشے کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع حکمت عملی، ان کے قریبی مشیروں کے جارحانہ بیانات، اور افغانستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی ایک نئی جنگ کے امکانات کو تقویت دے رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حالیہ اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ سخت گیر پالیسیوں کے حامی ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو پالیسی تبدیلیاں تجویز کیں، ان میں سے کئی پر عملی طور پر کام کر چکے ہیں۔ روس-یوکرین جنگ میں امریکہ کے کردار کو محدود کرنا، نیٹو اتحادیوں سے یہ تقاضا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات خود برداشت کریں، اور یو ایس ایڈ جیسے ترقیاتی اداروں کی امداد میں کٹوتی جیسے اقدامات ان کے وسیع تر ایجنڈے کا عملی حصہ ہیں۔ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے انہی پر خرچ کرنا، داخلی سیکیورٹی کو فوقیت دینا اور تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا، ٹرمپ انتظامیہ کے پالیسی میں چیدہ چیدہ نکات کے طور پر شامل ہیں۔
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد، صدر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے آغاز پر طالبان کو واضح طور پر متنبہ کیا کہ انخلا کے دوران چھوڑے گئے جدید امریکی ہتھیار اور فوجی سازوسامان فوری طور پر امریکہ کو واپس کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے طالبان حکومت کے لیے مختص 47 ملین ڈالر کی ماہانہ امداد روکنے کی دھمکی بھی دی۔ اسی دوران، انہوں نے باگرام ایئر بیس کی حوالگی کا بھی مطالبہ کیا، جسے طالبان نے مسترد کر دیا۔ طالبان نے اس کے برعکس امریکہ سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کیا جائے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے سخت گیر رویے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وائس آف امریکہ اور اس سے منسلک کئی دیگر امریکی نشریاتی ادارے اچانک بند کر دیے گئے، جو امریکی خارجہ پالیسی کے ایک اہم آلے کے طور پر کام کرتے تھے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کی اس پالیسی کا حصہ تھا جس کے تحت وہ عالمی امور میں امریکی مداخلت کو محدود کر کے داخلی معاملات پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے تھے۔
دوسری جانب، طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں، جن میں کابل گروپ اور قندھاری گروپ کے درمیان کشیدگی سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ کابل میں موجود طالبان قیادت، جس میں سابق وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا دھڑا بھی شامل تھا، نسبتاً زیادہ عملی اور سفارتی طریقہ کار پر یقین رکھتی تھی، جبکہ قندھاری گروپ، جس کی قیادت ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کر رہے ہیں، سخت گیر پالیسیوں کا حامی ہے۔ یہی اختلافات سراج الدین حقانی کے مستعفی ہونے کا سبب بنے، جسے طالبان کے اندرونی بحران کی ایک بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
افغانستان میں القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہ دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق، افغانستان میں تقریباً 21 شدت پسند گروہ سرگرم ہیں، جن میں تحریکِ طالبان پاکستان، القاعدہ، اور داعش خراسان شامل ہیں۔ القاعدہ کی قیادت کی ہلاکت کے بعد اس تنظیم نے ایک نئے نام حرکت انقلاب اسلامی پاکستان سے 50 ہزار تربیت یافتہ جنگجوؤں کے ساتھ خود کو منظم کیا ہے اور حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے پاکستان کو کھلی دھمکیاں دی ہیں۔ اس نئی تنظیم نے افغانستان کو اپنی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو اپنا اولین ہدف قرار دیا ہے۔
امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹس اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ اگر افغانستان میں شدت پسندی کا دائرہ مزید بڑھتا ہے، تو امریکہ کسی نہ کسی سطح پر مداخلت کر سکتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر اور حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروہوں کا افغانستان میں ٹھکانے ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر دیوبندی اور حقانی فکر سے وابستہ علماء کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں گزشتہ دو ہفتوں میں کم از کم 16 علماء کو ٹارگٹ کلنگ میں قتل کیا جا چکا ہے۔
طالبان حکومت کے اندر اختلافات کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی، جس پر طالبان کے سخت گیر دھڑے کو شدید اعتراض تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے استعفے کے بعد طالبان کے رویے میں پاکستان کے خلاف زیادہ شدت آ گئی ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دراندازی اور حملے تیز ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
اگرچہ بعض حلقے افغانستان پر فوری امریکی حملے کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ فی الحال عسکری کارروائی کے بجائے اقتصادی اور سفارتی دباؤ پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ امریکہ نے افغانستان کے سات بلین ڈالر سے زائد منجمد اثاثے بحال نہیں کیے، جو طالبان حکومت کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، طالبان حکومت کو اب تک کسی بھی بڑے ملک نے سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا، اور اس میں امریکہ کا کردار بھی نمایاں ہے۔ عسکری مداخلت کے بجائے امریکہ محدود پیمانے پر خفیہ آپریشنز اور ڈرون حملے جاری رکھ سکتا ہے، جیسا کہ کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے واقعے میں دیکھا گیا تھا۔
اگر امریکہ افغانستان میں کسی قسم کی فوجی کارروائی کرتا ہے، تو اس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ افغانستان کی سرزمین پر عسکری کارروائی کی صورت میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں مزید بڑھ سکتی ہیں، جو پہلے ہی سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ اگرچہ فوری طور پر افغانستان پر امریکی حملے کے امکانات مکمل طور پر خارج از امکان نہیں ہیں، مگر امریکہ کی موجودہ حکمتِ عملی معاشی اور سفارتی دباؤ پر مرکوز نظر آتی ہے۔ تاہم، اگر افغانستان میں شدت پسندی میں مزید اضافہ ہوا، تو امریکہ کی حکمتِ عملی بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لیے خطے کے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط کریں اور افغانستان میں استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ ممکنہ خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔
واپس کریں