دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مفتی منیر شاکر: خلوت، جلوت اور رخلت
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
پشاور کے مضافاتی علاقے ارمڑ میں مسجد کے احاطے میں بم دھماکے کے نتیجے میں معروف عالم دین مفتی منیر شاکر شہید ہوئے جبکہ دھماکے کے نتیجے میں خوشحال، عابد اور سید نبی زخمی ہوئے۔ دھماکے کے بعد مفتی منیر شاکر اور تین دیگر مجروحین کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق مفتی منیر شاکر کی بائیں ٹانگ زخمی ہوئی تھی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی تھی۔تاہم ہسپتال سے جاری ہونے والی تصاویر میں صاف پتہ چلتا تھا کہ مفتی منیر شاکر کی حالت گھمبیر ہے۔ تھوڑے وقفے کے بعد ایل آر ایچ کے ترجمان نے ان کی موت کی تصدیق کی جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئے بحث کو جنم دیا۔ سازشی تھیوری کے تحت سوشل میڈیا کے غیر سنجیدہ صارفین ہسپتال میں مفتی منیر شاکر کی موت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
معروف، مقبول اور باغی پشتون عالم دین مفتی منیر شاکر پر دہشت گرد حملے اور اسکے نتیجے میں ان کی شہادت نے خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کو نئے حساسیت اور خطرناک دور میں داخل کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا گزشتہ چالیس سال میں دہشت گردی کے مختلف مراحل اور ادوار سے گزری ہے۔ افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب اور روس کے افغانستان میں داخلے کے ساتھ سابق گورنر صوبہ سرحد اور عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ راہنما ارباب سکندر خان خلیل کو شہید کر دیا گیا تھا۔ارباب سکندر کے قتل کی دعوی داری جماعت اسلامی کے ایک فعال کارکن طایر پر ہوئی تھی۔ارباب سکندر خان کی شہادت کے ساتھ پشتون قوم پرست راہنماوں کے قتال کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جسے تحریک طالبان پاکستان نے عروج تک پہنچایا۔محتاط اندازے کے مطابق تقریبا 1500 پشتون سیاسی راہنما جن کا تعلق اے این پی سے تھا شہید کیئے چاچکے ہیں۔ سابقہ قبائلی علاقہ جات میں بھی ہزاروں کی تعداد میں قبائلی راہنماوں کو بےدردی کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔ ان ہلاکتوں، خود کش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات پر جید علمائے دین خاموش رہیں۔ مولانا حسن جان وہ پہلے عالم دین تھے جنہوں نے خود کش حملوں کو حرام قرار دیا تھا اور شہید کر دیئے گئے۔ معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر محمد فاروق بھی مردان میں اسی انجام سے دوچار کر دیئے گئے۔ کئی روشن فکر علماء جن میں حاوید احمد غامدی بھی شامل تھے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیئے گئے۔تاہم علمائے کرام قتال سے بچے رہے۔ حال ہی میں جید علمائے کرام کے قتال کا سلسلہ ملک کے طول و عرض میں شروع ہوچکا ہے جس میں خیبر پختونخوا سرفہرست ہے۔ دارالعوام حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سربراہ مولانا حامد الحق کی شہادت کے علاوہ، مولانا فضل الرحمن کے ساتھ وابستہ علمائے دین اور ان کے جماعت کے عہدیدار ساتھیوں کا چن چن کر شہید کرنے کی لہر چل پڑی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کوئی نادیدہ قوت علمائے دین کو ہٹاتے ہوئے کوئی ایسا خلا پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جسے یا تو داعش کی طرح سخت گیر ٹولہ پر کرے اور یا مدارس اور علما کو پشتون قوم پرستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ افغانستان میں اگر چہ بظاہر طالبان اور داعش ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں مگر تازہ ترین امریکی رپورٹس اور دیگر شہادتوں کی رو سے طالبان اور داعش ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دوسری جانب حقانی نیٹ ورک اور قندھاری طالبان کے درمیان اختلافات بھی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں اور ان حالات میں خیبر پختونخوا میں علمائے کرام کو ٹارگٹ کرنا کئی حساس سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مفتی منیر شاکر کی بہیمانہ قتل نے حالات کو مزید سنگین بنایا ہے۔ مفتی منیر شاکر نے اہنی شہادت سے چند روز قبل انکو درپیش سیکیورٹی خطرات پر ویڈیو پیغام میں مفصل بات کی تھی۔مفتی منیر شاکر کے مطابق انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اور صوبائی حکومت نے بھی انہیں درپیش خطرات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔اپنے ویڈیو پیغام میں مفتی منیر شاکر نے نہ صرف تفصیل کے ساتھ ان خطرات کا ذکر کیا تھا بلکہ انہوں نے محکمہ پولیس ، سی ٹی ڈی اور ضلعی انتظامیہ پشاور کے اہلکاروں کے نام تک بتائے تھے جنہوں نے درخواست کے باوجود بھی انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بغیر سیکیورٹی کے اور انہیں غیر مسلح کرکے گویا انکے ہاتھ پاوں باندھ کر انہیں دہشت گردوں کے سامنے پھینکا گیا ہے۔ مفتی منیر شاکر کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے نے ایک ویڈیو پیغام میں تب تک اہنے والد کو دفنانے سے انکار کیا ہے جب تک ان سرکاری اہلکاروں سے جواب طلبی نہیں کی جاتی جنہوں نے مفتی منیر شاکر کو سیکیورٹی فراہم نہ کرتے ہوئے دیشت گردوں کی سہولت کاری کی تھی۔انکے صاحبزادے نے وزیر اعلی امین گنڈاپور کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور آرمی چیف سے بھی متعدد تقاضے کیئے۔ویڈیو پیغام میں انہوں نے تمام علما کے متحد ہونے پر زور دیا اور پشتون نسل کشی کی راہ میں ڈٹ کر کھڑے ہونے کی تلقین کی۔انہوں نے مفتی منیر شاکر کے چاہنے والوں کو بھی زور دے کر احتجاج میں شرکت کی تلقین کی۔
مفتی منیر شاکر کی زبدگی نشیب و فراز، تضادات اور ہمگامہ خیزی کی زد میں رہی۔ان کی عوامی شناخت اس وقت مستحکم ہو گئی جب انہوں نے خیبر ایجنسی کے باڑہ تحصیل میں اسلام کی ترویج کے کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کا سہارہ لیکر خیبر ایجنسی میں مذہبی جنونیت کی بنیاد رکھی۔ باڑہ میں مذہبی اختلافات کی وجہ سے وہ خونریز لڑائیوں کی راہ پر چل پڑے جسکے نتیجے میں انہیں خیبر ایجنسی چھوڑنی پڑی۔ خیبر ایجنسی سے انکی بےدخلی کے ساتھ ہی منگل باغ خیبر ایجنسی کے سفید و سیاہ کے مختار کل بن گئے جنہوں نے بربریت کی نئی مثالیں قائم کیں۔منگل باغ کے دور میں وادی پشاور کی امن بھی دگر گوں رہی۔ مفتی منیر شاکر خیبر ایجنسی کو چھوڑنے کے بعد طویل عرصے تک پنجاب میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے رہے اور پھر اچانک نئے انداز میں نمودار ہو کر پشاور کے مضافات ارمڑ نامی گاوں میں اپنا ڈیرہ جما دیا۔ مفتی منیر شاکر کو خیبر ایجنسی کے قیام کے دوران عام طور پر خفیہ ایجنسیوں کا کارندہ سمجھا جاتا تھا اور وہ خالص عربی برانڈ اسلام کے علمبردار اور مسلح مبلغ تھے۔ یہ امر خصوصی دلچسپی کی حامل ہے کہ دوبارہ منظر عام پر آنے کے بعد بڑے مختصر وقت میں انہوں نے ایک پشتون قوم پرست عالم دین کا مقام حاصل کیا۔ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ پشتونوں میں علما کی بہتات ہے مگر علما میں واحد پشتون مفتی منیر شاکر ہے۔مفتی منیر شاکر نے جدید سوشل میڈیا کا پرمغز استعمال کرتے ہوئے مختصر وقت میں بہت بڑا حلقہ اثر بنایا۔انہوں نے روائتی علما کو چیلینج کرتے ہوئے اسلام کی ایک، نئی، جدید، سائنسی اور مدلل تصویر قرآن و حدیٹ کی روشنی میں پیش کی جسے نے پشتون نوجوانوں کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ سیاسیات اور اخلاقیات کے علاوہ انہوں نے صدیوں سے رائج اسلامی عبادات کو بھی چیلینج کیا اور اپنی بات عمدگی کے ساتھ عوام الناس کے ذہنوں میں بھٹائی۔ مفتی منیر شاکر ایک بے باک، دلیر اور پر اثر عالم دین اور ایک روائتی پشتون تھے جن سے ہر ایک متاثر ہوتا تھا۔اپنی دوسری سیاسی اور مذہبی جنم میں وہ ریاستی پالیسیوں اور سیکیورٹی بیانیئے کے سخت نقاد رہے اور پشتون قوم پرست سیاسی جماعتوں سے بڑھ کر پشتون وطن کے امن اور پشتون قتال پر انتہائی سخت موقف اختیار کیا تھا۔ وہ اپنی تقاریر اور خطبات میں انتہائی غیر محتاظ رویہ اپنائے ہوئے تھے اور ان کا بےباک بیانیہ عموما خطرے کے نشان سے بہت اوپر چلا جاتا تھا۔مفتی منیر شاکر کی شہادت کے بعد جہاں پشتون علما کے قتال کا سلسلہ آگے مزید تیزی کے ساتھ بڑھنے کے خدشات موجود ہیں وہاں علما اتحاد خیبر پختونخوا کے سیاسی اور سیکیورٹی منظر نامے کو بھی مکمل طور پر تبدیل کرنے کی نزاکتیں اپنے اندر لیئے ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں شدت، بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی جہتیں، اور ملک کے دیگر حصوں میں پرتشویش حالات اور افغانستان سے بڑھتی ہوئی در اندازی حالات کو حساس بنا رہی ہے۔
مفتی منیر شاکر جن کا اصل نام محمد شاکر تھا ، مولوی رحمت اللہ کے ہاں 1969 میں ضلع کرک میں پیدا ہوئے تھے۔ مگر بعض لوگوں کے مطابق وہ کرم ایجنسی کے گاوں مخی زئی کے باشندے تھے اور وہی پر انکی ولادت ہوئی تھی۔ انکے والد ایک سرکاری سکول میں اسلامیات کے مدرس تھے اور مفتی منیر شاکر نے اسی سکول سے جو انکے گاوں مخہ زئی میں قائم تھی دسویں جماعت پاس کی۔ انکے والد اس گاوں کے پیش امام مسجد بھی تھے۔
مفتی منیر شاکر ضلع ہنگو کربوغہ شریف میں بھی درس وتدریس سے وابستہ رہے جو اپنے قریبی عزیز کربوغہ شریف کے معروف عالم دین مولانا سید مختار الدین شاہ کے ہاں قیام ہزیر رہے۔ مفتی منیر شاکر نامعلوم وجوہات کی بنا پر کرم سے ہجرت کرکے خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں سکونت اختیار کر گئے۔ مفتی منیر شاکر نے 2004 میں ایک مذہبی اور عسکریت پسند تنظیم لشکر اسلام کی بنیاد رکھی ۔ مفتی منیر شاکر بنیادی طور پر دیوبندی مسلک کے ،پنج پیری شاخ کی ننائندگی کرتے تھے اور پنج پیری جماعت،"اشاعت توحید" کے عہدیدار بھی رہے تھے۔ بعدازاں تقریبا 7 سال کی رفاقت کے بعد انہوں نے اشاعت توحید سے بعض اختلافات کے بنا پر اپنی راہیں الگ کیں۔ باڑہ میں قیام کے دوران انکے افغانستان سے آئے ہوئے اور باڑہ میں مقیم عالم دین پیر سیف الرحمن بن قاری سرفراز کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے جو مسلح تصادم پر منتج ہوئے۔ تقریبا 6 ماہ کے خونریز لڑائیوں نے خیبر ایجنسی کے امن کو تہہ و بالا کردیا اور قومی جرگے نے دوبوں مذہبی راہنماوں مفتی منیر شاکر اور پیر شیف الرحمن کو ایجنسی بدر کیا۔
خیبر ایجنسی سے ان دونوں کے انخلا کے بعد لشکر اسلام کی امارت پر منگل باغ نے قبضہ کر لیا۔ لشکر اسلام پر حکومت نے پھر 2008 میں پابندی لگا دی۔
مفتی منیر شاکر کے والد کے مطابق اسے اس وقت خفیہ ایجنسیوں نے کراچی ائرپورٹ سے دو سال کے لیئے غائب کیا جب باڑہ ایجنسی بدری کے بعد وہ باہر منتقل ہو رہے تھے۔ تاہم بعض دیگر ذرائع کے مطابق مفتی منیر شاکر کو خفیہ ایجنسیوں نے لاپتہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ پنجاب میں پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔
مفتی منیر شاکر نے دہشت گردی کے حوالے سے وہی موقف اختیار کیا ہوا تھا جو انتہا پسند پشتون قوم پرستوں کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔بسا اوقات وہ ریاستی اداروں، بیانیہ اور سیکیورٹی فورسز پر بھی لعن طعن کرتے تھے اور ان کا موقف بجائے عالمانہ کے عامیانہ ہو جاتا تھا۔
ضلع خیبر میں پشتون تحفظ موومنٹ کے منعقدہ پشتون امن جرگہ 2024 میں مفتی منیر شاکر نے بڑے دبنگ انداز میں شرکت کی تھی اور بڑا سخت موقف اختیار کیا ہوا تھا۔
دہشت گرد کاروائی میں انکی شہادت اور ماضی قریب میں انکے مذہبی اور سیاسی بیانیئے نے حالات کے حساسیت میں اضافہ کر دیا ہے اور آنے والے حالات مزید خونخوار لگ رہے ہیں۔
واپس کریں