خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے بھیانک سائے میں ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ حملوں کی شدت اور دائرہ کار اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ سیکیورٹی فورسز، علمائے کرام، سیاسی و سماجی شخصیات، تعلیمی ادارے اور عام شہری، سبھی نشانے پر ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سنگین صورتحال پر حکومت کی بے حسی اور سیاسی قیادت کی خاموشی خوفناک حد تک واضح ہے۔
دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، اور اس کا سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا میں نظر آ رہا ہے، جہاں حکمران جماعت اور اس کے حامی ریاستی اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ قومی سلامتی کے حساس ترین معاملات کو سیاست کی نذر کر دیا گیا ہے، اور صوبائی حکومت کا طرز عمل مجرمانہ غفلت کی حد تک غیر سنجیدہ ہے۔ پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنا، سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے بجائے ملکی اداروں کو نشانہ بنانا، اور ریاست کی رِٹ چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی سے گریز کرنا، یہ سب ایسے اقدامات ہیں جو ایک خطرناک منظرنامے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد دہشت گرد گروہوں کو نئی طاقت ملی ہے۔ پاکستان میں حملوں میں ملوث عناصر کی سرحد پار پناہ گاہیں موجود ہیں، اور ریاست کی طرف سے اس پر محض بیانات کے سوا کچھ نہیں کیا جا رہا۔ عسکری ادارے اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں، مگر سول حکومتوں کی کمزوری اور نااہلی اس جنگ کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں، جب تک ان قوتوں کے مالی وسائل، نظریاتی جڑیں اور اندرونی سہولت کاروں کا قلع قمع نہیں کیا جاتا، یہ جنگ محض ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنی رہے گی۔
بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے خلاف ایک منظم حکمت عملی واضح ہے۔ خطے میں امریکی مفادات، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، اور نئی جغرافیائی صف بندیوں کے پس منظر میں پاکستان کو ایک کمزور اور غیر مستحکم ریاست بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایسے میں قومی یکجہتی اور داخلی استحکام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر افسوس کہ ہماری سیاست انتقام، خود غرضی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں میں الجھی ہوئی ہے۔
اس صورت حال کا واحد حل سخت، واضح اور دوٹوک اقدامات ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف بیانیہ مضبوط کرنا ہوگا۔ ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر پر سختی سے قابو پانا ہوگا۔ قومی سلامتی کو سیاست سے الگ رکھنا ہوگا۔ افغان طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات پر نظرثانی کرنی ہوگی، اور جو قوتیں دہشت گردوں کو پناہ دے رہی ہیں، انہیں واضح پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان مزید کسی صورت یہ برداشت نہیں کرے گا۔ عوام کو بھی حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ شدت پسند بیانیے کے اثر سے بچ سکیں۔
پاکستان پہلے ہی ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ اگر اب بھی ہم نے ریاست کو کمزور کرنے والے عناصر کو کھلی چھوٹ دی، تو شاید تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک جماعت، ادارے یا حکومت کی نہیں، بلکہ یہ پوری قوم کی بقا اور سالمیت کا سوال ہے۔ اس جنگ میں تاخیر کا مطلب شکست ہے، اور پاکستان کسی نئی شکست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
واپس کریں