عصمت اللہ نیازی
گذشتہ دنوں کافی عرصہ کے بعد ڈپٹی کمشنر میانوالی کے دفتر جانا ہوا۔ وقت تقریباً ایک بجے دن کا تھا حسب روایت گاڑی ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے چھاؤں میں پارک کی اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو دروازے کے اندر سے لگا تالا ہماری طرح منہ لٹکائے کھڑا تھا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ میانوالی کے ڈپٹی کمشنر دفتر کی چار دیواری کے چار دروازے ہیں لیکن عوام کے لیے صرف ایک دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ باقی دروازے سیکیورٹی کے نام پر تالے لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔ اب ان صاحبان سے کوئی پوچھے کہ بھائی! یہ دفتر ہے یا کوئی قلعہ؟ لگتا ہے کہ اندر کوئی نادر خزانہ دفن ہے جسے بچانے کے لیے یہ انتظامات کیے گئے ہیں حالانکہ خزانہ تو باہر کھڑی عوام کے صبر کا ہے، جو روزانہ لٹتا جا رہا ہے۔ ویسے بھی پاکستان میں عوام کے لیے دروازے بند کرنا کوئی نئی بات نہیں، پہلے ہی انصاف کا دروازہ بند، ترقی کا دروازہ زنگ آلود اور امن کا دروازہ گمشدہ ہے۔ اب بچا تھا بیچارے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کا دروازہ تو وہ بھی بند کر دیا گیا۔ گویا عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے بیوروکریسی کا پہلا اصول یہی رہ گیا ہے کہ عوام کو دروازے کے باہر ہی روکا جائے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سرکاری دفاتر میں "کام" کم اور "کارروائی" زیادہ ہوتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب جو عہدہ کے اعتبار سے تو عوام کے خدمت گار ہونے کے ذمہ دار ہیں لیکن انگریز نے عوام پر اپنی حکومت بزور بازو قائم رکھنے کیلئے انہیں صاحب بہادر بنایا تھا ابھی تک اُسی نشے سے نہیں نکلے۔ کیونکہ خود ایک مضبوط قلعہ میں بیٹھ کر عوام کو باہر تڑپتا دیکھ رہے ہیں۔ دفتر کے اندر سب کچھ آرام دہ، باہر دھوپ، گرمی، اور انتظار کا طوفان۔ عوام پہلے صبح سے شام تک اپنے کام ہونے کی امید لگائے کم از کم بیٹھ تو جاتی تھی لیکن اب تو دیہاتی غریب دروازوں پر ہی پھرتے رہیں کہ داخل کہاں سے ہونا ہے؟ لائن میں لگے ہوتے ہیں، کچھ شام تک فارغ ہوتے ہیں اور کچھ اگلے دن آنے کا ارادہ کر کے واپسی کا راستہ ناپتے ہیں۔ یہ لگتا تو ایسے ہے کہ لوگ پہلے کاموں کے لیے سرکاری دفاتر میں جایا کرتے تھے لیکن اب وہ اپنی قسمت کے دروازے کھلوانے کے لیے کسی جادوگر کی تلاش میں ہیں۔ کچھ عقل مند حضرات کہتے ہیں کہ یہ سب سیکیورٹی کے لیے کیا گیا ہے اب بھلا ڈپٹی کمشنر کو عوام سے خطرہ ہے یا عوام کو ڈپٹی کمشنر سے؟ عوام تو ویسے ہی زخم خوردہ ہیں وہ کیا کریں گے؟ زیادہ سے زیادہ اپنے مسائل لے کر آئیں گے اور یہی وہ جرم ہے جس کی سزا یہ "دروازہ بند پالیسی" ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر عوام کے لئے ایک دروازہ کیوں؟ سب دروازے کھول دیے جائیں تاکہ عوام کو کم از کم یہ یقین تو ہو کہ سرکار ان کے لئے دروازے بند نہیں کرتی ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام بھی اپنے دلوں کے دروازے بند کر لیں اور سرکاری دفاتر میں جانے کے بجائے مسائل حل کرنے کیلئے خودساختہ طریقے اپنانا شروع کر دیں۔ لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ جب عوام کے لئے ہر طرف سے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو وہ دیوار پھلانگنے پر مجبور ہو جاتی ہے!
واپس کریں