عصمت اللہ نیازی
کسی دانا نے کہا تھا "وقت کی قدر وہی جانتا ہے جو اسے کھو چکا ہو۔" یہ آسان سے ہر کسی کو سمجھ آنے والے فقرے کے باوجود زندگی کے اس تیز بہاؤ میں وقت کو قابو میں رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنے دن، ہفتے اور مہینے کو سمجھداری سے ترتیب دیتے ہیں۔ اسی حکمت کو ایک مؤثر اصول میں ڈھالنے والے سابق امریکی صدر اور جنرل ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور تھے جن کے نام سے منسوب "آئزن ہاور میٹرکس" آج بھی وقت کے بہترین استعمال کا ایک آزمودہ نسخہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ میٹرکس ہمیں چار زمروں میں وقت تقسیم کرنا سکھاتا ہے جن میں پہلا "اہم اور فوری کام"، دوسرا "اہم مگر غیر فوری کام"، تیسرا "غیر اہم مگر فوری کام", جبکہ چوتھا "نہ اہم نہ فوری کام" شامل ہیں۔ ان میٹرکس کو سمجھنے کیلئے میں یہاں کھیتی باڑی میں وقت کی حکمت کے ذریعے آپ کو مثال دے کر سمجھاتا ہوں کیونکہ ہم جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں وہاں کئی نسلوں سے کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں۔ فرض کریں آپ کے سامنے ایک کھیت ہے جس میں کئی قسم کی فصلیں لگی ہوئی ہیں جن میں سے سرسوں کی فصل پک چکی ہے، گندم تقریباً آدھی تیار ہے، چنے کے بیج کچھ دن قبل بونے کی وجہ سے ابھی زمین کے اندر ہی ہیں جبکہ زمین کے کچھ خالی حصہ پر صرف گھاس پھوس اُگی ہوئی ہے۔ اب یہاں آپ نے تمام موجودہ ماحول کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ کون سا کام پہلے کرنا ہے اور کونسا بعد میں۔ اور ان کاموں کی ایک ترتیب بنا لینی ہے۔ جیسے سب سے پہلے آپ نے سرسوں کی پکی ہوئی فصل کو کاٹنا ہے کیونکہ اگر آپ نے پکی ہوئی فصل کو وقت پر نہ کاٹا تو وہ ضائع ہو جائے گی، یہ وہی اہم اور فوری کام ہیں جو "آئزک ہاور میٹرکس" میں پہلے نمبر پر ہے۔ ان جیسے کاموں میں امتحان کی تیاری، بیمار جانور کی دیکھ بھال یا دفتر کی اہم ڈیڈ لائنز شامل ہیں جو اگر وقت پر نہ کیے جائیں تو نقصان یقینی ہے اسی لئے آپ نے یہ پہلی فرصت میں کرنے ہیں ۔ اب آتے ہیں دوسری قسم کی طرف کہ کھیت میں گندم کی طرف جس کو آپ نے آنے والے دنوں میں پانی اور کھاد وغیرہ دینی ہے لیکن ان کاموں کو آج آپ نظر انداز بھی کر دیں تو کوئی بڑا نقصان نہیں ہو گا کیونکہ ان کیلئے آپ کے پاس ابھی کچھ دن میسر ہیں لیکن اگر آپ نے گندم کی فصل کو لمبے عرصہ تک نظر انداز کیا تو گندم کی یہ فصل تباہ ہو جائے گی۔ لہٰذا آئزک ہاور اصول کے تحت یہ کام اہم ضرور ہے مگر غیر فوری کام ہیں، جیسے صحت کا خیال رکھنا، مہارتیں سیکھنا یا منصوبہ بندی کرنا۔ ان کاموں پر وقت دینا لمبے عرصے میں آپ کے فائدے میں ہوتا ہے۔ اسی طرح تیسری قسم کے کام وہ ہیں جو بظاہر بہت ضروری لگتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی مثال کے طور پر آپ کھیت میں کام کر رہے ہیں اور اچانک کوئی دوست آ جائے اور آپ سے باتوں میں لگ جائے یا کوئی ایسا معاملہ آپ کے وقت کو کھا جائے جس کا کوئی بڑا فائدہ نہ ہو یہ اس اصول کے تحت غیر اہم مگر فوری کام ہیں ان میں بے جا میٹنگز، غیر ضروری فون کالز یا سوشل میڈیا پر زیادہ وقت کا ضیاع، جیسے ہمارا ایک دوست دس دس گھنٹے موبائل پر ڈرامے دیکھتا رہتا ہے۔ اگر آپ ایسے کاموں میں الجھ جائیں تو اصل ضروری کاموں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ آخری اور چوتھا اصول جس کی مثال کھیت میں بے مقصد اگنے والی گھاس پھوس ہے۔ یہ نہ اہم اور نہ ہی فوری کام ہیں، جیسے موبائل پر گھنٹوں ویڈیوز دیکھنا، فضول گپ شپ کرنا یا وقت ضائع کرنے والی عادات میں پڑ جانا وغیرہ جس طرح آجکل پوری نوجوان نسل ٹک ٹاک اور دوسری سوشل میڈیا ایپس پر لگی ہوئی ہے، اگر آپ ان کاموں کو اپنی زندگی سے نکال دیں جو آپ کی زندگی میں فضول وقت ضائع کر رہے ہیں تو آپ کی کارکردگی کئی گنا بہتر ہو سکتی ہے۔
غور کریں تو ہماری زندگی میں وقت کی اہمیت بالکل کھیت کی مانند ہے۔ اگر ہم نے اسے دانشمندی سے نہ برتا تو فصل خراب ہو جائے گی اور اگر عقل مندی سے ہر کام اس کے وقت پر کیا تو کبھی نقصان نہیں ہو گا۔ جب امتحان قریب ہو، تو سب سے پہلے اہم اور فوری کاموں پر توجہ دیں۔ جب وقت میسر ہو، تو اہم مگر غیر فوری کاموں میں وقت خرچ کریں۔ غیر ضروری کاموں سے بچنے کی کوشش کریں اور فضول سرگرمیوں کو ترک کر دیں۔ اسی لئے بزرگ کہتے ہیں "جو وقت کو ضائع کرتا ہے، وقت اسے ضائع کر دیتا ہے۔"
آئزن ہاور میٹرکس ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے کاموں کو ترجیحات میں کیسے تقسیم کریں، آپ خود بھی اس میٹرکس پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور خاص کر اپنے بچوں اور نئی نسل کو اس اصول پر عمل کرنے کی تلقین کریں۔
واپس کریں