دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ام حسان کی گرفتاری: ماضی کی بازگشت یا شدت پسندی کے خلاف فیصلہ کن اقدام؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
ام حسان کی گرفتاری نے ایک بار پھر پاکستان میں شدت پسندی، ریاستی پالیسیوں اور مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ گرفتاری نہ صرف ماضی کے تلخ واقعات کی یاد دلاتی ہے بلکہ اس کے ممکنہ اثرات پر بھی ایک گہری بحث چھڑ چکی ہے۔ لال مسجد سے وابستہ اس اہم شخصیت کو اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا، جس کے بعد شدت پسند عناصر کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک پہلے ہی دہشت گردی کے خطرے سے دوچار ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
2007 میں لال مسجد کے خلاف کیے گئے فوجی آپریشن نے پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ اس آپریشن کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے اپنی کارروائیاں تیز کر دیں اور ملک بھر میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر دیکھی گئی۔ عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے بعد ام حسان اور ان کے شوہر مولانا عبدالعزیز کا کردار مزید نمایاں ہو گیا۔ اس دوران ریاست نے کبھی سختی تو کبھی نرمی کی پالیسی اپنائی، جس کے باعث لال مسجد کا بیانیہ ہمیشہ زندہ رہا۔ اب جبکہ ام حسان کو گرفتار کیا گیا ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ اقدام ایک مضبوط ریاستی پالیسی کا حصہ ہے یا ماضی کی طرح یہ بھی محض ایک عارضی حکمت عملی ثابت ہوگا؟
ام حسان کی گرفتاری کے بعد شدت پسند عناصر کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق، لال مسجد سے وابستہ گروہوں نے حکومت کو دھمکی آمیز بیانات دیے ہیں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس ردعمل کو سنجیدہ لیا جائے یا ریاست اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے؟ ماضی میں ایسے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گرد گروہ مزید فعال ہوئے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں بھی اسی قسم کے خدشات موجود ہیں۔
ریاست کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف ایک مربوط پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ام حسان کی گرفتاری محض ایک وقتی اقدام ہے اور شدت پسندوں کے دباؤ میں ریاست کوئی کمزوری دکھاتی ہے، تو اس کا نتیجہ مزید انتشار کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر حکومت مستقل بنیادوں پر ایک جامع حکمت عملی کے تحت شدت پسندی کے خلاف کارروائی کو جاری رکھتی ہے، تو یہ ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں جہاں سیکیورٹی چیلنجز مسلسل بڑھ رہے ہیں، وہاں ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ام حسان کی گرفتاری کے بعد جو بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں دہشت گرد گروہ اسی طرح کے اقدامات کو جواز بنا کر اپنی کارروائیاں تیز کرتے رہے ہیں۔ اگر ریاست ایک مضبوط موقف اپناتی ہے اور شدت پسندی کے خلاف مستقل مزاجی سے کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو یہ ایک مضبوط پیغام ہوگا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی انتہا پسندی کو برداشت نہیں کرے گا۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد کی گرفتاری کا نہیں، بلکہ ریاست اور انتہا پسند بیانیے کے درمیان ایک نئی کشمکش کا آغاز ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو اس معاملے میں دانشمندی اور دور اندیشی سے کام لینا ہوگا تاکہ پاکستان کو ایک اور دہشت گردی کی لہر سے بچایا جا سکے۔
واپس کریں