خالد خان۔ کالم نگار
ریاست اور حکومت دو الگ الگ تشخص ہوتے ہیں۔ ریاست بعض مستقل اور عمیق اصولوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہے جسے بڑے دماغ عبادت کی طرح ریاضت کرتے ہیں۔ اصول مستحکم اور مسلسل ہوتے ہیں جن کے نفاذ میں وقت اور حالات کے مطابق تبدیلیاں کی جاتی ہیں مگر اپنے روح میں جامد و ساکت ہوتے ہیں۔ ریاستی حکام ایک اعلی آزمائشی معیار سے گزرتے ہوئے ایک مخصوص طریقہ کار کے مطابق مناصب پر متمکن ہوتے ہیں۔ حکومت انتخابی یا مشاورتی عمل کے نتیجے میں روزمرہ کے امور کی انجام دہی کے لیے وجود میں آنے والا ایک مخصوص گروہ ہوتا ہے جن کے امورِ سلطنت بارے اپنے افکار، خیالات، نظریات اور سیاسی بنیادیں ہوتی ہیں۔
ریاست اور حکومت متوازی چلنے والی دو قوتیں ہوتی ہیں، جن میں ریاست ہمیشہ بالا دست اور حکومت زیر نگیں ہوتی ہے۔ حکومت کوئی بھی نقصان اٹھا سکتی ہے مگر ریاست ایک ہلکی شکن کی بھی متحمل نہیں ہوسکتی۔ کئی لحاظ سے اگرچہ دونوں قوتیں متضاد ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں دونوں ایک روح دو اجسام ہوتی ہیں۔ کسی بھی ایک کا نقصان دوسری کی بربادی بھی ہوتی ہے۔ حکومت چھوٹی کشتی کی مانند ہوتی ہے جو اٹھتی ہوئی لہروں کے ساتھ ہی ڈوب جاتی ہے، جبکہ ریاست بڑے بحری جہاز کی مانند ہوتی ہے جسے ڈوبنے میں وقت لگتا ہے مگر غرق آب ہونا دونوں کا مقدر ہوتا ہے۔
اقتدار کے کھیل میں ریاست کا پلڑا ہمیشہ بھاری ہوتا ہے، اور نظام اس کے سامنے شطرنج کا بچھا ہوا بساط ہوتا ہے جس پر وہ اپنی مرضی کے پیادے آگے پیچھے کرتے ہوئے مرواتا بھی ہے اور جتواتا بھی ہے۔ ریاست ہمیشہ اس زعم میں مبتلا ہوتی ہے کہ اس کے پیادے اور مہرے اور ان کا مقدر اس کے آہنی ہاتھوں میں ہے، جسے کھیل کی سلامتی اور تسلسل کے لیے منشا و مرضی کے مطابق پٹوانا، کٹوانا عین فرائضِ منصبی اور اعلی و ارفع اخلاق و اصول ہیں۔ ریاست کے رکھوالے حکومتی تذلیل، پستی، تبدیلی اور اوتھل پھتل کو کسی مخصوص گروہ کی شکست و ریخت، فتح و شکست، کامیابی و کامرانی اور فنا و بقا سمجھتے ہیں۔ ریاست اس حقیقت سے بےخبر ہوتی ہے کہ کسی بھی گروہ کی حکومتی ناکامی دراصل آخری تجزیے میں ریاستی ناکامی ہی ہوتی ہے۔
عوام ہمیشہ امن، سکون، قانون کی بالا دستی، روزگار، کاروبار، ترقی، خوشحالی، تحفظ اور بھرپور و خوش زندگی کے لیے حکومت کی طرف دیکھتی ہے اور حکومتی ناکامی عوام کے قلوب و اذہان میں ریاستی کدورت کو جگہ دیتی ہے۔ مسلسل ناکام تجربات کے نتیجے میں یہ کدورت شدید نفرت میں بدلتی ہے اور دیمک کی طرح ریاست کی بنیادوں کو چاٹنا شروع کرتی ہے۔ یہی نفرتیں پھر قیصر و کسریٰ اور روم و فارس کی عظیم تہذیبوں کو گراتی ہیں، ریاست اور حکومت تو پھر اس کے سامنے تنکے کی مانند ہوتی ہیں۔ ریاست اپنے غلبے کے لیے جو بھی عوام دشمن اقدامات کرتی ہے وہ بالآخر ریاستی خودکشی پر منتج ہوتے ہیں۔
ذہین اور فہیم وہ ریاستیں ہوتی ہیں جو حکومتوں کے ساتھ ہم رکاب و ہم آہنگ ہو کر چلیں کیونکہ ہر اٹھنے والے حکومتی قدم کو طاقت عوام فراہم کرتی ہے اور ہر اٹھتا ہوا قدم اسی منزل کے قریب لے جاتا ہے جس کا تعین ریاست نے کیا ہوتا ہے۔ بدقسمت ہوتے ہیں وہ معاشرے جن کی ریاست اور حکومت عدم اتفاق، نفاق اور شخصی مفاد کے اسیر ہوتے ہیں۔
ریاست اگر سنجیدگی کے ساتھ اصلاحِ احوال کی متمنی ہو تو درستگی کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ انتہائی آسانی اور سہولت کے ساتھ چیزیں درست سمت میں چل سکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ترجیحی بنیادوں پر درستگی کی جائے اور اگر کسی جدید اور مہذب جمہوری معاشرے کے نقشِ قدم پر ڈالنا مشکل ہو تو کم از کم الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے طرز پر از سرِ نو تشکیل دیا جاسکتا ہے جس کا کام سیاسی جماعتوں کو قانون اور آئین کے مطابق قابو میں رکھنا اور انتخابات کا شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انعقاد یقینی بنانا ہو۔
ہم مغرب کی تقلید کرتے ہوئے جمہوریت کا راگ تو الاپتے رہتے ہیں لیکن ہمارا سماج انتہا کی حد تک ناخواندہ ہے، جہاں لوگ نہ تو ووٹ کی قدرو قیمت اور اہمیت سے واقف ہیں اور نہ ہی اس کے استعمال کا سائنسی اور درست سیاسی طریقہ جانتے ہیں۔ دوسری جانب ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر نہ تو جمہوریت ہے، نہ ہی ان کے مناسب تنظیمی ڈھانچے ہیں، اور نہ ہی کارکنان کی سیاسی تربیت کا کوئی انتظام و انصرام ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں موروثی جاگیریں بن چکی ہیں جہاں نسل در نسل رہنما پیدا ہوتے رہتے ہیں، جبکہ پاکستانی جمہوریت میں عوام کا کردار غلام ابن غلام کی حیثیت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ چاپلوسی، چرب زبانی، پیسے کا بہاؤ اور تجارتی بصیرت جرائم پیشہ عناصر کو رہنماؤں کا تشخص فراہم کرتی ہیں۔
اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان اتنا مستحکم آئینی ادارہ ہو کہ نہ صرف یہ کہ ان سیاسی جماعتوں کا قبلہ درست کرے بلکہ عوام کی رہنمائی، خواندگی اور سیاسی تربیت اور بلوغت کے لیے بھی کردار ادا کرے تو تب ہم جمہوریت سے بہرہ ور اور فیضیاب ہوسکتے ہیں۔ ہمارے ریاستی اداروں کو بھی اپنی غیر جانبداری اور انتخابی عمل میں عدم مداخلت کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، اس ڈر سے بےخوف کہ اگر ان کی مرضی کے بغیر کوئی سیاسی جماعت ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائے گی تو خدا نخواستہ کوئی آسمان گر جائے گا۔ دو تین انتخابات کے اندر تمام سیاسی جماعتیں برہنہ ہو جائیں گی اور صرف وہی جماعت حکومت بنا سکے گی جو حقیقی معنوں میں سیاست، ریاست، جمہوریت اور عوام پر یقین رکھتی ہو۔
ایسی پختہ جماعت جب مسندِ اقتدار پر بیٹھتی ہے تو ریاست کی طاقت دوگنی ہوجاتی ہے۔ اس میں اب کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
واپس کریں