دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شہید اول حیات محمد خان شیرپاؤ : سیاست ، قیادت ، فراست ، شرافت اور شہادت
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
پشتونوں کی سرزمین عظمتوں اور قربانیوں کی امین ہے۔ پشتونوں کی سات ہزار سالہ معلوم تاریخ سے لیکر عصر حاضر تک کئی عظیم شخصیات کے نام وطن دوستی اور قوم پرستی کی فہرست میں سنہرے حروف سے درج میں۔ ان عظیم ناموں میں سب سے زیادہ چمکتا،دھمکتا اور منور نام حیات محمد خان شیرپاؤ کا ہے جو سیاسی شہید اول ہے اور جو دہشت گردی کے بھینٹ چڑھنے والے شہید اول بھی ہیں۔ حیات محمد خان شیرپاؤ کی شہادت کے ساتھ ہی اس بدقسمت خطے میں سیاسی عدم برداشت، تنگ نظری اور تشدد کی وہ بنیاد رکھی گئی ہے کہ آج نہ صرف پشتون عالمی سطح پر الزامات کی زد میں ہیں بلکہ پورا خطہ دہشت گردی کی دھکتے ہوئے آگ کی لپیٹ میں ہے۔اگر حیات محمد خان شیرپاؤ آج بقید حیات ہوتے تو پشتون وطن دنیا کے مہذب اقوام کے صفوں میں کھڑی ہوتی۔ شہید کبھی بھی نہیں مرتے اور ہمیشہ زہنوں، دلوں اور وطن کی مٹی کے ایک ایک ذرے میں زندہ رہتے ہیں جو تا قیامت اپنے افکار اور کردار کے ذریعے قوموں کی راہنمائی کرتے رہینگے اور روشن مثال اور استعارے شمار کیئے جائینگے۔ حیات محمد خان شیرپاؤ بھی حیات جاودانی کے منصب پر فائز ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج انکی شہادت کے اس عظیم موقع اور دن کی مناسبت سے ہم انہیں حراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ تحریک پاکستان کے نامور، فعال اور علاقے کے معزز ترین شخصیت خان بہادر غلام حیدر خان کے گھر شیرپاؤ چارسدہ میں 1937 میں آنکھیں کھولنے والے معصوم حیات محمد خان شیرپاؤ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں، انتھک سیاسی جدوجہد اور دور اندیشی سے غیور پشتون کی آنکھوں کو اونچا رکھا۔ بچپن سے لیکر لڑکپن تک حیات محمد خان شیرپاؤ کی ذات میں ایک خاص قسم کا رکھ رکاو اس حقیقت کا نقیب تھا کہ اس عاجزانہ طبعیت کے روح نے آگے چل کر قوم و ملت کے لیئے کارہائے نمایاں سرانجام دینے ہونگے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی ضلع چارسدہ میں اپنے شریف النفس زمیندار والد کے زیر سایہ حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیئے تاریخی درسگاہ اسلامیہ کالج پشاور منتقل ہوگئے۔ اسلامیہ کالج پشاور کے زمانہ تعلیم کے ابتدائی ایام ہی سے سیاسی فطرت کے نتیجے میں طلباء کے مسائل اور انکے پرامن حل کے لیئے متوجہ ہوگئے۔ گریجویشن تک حیات محمد خان شیرپاؤ نے اس بصیرت، اخلاقیات اور خاندانی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ خدمت کی کہ ان کا نام طلباء سیاست کے حوالے سے آج بھی زبان زد عام ہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد شہید اول حیات محمد خان شیرپاؤ نے عملی سیاست کا آغاز پاکستان مسلم لیک کے پلیٹ فارم سے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں فوجی ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خان کے صدارتی انتخابات کے خلاف پرجوش سیاسی اور عملی جدوجہد کرتے ہوئے کیا۔ جمہوریت، حق سچ اور معماران پاکستان کے لیئے ان کی محبت نہ صرف انکی حب الوطنی اور سیاسی افکار کی سند ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ایک واضح ثبوت ہے کہ عملی سیاست میں انکا پہلا قدم ہی درست سمت میں اٹھایا گیا تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے متعین وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے جب 1967 میں تاشقند معاہدے کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے مرکزی کابینہ سے مستعفی ہو کر ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا فیصلہ کیا تو انکی پہلی نظر نوجوان اور باصلاحیت سیاسی راہنما حیات محمد خان شیرپاؤ پر پڑی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں نئی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی باقاعدہ اور رسمی دعوت دی جسے حیات محمد خان شیرپاؤ نے بغیر کسی تردد کے اس لیئے قبول کیا کہ وہ سابق صدر ایوب خان کے خلاف پہلے سے ہی سیاسی مزاحمت میں بھرپور کردار ادا کر رہے تھے۔ حیات محمد خان شیرپاو ذوالفقار علی بھٹو کی ابتدائی سیاسی جدوجہد میں شریک سفر ہوئے اور جب لاہور میں نئی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا تاسیسی کنوینشن منعقد ہوا تو شہید اول حیات محمد خان شیرپاؤ کو پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سرحد کا اولین چیئرمین منتخب کر دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ولولہ انگیز قیادت میں ایوب خان کی آمریت کے خلاف 1968 میں باقاعدہ سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔حیات محمد خان شیرپاؤ اس جدوجہد کا حصہ تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کے شانہ بشانہ ریاستی تشدد اور قید و بند کا سامنا کیا۔ وہ لاٹھی چارج، آنسوؤں گیس، فائرنگ اور ہر سیاسی تشدد اور جبر کے سامنے سینہ سپر رہے اور ان کے استقلال میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ وہ سیاسی اور مزاحمتی سیاست کی بھٹی سے نکل کر کندن بن گئے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ پشاور اور بہاولپور جیل میں ڈی پی آر کے تحت نظر بند رہے جو انکی سیاسی افکار اور کردار کے مزید نکھار میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ حیات محمد خان شیرپاؤ کے آبائی گاوں شیرپاؤ، چارسدہ میں 1968 میں پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سرحد کا پہلا کنوینشن منعقد ہوا جس میں حیات محمد خان شیرپاؤ کی بطور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سرحد کی بہ اتفاق رائے توثیق ہوگئی اور پارٹی کے دیگر عہدیداروں کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا۔ کنوینشن کے فورا بعد ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ انہوں نے صوبہ سرحد کے طول و عرض کا طوفانی دورہ کرنے کا آغاز کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے میونسپل پارک میں انکے جلسہ عام پر فائرنگ کی گئی اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شدید لاٹھی چارج اور آنسوؤں گیس کا استعمال کیا گیا مگر ذوالفقار علی بھٹو اور حیات محمد خان شیرپاؤ مرد میدان بن کر سٹیج پر ڈٹے رہے اور آمریت کے سامنے سرنگوں ہونے کی بجائے اپنی تفاخرانہ جدوجہد جاری رکھی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ریاستی جبر کے مظاہرے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور حیات محمد خان شیرپاؤ شہید نے شاہی باغ پشاور میں ایک بڑے جلسے سے پرجوش خطابات کیئے جس سے ایوب آمریت کے خلاف ایک باقاعدہ سیاسی جنگ کی فضا بن گئی اور مزاحمتی تحریک اپنے عروج تک پہنچ گئی۔ اس عوامی تحریک کو دبانے کے لیئے آرمی چیف جنرل یحی خان نے مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کردیا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے باوجود بھی عوامی غیض و غضب اور تحریک کا راستہ کوئی نہیں روک سکا اور عوامی دباؤ کے زیر اثر جنرل یحی خان نے 1970 میں عام انتخابات کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی واضح اکثریت سے سب سے بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آگئی۔ سقوط پاکستان کے بدقسمت حادثے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی قیادت سونپی گئی اور شہید اول حیات محمد خان شیرپاؤ صوبہ سرحد کے گورنر مقرر ہوئے۔ حیات محمد خان شیرپاؤ کو صوبہ سرحد کے کم عمر گورنر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ باوجود کم عمری کی حیات محمد خان شیرپاؤ شہید نے اپنی فطری اور خدادا سیاسی اور قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے بڑے گھاگھ ، نامور اور تجربہ کار سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کے علاوہ حیات شہید کی انتظامی صلاحیتیں بھی عروج پر تھیں اور بحیثیت گورنر صوبہ سرحد انکی کارکردگی تمام سابقہ گورنرز کے مقابلے میں نمایاں اور قابل رشک رہی ۔ شہید اول حیات محمد خان شیرپاؤ نے 1970 کے انتخابات میں پشاور سے خان عبدالقیوم خان جیسے سکہ بند سیاستدان کو شکست فاش دیکر سیاسی مبصرین کو انگشت بد انداں کر دیا۔ صوبہ سرحد کے گورنر کی حیثیت میں حیات محمد خان شیرپاؤ شہید نے صوبے کی بھرپور خدمت کی اور صوبے کے ترقی اور خوشحالی کے لیئے کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کیا۔ حیات محمد خان شیرپاو نے بحیثیت وفاقی وزیر بجلی و قدرتی وسائل ملک میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا اور غربت کے خاتمے کے لیئے ہزاروں نوجوانوں کو بلاتفریق ملازمتیں فراہم کیں۔ صوبہ سرحد کے بدترین اور بدقسمت سالوں میں 1974 کا سال انتہائی منحوس رہا۔ اس سال صوبہ سرحد دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں رہا۔ تخریب کاری کی کاروائیاں اور بم دھماکے روز کا معمول تھیں جس میں معصوم شہریوں کی ہلاکتیں اور املاک کا نقصان ہو رہا تھا۔ امن و امان کی صورتحال جب مکمل طور پر بےقابو ہوگئی تو امن کے قیام اور حالات کو معمول پر لانے کے لیئے حیات محمد خان شیرپاو کو اہم ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے انہیں صوبہ سرحد کا سینئر وزیر مقرر کر دیا گیا۔ شہید اول حیات محمد خان شیرپاو نے عوامی بےچینی ختم کرنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیئے صوبہ بھر کے تیز رفتار دورے کیئے جس سے دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی صاف نظر آنے لگی۔ حیات محمد خان شیرپاو کو پشاور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے نومنتخب طالب علموں کےانجمن سے حلف لینے کی درخواست کی گئی جسکو شہید اول نے نوجوانوں کے ساتھ خصوصی محبت کے طفیل بخوشی قبول کردی۔ حلف برداری کی یہ تقریب 8 فروری 1975 کو قرار پائی تھی جس میں بطور مہمان خصوصی حیات محمد خان شیرپاو شہید نے شرکت کی۔ ایک عجیب حسن اتفاق یہ بھی تھا کہ جب شہید اول حیات محمد خان شیرپاو سول سیکریٹیریٹ پشاور سے جامع پشاور کی جانب چل پڑے تو تہکال پایاں کے قریب انہوں نے اپنے پیارے اور عزیر بھائی آفتاب احمد خان شیرپاو کو جیپ میں سوار مخالف سمت میں جاتے ہوئے اس سے بےخبر دیکھ لیا کہ ائندہ انکی دیدار نہیں ہوسکی گی۔ جامع پشاور کے شعبہ تاریخ کے حلف برداری کی اس تقریب میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں حیات محمد خان شیرپاو شہادت کے اعلی و ارفع مقام پر فائز ہو کر حیات جاوداں حاصل کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے آمر ہوگئے۔ انکی شہادت کی خبر ملک بھر اور دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور صوبہ سرحد خصوصی طور پر غم ، سوگواری اور رنج و الم میں ڈوب گیا۔ لاکھوں افراد نے شہید اول حیات محمد خان شیرپاو کی نماز جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کی۔ انکے نماز جنازہ کی اجتماع میں جس طرح لاکھوں افراد جوق درجوق شریک ہوئے وہ صوبہ سرحد کی تاریخ تھی کہ اس سے قبل اور نہ اسکے بعد ازاں سرحد کے خیبر پختونخوا میں تبدیل ہونے تک اور تا دم تحریر ایسی سوگواری، آخری رسومات، ماتم اور لاکھوں عوام کی دھاڑیں مارتے ہوئے شرکت کسی بھی المیئے میں نہیں دیکھی گئی ہے۔ شہید اول حیات محمد خان شیرپاو کے ہاتھوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے امن، ترقی، خوشحالی اور عوامی راج کا جو جھنڈا دیا تھا، انکے عزیز از جان بھائی آفتاب احمد خان شیرپاو نے وہ جھنڈا گرنے نہیں دیا بلکہ ان دونوں عظیم شہدا کے مشن کو ناقابل یقین اونچائیوں تک لیکر گئے۔ شہید اول حیات محمد خان شیرپاو کا کا مشن جاری، انکا قافلہ رواں دواں ہے، انکا کاروان جانب منزل بڑھ رہا ہے۔ شہید اول کا خون، انکا پیارا بھتیجا اور انکے بھائی آفتاب احمد خان شیرپاو کا فرزند ارجمند، انکے آنکھوں کا تارا، نوجوانوں کے ہر دلعزیر راہنما سکندر حیات خان شیرپاو اپنے بزرگوں کی پشت پر چھٹان کی طرح کھڑا ہے اور انکی ولولہ انگیز قیادت میں اب امن، ترقی، خوشحالی اور خلق خدا کی راج کا منزل دور نہیں۔ حیات محمد خان شیرپاو نے اپنے خون پاک سے انقلاب کی آبیاری کی۔ وطن کی ترقی، خوشحالی اور امن کی خاطر اگر چہ دہشت گرد کاروائی کے ذریعے انہیں ہٹایا گیا مگر انکے مشن کو دہشت گرد ختم نہ کرسکے۔حیات محمد خان شیرپاو کی شہادت کے ساتھ سیاسی انتشار، افراتفری، تشدد اور دہشت گردی کے جس گھناونے کاروبار کا آغاز کیا گیا ہے اس نے وطن عزیز کا بہت نقصان کیا، ملک کی رسوائی ہوئی۔ ہمارا ایمان ہے کہ آخری فتح حق کی ہوگی۔ شہید اول حیات محمد خان شیرپاو کی جنگ جاری ہے جو حق کی جنگ ہے اور فتح یاب یو کر رہی گی۔
واپس کریں