خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کی گیارہ سالہ حکمرانی، انتشار اور دہشت گردی کا دوبارہ عروج
خالد خان۔ کالم نگار
فوج اور سیکیورٹی ادارے امن کے قیام اور دہشت گردوں کے قلع قمع کرنے میں چاہے جتنی بھی جانوں کے نذرانے پیش کریں، سیاسی حکومتیں اور ان کی منظور نظر افسر شاہی ان قربانیوں پر پانی پھیر دیتی ہیں۔ بلاشبہ پاکستان میں برپا انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیرونی عوامل موجود ہیں اور پاکستان دشمن قوتوں کے نشانے پر ہے، مگر اندرونی عوامل اس جلتی ہوئی آگ پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ ملک میں خواندگی کی شرح، روزگار کے مواقع، انصاف کی فراہمی، میرٹ کا بول بالا، امن عامہ کا قیام، عزت نفس کا تحفظ، یکساں شہری حقوق اور سہل مہذب زندگی کو یقینی بنانا ہر انسان کو اپنے ملک اور مٹی سے جوڑ کر رکھتا ہے۔ سماج میں کوئی ایسی دراڑ نہیں پڑتی کہ جس میں دشمن نقب لگا کر سکون کو تہہ و بالا کر دے۔ یہ ذمہ داری خالصتاً سیاسی حکومتوں کی ہوتی ہے جس کے لیے وہ قوانین وضع کرتے ہیں اور ان تشکیل کردہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہیں۔ اس آئینی فرض اور حکومتی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے مختلف ریاستی ادارے حکومت کی معاونت کرتے ہیں۔ جب حکومت اور ریاستی ادارے بوجوہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہوتے ہیں تو عوام میں بےچینی پھیل جاتی ہے۔ یہ بےچینی پھر ملک دشمن عناصر کو گھسنے کے مواقع فراہم کرتی ہے اور قوم صوبائیت، لسانیت، سیاست اور مسلکوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ یہ تقسیم بالاخر عدم برداشت اور تشدد کی طرف لے جاتی ہے۔ تشدد پھر دہشت گردی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور فوج اور سیکیورٹی اداروں کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ بےتحاشا قربانیوں کے بعد امن بحال ہو جاتا ہے اور ملک کا انتظام و انصرام سیاسی حکومتوں کو سونپ دیا جاتا ہے۔ ایک بار پھر تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بدقسمتی سے گزشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے چوہے بلی کا یہ کھیل جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں یہ مسلسل تیسری حکومت ہے۔ ترقی کے تمام اعشاریے الٹی سمت میں جا چکے ہیں۔ کوئی بڑا منصوبہ تو کجا، معمول کے ترقیاتی کام بھی رک چکے ہیں۔ روزگار و کاروبار ٹھپ ہے، رشوت ستانی اور اقربا پروری عام ہے۔ میرٹ عملاً ختم ہو چکی ہے، ادارے انحطاط کا شکار ہیں اور احتجاج اور مخاصمت کی سیاست زوروں پر ہے۔ تعلیم، صحت، ماحولیات، زراعت، صنعت، توانائی کا بحران، ہر مکتبہ فکر کا احتجاج، اخلاقی تنزلی، سیاسی پستی، شہری ترقی اور دیہاتی زندگی رو بہ زوال ہے۔ ہم ہر آئے دن کے ساتھ پستیوں میں اتر رہے ہیں۔ قانون سازی ندارد اور امن و امان دگرگوں ہے۔ ادارے اور شخصیات الزامات اور کردار کشی کے زد میں ہیں۔ افواج پاکستان تک کو نہیں بخشا گیا۔
سابقہ قبائلی علاقہ جات جو بندوبستی اضلاع میں ضم ہو چکے ہیں، میں حالات انتہائی ابتر ہیں۔ قبائلی علاقہ جات جو پسماندہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل ہو چکے تھے، واپس دہشت گردی کی طرف لوٹ چکے ہیں۔ قبائلی علاقہ جات کی تیز رفتار ترقی کے لیے انہیں ضم اضلاع کا حصہ بنایا گیا تھا تاکہ اسے باقی ماندہ پاکستان کے برابر لا کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جائے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ پاکستان تحریک انصاف کی تینوں حکومتوں نے مسلسل مجرمانہ طرز عمل اپنا کر ناقص طرز حکمرانی کی بدولت ان قبائلی اضلاع اور جنوبی خیبر پختونخوا کو ایک بار پھر سے دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔ ان علاقوں کو ہر حوالے سے نظر انداز کیا گیا اور آج سابقہ قبائلی علاقہ جات کا ہر خاص و عام سراپا احتجاج ہے۔
اس احتجاج کی تازہ ترین مثال جنوبی وزیرستان اپر کے سرکاری ٹھیکیدار ہیں جن کے ذمے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا کام ہوتا ہے۔ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن جنوبی وزیرستان اپر کے صدر نور حسن محسود نے ٹھیکیدار برادری کی گرینڈ میٹنگ طلب کی جس میں اس صورتحال پر انتہائی سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ آئیے اس گرینڈ میٹنگ کی تفصیلات ملاحظہ کرتے ہیں:
"جنوبی وزیرستان اپر میں جاری ترقیاتی منصوبے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تعطل کا شکار ہو گئے، جس کے نتیجے میں مقامی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن جنوبی وزیرستان اپر کے صدر نور حسن محسود نے ایک گرینڈ میٹنگ میں اس سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
گزشتہ روز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقے کے تمام ٹھیکیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ٹھیکیداروں نے شکایت کی کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف تعمیراتی سرگرمیاں رک گئی ہیں بلکہ ہزاروں مزدور اور کاروباری افراد بھی بے روزگار ہو چکے ہیں۔
صدر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نور حسن محسود نے کہا کہ ٹھیکیدار برادری کسی بھی علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث سڑکوں، عمارتوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا کام رک چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث تعمیراتی سامان فروخت کرنے والے تاجروں، مزدور طبقے اور ہیوی کنسٹرکشن مشینری کے مالکان کو بھی شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جو کہ علاقے کی عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹھیکیدار برادری نے اب تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن مزید تاخیر ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ترقیاتی فنڈز جاری کریں تاکہ علاقے میں تعمیر و ترقی کا عمل بحال ہو اور عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔
علاقے کے عوام نے بھی ٹھیکیدار برادری کے ساتھ ملکر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور فوری طور پر حل نکالے، تاکہ جنوبی وزیرستان اپر کے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں اور مقامی معیشت دوبارہ مستحکم ہو سکے۔"
دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ ترقی اور صوبے کی فلاح و بہبود نہ تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایجنڈا ہے اور نہ ہی یہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی تمام تر صلاحیتیں انتشار کی سیاست، وفاق کے ساتھ محاذ آرائی اور پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات پر مرکوز ہیں۔ صوبے کے وسائل اور حکومتی مشینری صرف ذاتی مفادات اور پولیٹیکل سکورنگ کے لیے مختص کی گئی ہے۔ ایسے میں دہشت گرد سر نہیں اٹھائیں گے تو کیا امن کے جھنڈے لہرائیں گے؟ فوج امن بحال کر کے اور دہشت گردی کا خاتمہ کر کے یہ کلینر علاقے انہی لوگوں کے حوالے کرے گی جو دوبارہ اسے جہنم بنا دیں گے۔
یہ بلی چوہے کا کھیل کب تک جاری رہے گا؟
فوج اور سیکیورٹی ادارے کتنی اور کب تک قربانیاں دیں گے؟
یہ بات اب عوام کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنی ہوگی۔
واپس کریں