دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وحشی سامراجی یلغار اور پاک فوج
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
ہمارا خطہ آج جس مذہبی جنون اور دہشت گردی کے لپیٹ میں ہے اسکی بنیاد سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے رکھی تھی جو 1977 سے 1981 تک امریکہ کے صدر رہے۔ اگر چہ وہ عمومی طور پر نجی زندگی میں ایک عاجز اور ایماندار شخص سمجھے جاتے تھے لیکن ان کا دور ہمارے خطے کے لئے بہت تباہ کن ثابت ہوا تھا اور انکی پالیسیوں کے نتائج ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ پاکستان روائتی طور پر روز اول سے امریکہ کا حلیف رہا تھا اور امریکہ، مغرب یا اگر زیادہ وضاحت سے بات کی جائے تو سامراجی مفادات کا اس خطے میں سب سے بڑا نمائندہ اتحادی تھا۔ برطانیہ کی روس کے بارے میں دور اندیشی سراہنے جانے کی قابل ہے کہ گرم پانیوں تک روس کی پہنچ کے خواب کو اس نے بہت پہلے سے بھانپا تھا اور اسکے تدارک کے لیئے پاکستان کو بطور بفر زون استعمال کرنے کا فیصلہ برصغیر کے تقسیم سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ اس فیصلے کے ساتھ اگر چہ کئی دیگر متعدد نکات بھی جڑے ہوئے تھے لیکن افغانستان، ایران اور ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے اچھے دوستانہ تعلقات کا استوار نہ ہونا اسکی مرکزی حکمت عملی تھی۔ دوسری جانب پاکستان کے اندر سیاسی انتشار کو برپا رکھنا، قومی اتفاق رائے نہ ہونا، فرقہ ورانہ، مسلکی، لسانی اور صوبائیت کے نام پر پاکستان کو تقسیم در تقسیم رکھنے کی پالیسی کو نمایاں اہمیت حاصل تھی۔ ان مذموم مقاصد کے لیئے سامراجی قوتوں کو کاسہ لیس سیاستدانوں، وفا دار افسر شاہی اور "یس باس" کہنے والے بعض جرنیلوں کی خدمات حاصل تھیں۔ دوسری جانب روس اور چین کے تعلقات کو اس حد تک پاکستان کے ساتھ خوشگوار نہ بنانے دینے کی حکمت عملیاں شامل تھیں کہ یہ دونوں ممالک سیاسی اور اقتصادی راستوں کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی حاصل نہ کرسکیں ۔ روس کی جانب سے کراچی سٹیل مل کا تحفہ اور چین کا سی پیک منصوبہ اسی معاشی، سیاسی اور برابری کی سوچ کے عکاس منصوبے تھے اور ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی مرتبہ نہ صرف آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھتے ہوئے چین اور روس کے قریب ہونے اور متوازن تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی بلکہ انہوں نے اسلامی ممالک کو بھی ایک مرکز پر اکھٹا کرنے کی بھرپور سعی کی۔ یہی وہ نکات تھے کہ امریکہ نے نہ صرف بھٹو کو ہٹانے کا فیصلہ کیا بلکہ جنوبی ایشیاء ، مشرق وسطی اور سنٹرل ایشیاء کے لیئے مذہبی انتہا پسندی کی نئی حکمت عملی تشکیل دی۔ اس نئے حکمت عملی میں مرکزی کردار پاکستان کو ادا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی جبکہ روس کے لیئے میدان جنگ کو افغانستان چنا گیا۔ امریکی انتظامیہ نے صدر جمی کارٹر کی قیادت میں جان بوجھ کر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی۔
1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکموت سے تعلقات تلخ ہوچکے تھے جسکی بنیادی وجہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور بھٹو حکومت کی آزادانہ خارجہ پالیسی تھی۔ یہ سرد جنگ کا زمانہ تھا اور کسی قسم کی نیم سوشلسٹ حکومت بھی امریکہ کے لئے قابل قبول نہ تھی۔ 1977 میں اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام بھٹو نے کارٹر انتظامیہ پر لگایا تھا۔ بھٹو کے ہٹنے اور جنرل ضیاء الحق کی برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کی بھرپور مدد کی گئی۔ اس پالیسی کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں ثور انقلاب کا برپا ہونا تھا۔ امریکہ ویتنام میں ایک شرمناک شکست سے دوچار ہوا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ سوویت یونین، جو کیوبا سے لے کر ویتنام اور جنوبی افریقہ سے لے کر انگولا میں تیسری دنیا کے ممالک کی مالی اور عسکری مدد کررہا تھا، کو کسی طرح روکا جاسکے۔ کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر، ذبئگینو برذئزنسکی، نے تجویز دی کہ افغانستان میں پاکستان کی مدد سے جہاد کو برپا کیا جائے تاکہ روس افغانستان میں مداخلت پر مجبور ہو۔ یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ کارٹر انتظامیہ کی طرف سے مذہبی شدت پسندوں کو افغانستان کی حکومت کے خلاف امداد سوویت یونین کی مداخلت سے پہلے ملنا شروع ہوگئی تھی بلکہ ذبئگینو برذئزنسکی کا مقصد ہی روس کو کسی طرح جنگ میں دھکیلنا تھا تاکہ جنگ میں شدت لائی جاسکے۔
جب کئی سال بعد ذبئگینو برذئزنسکی سے پوچھا گیا کہ آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور دنیا بھر میں انتہا پسندی کو فروغ ملا تو انہوں نے جواب دیا "تاریخ میں زیادہ اہمیت کس بات کی ہے؟ سوویت یونین کے ٹوٹنے کی یا افغانستان پر طالبان کے قبضے کی؟ چند مشتعل مسلمانوں کی یا یورپ کی آزادی اور سرد جنگ کے خاتمے کی؟" انہوں نے اس انٹرویو میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ سوویت یونین کی مداخلت سے پہلے امریکہ نے انتہا پسندوں کی حمایت شروع کردی تھی اور انہیں اپنی کسی پالیسی پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
پاکستان میں کئی دہائیوں تک جمی کارٹر، ذبئگینو برذئزنسکی, اور چارلی ولسن جو امریکی کانگریس کے رکن تھے اور جنہوں نے "افغان جہاد" میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور جنکی خدمات پر ایک کتاب اور فلم چارلی ولسن وار دستیاب ہے کی تخلیق کی ہوئی پراکسی وار کو جہاد کے نام پر فروغ دیا گیا۔ ہمیں مذہب کے نام پر بیوقوف بنا کر خود امریکہ نے خطے سے آنکھیں موڑ لیں لیکن پاکستان، افغانستان، اور خصوصی طور پر پشتون بیلٹ، میں آج تک جنگوں اور مذہبی انتہاپسندی کا سلسلہ جاری ہے۔
جس وقت کارٹر افغانستان میں جہاد کے نام پر قتل و غارت کر رہا تھا، اسی وقت نکاراگوا میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوگیا۔ کئی دہائیوں سے وہاں پر سموزا نامی خاندان کی آمریت قائم تھی جس کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ان کے خلاف کسانوں، مزدوروں، طلبا اور دانشوروں نے سنڈینئستاس کے نام سے ایک مسلح گروہ بنایا جس نے ایک طویل جدوجہد کے بعد آمریت کو شکست دی۔ لیکن جیسے ہی وہ حکومت میں آئے تو جمی کارٹر کی انتظامیہ نے ان کے خلاف کنٹراس نامی ایک انقلاب مخالف تنظیم کھڑی کردی جس کا مقصد صرف تباہی تھا۔ یہ بھی افغانستان میں مجاہدین کی طرح اساتذہ ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ڈاکٹرز پر حملے کرنے کے ساتھ ساتھ ہر ترقیاتی منصوبے کو بارود سے اڑانے کی کوشش کرتے تھے۔ کنٹراس اور مجاہدین کی مدد کرنے کا مقصد نہ جمہوریت تھا اور نہ انسانی حقوق بلکہ تیسری دنیا سے آزادی کے وہ خواب چھیننا تھا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سامراج سے بغاوت کا باعث بن رہے تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کارٹر نے ایسی چیزیں ضرور کیں جن کو سراہنا چاہئے۔ مثال کے طور پر وینزویلا اور کیوبا میں امریکی مداخلت کی کھل کر مخالفت کی۔ اسرائیل کو نسل پرست ریاست قرار دیا اور فلسطین کی آزادی کی حمایت کی۔ اسی طرح امریکی خارجہ پالیسی کے کئی پہلوؤں پر تنقیدی رائے دیتے رہے۔
لیکن تیسری دنیا اور خصوصی طور پر ہمارے خطے میں ان کی پالیسی کسی بھی وحشی سامراجی یلغار سے کم نہ تھی۔ اس سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے کہ کسی لیڈر کا ایماندار یا عاجز ہونا تاریخ میں مثبت کردار ادا کرنے کے مترادف ہرگز نہیں ہوتا۔ اصل فرق یہ ہوتا ہے کہ کیا آپ اقتدار میں آکر ترقی پسند رجحانات کے ذریعے نظام کو چیلنج کرتے ہیں یا پھر سسٹم کا صرف حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پختہ نظریے اور اصولوں کے ساتھ آپ دنیا کو بدلنا شروع کر دیتے ہیں یا دوسری جانب سسٹم کا حصہ بن کر ان کے تمام جرائم پر نہ صرف خاموشی اختیار کرتے ہیں بلکہ ان جرائم کو تقویت دینے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں ۔ یعنی آپ کی قابلیت آپ کے ارادوں کے برعکس نظام کو مظبوط کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے جس کی وجہ سے ایک ایماندار اور عاجز شخص بھی ہلاکو خان اور چنگیز خان جیسے جرائم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
جمی کارٹر کی زندگی اسی تاریخ کے جبر کی عکاسی کرتی ہے جس میں ذاتی زندگی میں ایک شریف انسان سامراج کا نمائندہ بن کر پورے خطوں کی تباہی کا باعث بنا۔ جمی کارٹر کی برپا کی ہوئی تباہی کے نتائج آج کسی نہ کسی صورت میں بشمول امریکہ ساری دنیا بھگت رہی ہے۔ افغانستان کے ایک پرامن اور روائتی معاشرے کو دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے مرکز میں تبدیل کرنا، روس کی سرحدیں تبدیل کرنا، چین میں جہاد اور آزادی کے درد سر کی تخلیق میں سہولت کاری کرنا، وسطی ایشیائی ممالک میں مذہبی جنونیت کو فروغ دینا، ایران کی عالمی تنہائی کو ممکن بنانا، ہندوستان کو علاقائی بالادستی سونپنا اور پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا رکھنا وہ سامراجی اہداف تھے جو حاصل کیئے گئے۔ اس دوران بظاہر امریکی وکٹ پر کھیلتے ہوئے پاکستان کے دور اندیش اور ذہین ریاستی دماغوں نے اس سیاسی کھیل کو اپنے حق میں پلٹ دیا۔ جنرل ضیاء الحق پر افغان جہاد میں بےدھڑک کھودنے کا الزام بھی کافی حد تک غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ پاکستان کے مفاد میں اس وقت کے حالات کے مطابق قطعا سپر پاور روس کا پڑوسی بننا نہیں تھا۔ روس کو پاکستان سے دور رکھنے کے لیئے افغانستان میں شکست دینی ضروری تھی۔ اس جنگ کے دوران نہ صرف ہمارے ادارے، انٹیلیجنس ایجنسیاں، پالیسی سازوں اور فوج کی تربیت ہوسکی بلکہ اس جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا گیا۔ ایٹمی طاقت بننے کے بعد پاکستان ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محفوظ ہوگیا اور ہر نوع کی خارجی جارحیت خارج از امکان ہوگئی۔ اسکے نتیجے میں بہرحال دشمن قوتوں کو اندرونی عدم استحکام کے مواقع مل گئے جن سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کا وجود عالمی امن کے لیئے لاز و ملزوم ہوچکا ہے اور اب وہ وقت ہوا چاہتا ہے کہ پاکستان تمام تر قوت کے ساتھ آگے بڑھے۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیئے جن امور کی فوری ضرورت ہے اس میں سیاسی اور معاشی استحکام، طرز حکمرانی اور ادراہ جاتی اصلاحات، ائینی اور قانونی ترمیمات اور از سرع نو تشکیل، قومی اتفاق رائے، آزاد خارجہ پالیسی، روشن فکری کا فروغ اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔ دوسری جانب فوج کو مکمل آئینی کردار دینا اور ریاستی امور میں باضابطہ شمولیت شامل ہے۔ اپنے قومی مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیئے بغیر برائے نام عالمی جمہوریت اور بشری حقوق کے ڈھکوسلے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے زمینی حقائق کے مطابق عملیات کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی درست طریقے سے جمہوری اور سیاسی تربیت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو، پاکستان کا فعال، اہم اور معتبر ترین ادارہ بناتے ہوئے جمہوریت کے روح کے عین مطابق سیاسی جماعتوں کو اہم قومی کردار ادا کرنے کے لیئے تیار کرنا ہے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے زیر قیادت حالیہ پالیسیاں انتہائی متوازن اور درست ہیں اور ان پالیسیوں کو بنا کسی مصلحت، خوف، معذرت اور مفاہمت کے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ ریاستی پالیسیوں کو آئین سے ہم اہنگ کرنے کے لیئے سیاسی ڈھانچے میں آئینی ترمیم کے ذریعے اصلاحات کرنی ناگزیر ہے تاکہ پاکستان کی بقا کے لئے ہر اٹھنے والا قدم عین ائینی اور قانونی ہو اور کسی بھی بین الاقوامی انگلی کو ہماری طرف اٹھنے کی جرآت نہ ہو۔
واپس کریں