دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستانی جامعات میں ہراسگی: ایک سنگین بحران
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
مالاکنڈ سکینڈل نے تعلیمی اداروں میں استحصال کی سنگین حقیقت بے نقاب کر دی۔
مالاکنڈ یونیورسٹی میں پیش آنے والے حالیہ سکینڈل نے ایک بار پھر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ہراسگی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پاکستان سٹڈیز کے پروفیسر عبدالحسیب کی گرفتاری، جو مبینہ طور پر طالبات کو بلیک میل اور ہراساں کر رہے تھے، علمی حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بنی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، مذکورہ پروفیسر طالبات کو واٹس ایپ پر نازیبا پیغامات بھیجنے اور تعلیمی رعایت کے بدلے ان سے غیر اخلاقی مواد کا مطالبہ کرتے تھے۔ متاثرہ طالبات نے انتظامیہ کو شکایات درج کروائیں، لیکن کارروائی کے بجائے معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ بالآخر چھٹے سمسٹر کی ایک طالبہ (ح) نے ہمت دکھاتے ہوئے باضابطہ شکایت درج کروائی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ مذکورہ پروفیسر نے انہیں گھر سے اغوا کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔
پروفیسر عبدالحسیب کی گرفتاری کے بعد مالاکنڈ لیویز نے ان کے موبائل فون سے تقریباً چار ہزار نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد کیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری استحصالی نظام کا حصہ تھا۔ ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جن میں دفعہ 365-بی (کسی عورت کو زبردستی نکاح یا غیر اخلاقی مقاصد کے لیے اغوا کرنا)، دفعہ 511 (جرم کرنے کی کوشش)، دفعہ 452 (گھریلو چاردیواری میں زبردستی داخل ہو کر نقصان پہنچانے یا دھمکانے کی کوشش)، دفعہ 354 (کسی عورت کی عزت کو نقصان پہنچانے کے لیے اس پر حملہ یا زبردستی) اور دفعہ 506 (مجرمانہ دھمکیاں) شامل ہیں۔ ان دفعات کی موجودگی معاملے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور مقامی حکام اسے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی کئی مواقع پر ہوتا رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی جامعات میں ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہوں۔ مالاکنڈ سکینڈل کی نوعیت ماضی میں منظرِ عام پر آنے والے کئی واقعات سے ملتی جلتی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی میں اس سے بھی زیادہ خوفناک انکشافات ہوئے، جہاں کچھ اساتذہ خفیہ طور پر طالبات کی ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کر رہے تھے۔ اس گھناونے عمل کو روکنے کے بجائے یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی، جس سے متاثرہ طالبات مزید عدم تحفظ کا شکار ہو گئیں۔ پنجاب یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی میں بھی کئی بار اساتذہ پر طالبات کے استحصال کے الزامات لگ چکے ہیں، لیکن اکثر شکایات کو نظر انداز کر دیا گیا یا دبانے کی کوشش کی گئی۔ بلوچستان یونیورسٹی میں اس سے بھی ہولناک معاملہ سامنے آیا تھا، جہاں خفیہ کیمرے لگا کر ہاسٹلز اور کیمپس میں طالبات کی ویڈیوز بنائی جا رہی تھیں۔ ان ویڈیوز کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے کے شواہد ملے، لیکن خوف اور دباؤ کی وجہ سے بیشتر متاثرہ لڑکیوں نے خاموشی اختیار کر لی۔
خواتین کے لیے ہراسگی محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا نفسیاتی صدمہ ہے جو ان کی ذہنی صحت اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ متعدد متاثرہ لڑکیاں ذہنی دباؤ، پریشانی اور تعلیمی ناکامی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کئی طالبات یونیورسٹیاں چھوڑنے یا اپنی تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ انتقامی کارروائی کے خوف کی وجہ سے بھی متاثرین شکایات درج کروانے سے کتراتی ہیں، کیونکہ انہیں بدنامی، پیشہ ورانہ رکاوٹوں، اور حتیٰ کہ حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک تحقیقی ادارے کے 2021 کے مطالعے کے مطابق، پاکستان میں 70 فیصد سے زائد طالبات نے اپنی تعلیمی زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں ہراسگی کا سامنا کیا، لیکن ان میں سے صرف چند ایک نے شکایت درج کروانے کی ہمت کی۔ اس کی بنیادی وجوہات میں معاشرتی دباؤ، متاثرین پر الزام تراشی، اور اداروں کی بے حسی شامل ہیں۔
پاکستان میں خواتین کو ہراسگی سے بچانے کے لیے قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان کا نفاذ بے حد کمزور ہے۔ "تحفظِ خواتین از ہراسگی ایکٹ" تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے اور جامعات پر لازم ہے کہ وہ انسدادِ ہراسگی کمیٹیاں تشکیل دیں، لیکن زیادہ تر معاملات میں یہ کمیٹیاں محض کاغذی حد تک محدود رہتی ہیں۔ متاثرین اکثر شکایت کرتی ہیں کہ ان کی درخواستوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ "سائبر کرائم ایکٹ" بھی ڈیجیٹل ہراسگی کو جرم قرار دیتا ہے، لیکن ناقص عمل درآمد کی وجہ سے ملزمان اکثر بچ نکلتے ہیں۔ قانونی کارروائیاں طویل عرصے تک لٹکائی جاتی ہیں، ثبوتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور متاثرین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنی شکایات واپس لے لیں۔
سوشل میڈیا نے ان معاملات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو عام طور پر تعلیمی ادارے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ طلبہ نے ٹوئٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے اپنی کہانیاں عوام کے سامنے رکھیں، جس سے بعض اوقات شدید عوامی ردِعمل پیدا ہوا اور حکام کو کارروائی پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم، اس کے نقصانات بھی ہیں۔ متاثرین کو اکثر آن لائن بدنامی اور سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض تعلیمی ادارے ان طلبہ کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکیاں دیتے ہیں جو ہراسگی کے واقعات پر آواز اٹھاتے ہیں۔ کچھ طلبہ کو نامعلوم عناصر کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوئیں اور بعض کو یونیورسٹی سے نکالے جانے کی اطلاعات بھی ملیں۔
دیگر ممالک نے تعلیمی اداروں میں ہراسگی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ میں "ٹائٹل نائن" قانون کے تحت تعلیمی ادارے جنسی ہراسگی کے کسی بھی کیس پر فوری کارروائی کے پابند ہیں، اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو ان پر قانونی کاروائی اور مالی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ برطانیہ میں ایک خودمختار ادارہ یونیورسٹیوں کے ہراسگی کے معاملات کی آزادانہ تحقیقات کرتا ہے تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یورپی ممالک میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے لازمی تربیتی کورس متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ آگاہی اور بچاؤ کے طریقے سکھائے جا سکیں۔ پاکستان میں، اس کے برعکس، کوئی مؤثر نگران نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے ادارے اپنی ساکھ کو ترجیح دیتے ہیں اور متاثرین کی شکایات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔
مالاکنڈ سکینڈل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ جامعات کو فوری طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانا چاہیے اور اساتذہ کے احتساب کے لیے سخت قانونی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایسے آزاد تحقیقاتی ادارے قائم کیے جائیں جو تعلیمی اداروں کے ماتحت نہ ہوں تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔ انسدادِ ہراسگی کے قوانین کو سختی سے نافذ کرنا اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کرنا ناگزیر ہے۔ طلبہ کے لیے آگاہی پروگرام متعارف کرانا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہو سکیں اور ایسے جرائم کے خلاف آواز بلند کر سکیں۔
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تعلیمی ادارے غیر محفوظ ہی رہیں گے اور ایسے سنگین واقعات تسلسل سے سامنے آتے رہیں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا حکام واقعی طلبہ کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہیں یا پھر یہ معاملہ بھی دیگر سکینڈلز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا۔
واپس کریں