اظہر سید
عقل کے اندھوں کو سمجھ نہیں آرہی ہمیشہ کی بادشاہی صرف اللہ کی ہے ۔دنیا میں کوئی سپر پاور ہمیشہ نہیں رہتی ۔روم ،ایران ،تاتاری،سلطنت عثمانیہ سب تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے ہیں ۔برطانیہ پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا ۔سوویت یونین کا جبروت ایک دنیا نے دیکھا دونوں محدود ہو گئے ۔اب امریکیوں کی باری ہے ۔مشرق سے نیا سورج چین کی صورت نکل رہا ہے ۔یہ نکلے گا چمکے گا اور پھر اپنی فطری مدت پوری کرے گا ۔
امریکی سپر پاور سائنس ،ٹیکنالوجی اور وار مشنری یعنی اسلحہ کی صنعت کی وجہ سے تھے ۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں چینی برابر کی ٹکر دے رہے ہیں جبکہ وار مشنری چلانے کیلئے ایک بڑی جنگ کی ضرورت ہے لیکن اس جنگ کی قیمت خود امریکہ ہو گا ۔
دلائل دئے جائیں تو امریکی ٹیرف کی نئی پابندیاں دنیا کو نہیں خود امریکہ کو متاثر کریں گی ۔امریکی صنعتیں پہلے ہی کم قیمت چینی صنعتوں کے مقابلہ کی سکت کھو رہی ہیں درامدی ٹیرف میں اضافہ سے جو امریکی برآمدات پر ٹیرف میں اضافہ ہو گا امریکی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو جائے گا کہ جوابی ٹیرف سے امریکی صنعتیں سبسڈائز چاندی تانبے اور ان تمام دھاتوں کی سبسڈی سے محروم ہو جائیں گی جو اسے باقی دنیا پر سبقت دلاتی ہیں ۔
امریکی معیشت دنیا کی سب سے بڑی مقروض معیشت ہے جو ڈالر کی مصنوعی اجارہ داری پر قائم تھی ۔دنیا کے تمام ممالک کے معیشت دان مستقبل کو سونگھ چکے ہیں ۔علاقائی تعاون کی تنظیمیوں میں شامل ممالک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کا کچھ حصہ متبادل کرنسیوں میں رکھنے کا عمل شروع کر چکے ہیں ۔ہر گزرتے دن امریکی بانڈز جو ہاتھوں ہاتھ خریدے جاتے تھے اب نہیں خریدے جائیں گے ۔
چین ،جاپان اور تیل کی دولت سے مالا مال ممالک جو امریکی بانڈ فوری خریدتے تھے پچھلے ہفتے انہوں نے امریکی ٹریژری کی پیشکشوں پر سرد مہری دکھائی ۔چینی تو آئے ہی نہیں ،جاپانیوں نے تھوڑے سے خریدے اور عرب ممالک میں بھی پہلے جیسی گرم جوشی نہیں تھی ۔مقامی بینکوں اور نجی سرمایہ کاروں نے خریداری کی لیکن کب تک ؟
یہ پانی کا بلبلہ پھوٹے گا ۔ایک بڑی جنگ وار انڈسٹری چلائے گی لیکن اس جنگ کی جو قیمت ہے اس کی سکت امریکہ میں ختم ہو چکی ہے ۔
ٹیرف میں اضافہ سے ابھی امریکی اور مغربی ممالک کے حصص بازاروں میں زلزلے کی کیفیت ہے لیکن جلد ہے مغربی ممالک اس زلزلہ سے بچ نکلیں گے لیکن امریکیوں کو کوئی نہیں بچا پائے گا ۔امریکہ کو بچانے کیلئے آمدن میں اضافہ اور خرچ میں کمی کیلئے یوکرائن جنگ سے لاتعلقی،دنیا بھر میں یو ایس ایڈ کے آپریشن بند کرنے اور لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جو کریک ڈاؤن اور اب درامدی ٹیرف میں اضافہ شروع ہے وہ اکیلئے صدر ٹرمپ کے فیصلے نہیں بلکہ امریکی پالیسی سازوں کے سوچے سمجھے فیصلے ہیں ۔
اگلا مرحلہ انٹرسٹ ریٹ میں اضافہ کا ہے اور یہ عمل بھی شروع ہو چکا ہے ۔امریکی معیشت پر جس قدر قرضہ ہے ایک فیصد انٹرسٹ ریٹ میں اضافہ بھی اونٹ کی کمر پر تنکہ ہو گا کہ بیٹھے بٹھائے قرضوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔
امریکیوں کو قرضوں کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لینے ہیں ۔ابھی ان کے بانڈز کے ساتھ جو سلسلہ شروع ہوا ہے انہیں بہت جلد مہنگے قرضوں کی طرف جانا ہے ۔حکومتی اخراجات میں کمی کرنا ہے ۔ہیلتھ بجٹ کم کرنا ہے ۔سبسڈی ختم کرنا ہے ۔جب امریکی یہ کام کریں گے تو خریداروں کی آمدن کم ہو گی اور اس کے اثرات خریداری پر پڑیں گے اور لامحالہ صنعتیں متاثر ہونگی ۔وہی رنڈی رونا ہو گا جو قرضوں میں پھنسی ترقی پزیر ممالک کی معیشتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔
جو عقلمند ہیں وہ ڈالر بیچ کر سونا خرید رہے ہیں اور انہی عقلمندوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ڈالر کم قیمت اور سونا زیادہ قیمت کا ہو رہا ہے ۔
واپس کریں