دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مسائل کا حل ۔ اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
پاکستان آج جس دوراہے پر کھڑا ہے زمہ دار جمہوریت نہیں سیاستدان بھی نہیں بلکہ مالکان ہیں ۔بلوچ نوجوان عسکریت پسند بن رہے ہیں کہانی نواب نوروز خان اور اکبر بگٹی سے ہونے والے سلوک کی ہے ۔پختونوں کا ایک طبقہ منظور پشتین کے ساتھ کھڑا ہے تو چالیس سال سے کھیلے جانے والے کھیل کا ردعمل ہے ۔سوشل میڈیا پر فوج اور پنجاب کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے تو یہ ایک نوسر باز کو ففتھ جنریشن وار کے زریعے مسلط کرنے کی سزا ہے ۔
ٹھیک ہے زمہ دار مالکان ہیں تو اب کیا فوج ختم کر دیں ، پاکستان کو تحلیل کر دیں ،بلوچستان ،سندھ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا نئے ملک بنا دیں ؟
فوج اور پنجاب کو گالی دینے والے فاششٹ کہنے والے پختون اور بلوچ دانشور بتائیں مسلہ کا حل کیا ہے ۔متبادل کیا ہے ۔افغانستان والے تو پاکستان میں پناہ ڈھونڈتے ہیں ۔ایک کروڑ سے زیادہ پختون تو سندھ اور پنجاب میں روزانہ اربوں روپیہ کا کاروبار کرتے ہیں کیا وہ کابل سے اٹک تک نیا پختونستان بنا کر دودھ اور شہد کی نہریں بہائیں گے ۔
منظور پشتین کے پیروکار تو باچا خان کے نظریات کے تحت پختون بچیوں کی تعلیم کے حق میں ہیں طالبعلم انہیں اجازت دیں گے یا پھر یہ آپس میں پہلے خانہ جنگی کریں گے پھر کامیاب ہونے والا اپنا نظریہ مسلط کرے گا ۔
بلوچستان والے کیا کریں گے انکی تو کل تعداد ہی پچاس ساٹھ لاکھ ہے جبکہ ان سے زیادہ بلوچ پنجاب اور سندھ میں ہیں ۔بلوچستان کو آزاد ریاست بنائیں گے تو ایرانی بلوچستان کا کیا کریں گے یا پاکستان اور ایران دونوں سے آزادی حاصل کر کے گریٹر بلوچستان بنائیں گے ۔پاکستان ازادی دے دے گا تو کیا ایران بھی دے دے گا ۔بلوچوں سے زیادہ پختون بلوچستان میں ہیں ان کا کیا کرنا ہے ۔
سندھ آزاد ہو جائے تو کیا کراچی میں مہاجر اس آزاد سندھی ریاست میں شامل ہونگے یا پھر وہ بھی ایک نیا ملک بنائیں گے ۔
گالی دینا بہت آسان ہے لیکن مسلہ کے حل کیلئے جدوجہد کرنا ایک الگ معاملہ ہے ۔
فوج نہیں رہے گی تو خانہ جنگی ہو گی ۔جس قدر نفرت پنجاب کے خلاف پھیلائی جا رہی ہے جب آزادی کی طرف جائیں گے تو پنجاب والے مار مار کر دنبہ بنا دیں گے ہری سنگھ نلوہ پختونوں کو بھول جائے گا ۔سب کو اٹک کے پار بھیج دیں گے ۔
کراچی میں مہاجر پشتون اور سندھی ایک دوسرے کے گلے کاٹیں گے ۔
بلوچستان آزاد کرائیں گے تو ملکیت کا سب سے بڑا جھگڑا اکثریتی ابادی پختونوں کے ساتھ ہو گا ۔
ایک بہت بڑا عنصر مذہبی طبقہ کا ہے یہ بہت بڑی طاقت ہیں چاروں آزاد ریاستوں میں سب سے بڑا چیلنج یہ مولوی ہونگے ان سے بھی لڑنا پڑے گا ۔
فوج پاکستان کی ہے ۔خرابیاں درست ہو جاتی ہیں ۔ملک ٹوٹ جائیں تو کسی کے پلے کچھ نہیں رہتا ۔چھوٹے چھوٹے وارڈ لارڈ بن جائیں گے ۔ابھی تو فوج پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کی ایک طاقت ہے اسے ہدف بنائیں گے تو کوئی کسی کو نہیں بچائے گا سب ایک دوسرے کو ماریں گے ۔
دنیا میں بہت ساری مثالیں ہیں فوج کو جمہوریت کے تابع کیا گیا لیکن اس میں وقت لگتا ہے ۔بتدریج جمہوریت آجاتی ہے ۔یورپ والے بھی طویل سفر کے بعد جمہوریت تک پہنچے ہیں ۔ترکی والے بھی طویل جدوجہد کے بعد اس منزل تک پہنچے ہیں ۔پاکستان میں بھی جمہوریت اجائے گی ۔طاقتور فوج بیرکس میں چلے جائے گی ۔گھر ٹوٹ گیا تو سارے کھلے میدان میں کھڑے ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہونگے ۔
نفرت کا کاروبار کرنا بہت آسان ہے ۔قومی اتحاد اور یکجہتی کا کام مشکل ہے ۔مسلہ مل بیٹھ کر بات چیت سے حل ہو گا ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے سے نہیں ۔
واپس کریں