
آئندہ مالی سال 2025-26ء کے بجٹ کی تیاری کے لیے آئی ایم ایف ٹیم کی پاکستان آمد ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف وفد آئندہ ٹیکس، ریونیو اقدامات اور اخراجات پر کنٹرول سے متعلق بات چیت اور ترقیاتی اخراجات کے بجٹ کے حوالے سے پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستانی حکام سے مل کر تجاویز تیار کرے گی۔ادھر، ماہرین کہتے ہیں کہ بجٹ میں ٹیرف نظام میں کمی کا فیصلہ امریکی اقدامات کے اثرات سے نکلنے میں مدد گار ہو گا۔ پاکستان کی معیشت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اور مالیاتی پالیسیوں میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مداخلت پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ بجٹ کی تیاری جیسے بنیادی اقتصادی معاملات میں آئی ایم ایف کی براہِ راست شرکت قومی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک خودمختار ملک ہونے کے باوجود ہماری معاشی پالیسیاں بیرونی اداروں کی ہدایت پر مرتب کی جا رہی ہیں تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری آزادی کی نوعیت کیا ہے۔ قرضوں کا حصول کسی بھی معیشت کے لیے ناگزیر ہو سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ قرضے کن شرائط پر لیے جا رہے ہیں اور ان کا بوجھ کس پر ڈالا جا رہا ہے؟ اگر ہر مرتبہ عوام ہی اضافی ٹیکس، مہنگائی، اور بنیادی سہولتوں کی کٹوتی کی شکل میں اس بوجھ کو برداشت کریں گے جبکہ طاقتور طبقے مراعات سے مستفید ہوتے رہیں گے تو یہ ناانصافی ناقابلِ قبول ہے۔ ملک کی اقتصادی پالیسی سازی میں شفافیت اور جوابدہی کا ہونا ضروری ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر قرضے لینے ہیں تو اس پر قومی سطح پر بحث ہونی چاہیے اور عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے ریفرنڈم جیسا جمہوری طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، جن حکومتی عہدیداران کے فیصلوں سے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہے انھیں بھی جوابدہ بنانا چاہیے۔ یہ عجیب بات ہے کہ قرض عام آدمی کی ہڈیوں کو نچوڑ کر اتارے جاتے ہیں اور جو قرض لینے کا فیصلہ کرتے ہیں ان سے یہ تک نہیں پوچھا جاتا کہ آپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا اور فیصلہ کرتے ہوئے کن عوامل کو پیش نظر رکھا گیا۔ پاکستان کے حکمران طبقات کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ملک کسی ایک جماعت، بیوروکریسی یا طاقتور طبقے کی جاگیر نہیں، معیشت گروی رکھ کر وقتی فوائد حاصل کرنے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی ورنہ تاریخ ایسے فیصلے کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
واپس کریں