افضال ریحان
امریکی صدور بھی بالعموم مدبر شخصیات رہی ہیں لیکن اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ امریکا میں بہت سی دیگر چیزوں کی طرح صدور کا معیار بھی خاصا گر رہا ہے۔ ہم بائیڈن پر تنقید کرتے تھے لیکن ٹرمپ نے تو اخیر ہی کر دی ہے۔ انہیں Unpredictable تو کہا ہی جاتا ہے لیکن اپنی حرکات کی طرح زبان پر بھی انہیں کوئی کنٹرول نہیں، بلا ضرورت اور بلاجواز بولے چلے جاتے ہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا ہے پچھلے روز کیا کہا تھا۔ اتنی بڑی مسند پر اتنا کھلنڈرا اور غیر ذمہ دار آدمی؟ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اتنا ھولا آدمی بالفرض اگر کسی استبدادی یا غیرجمہوری ریاست کا حکمران بن جاتا تو کیا ہوتا؟ وہ امریکی سسٹم کو تو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے کہ جب تک نقصان زیادہ پھیلے گا انکی مدت پوری ہوچکی ہوگی۔ جب گولی انکے کان کو چھو کرگزری تھی تو ایک امید بندھی تھی کہ ایک نئی زندگی پا کر وہ ضرور انسانیت کیلئے کچھ نہ کچھ ایسا کر جائینگے جو یاد رکھا جاسکے مگر اب تک انہوں نے جو بھی فیصلے کیے ہیں یا تھوک کے حساب سے جو ایگزیکٹو آرڈرز جاری کیے ہیں ان میں شاید ہی کوئی قابلِ تحسین ہو۔ یہ نعرہ لگا دینا کافی نہیں کہ ’’میں دنیا سے جنگوں کا خاتمہ کردوں گا‘‘ اگر ایسا دعویٰ ہے تو اسکی مطابقت میں کچھ ہوتا دکھائی بھی تو دے اور پھر جنگوں کا غیرمنصفانہ اختتام بھی کیسے قابلِ تحسین قرار پا سکتا ہے۔
اس امر میں کیا کوئی الجھاؤ ہے کہ روسی صدر پیوٹن نے یوکرین پر ناجائز دھاوا بولا تھا۔ مانا کہ کچھ کوتاہیاں زیلنسکی کی بھی تھیں جنہیں کوتاہیوں سے زیادہ حکمت عملی کا فقدان کہا جا سکتا ہے۔ اگر انہوں نے نیٹو میں شمولیت کا عندیہ ظاہر کیا تھا تو یہ کسی بھی آزاد و خودمختار ریاست کا بونافائیڈ رائٹ ہے۔ ہمسایہ بڑی طاقت کو اس سے قطعی یہ جواز نہیں ملتا ہے کہ وہ اس پر چڑھائی کردے۔ آج اگر صدر ٹرمپ زیلنسکی کو غیر ذمہ دار آمر قرار دے رہے ہیں جس نے حالتِ جنگ میں الیکشن نہیں کروائے لیکن یہ یکطرفہ بیان صدر ٹرمپ کی ایک طرح سے زیادتی ہے۔ انہیں سفید چادر کے چند دھبے تو دکھتے ہیں لیکن کالی سیاہ چادرکو وہ اپنے مفادات کی خاطر قصداً نہیں دیکھ رہے۔
جب سےٹرمپ اپنا دوسرا حلف اُٹھانے کے بعد وائٹ ہاؤس میں براجمان ہوئے ہیں اپنے یورپی اتحادیوں کو برے طریقے سے کوس رہے ہیں انکے نائب نے بھی میونخ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ آج ٹرمپ کی اس غیر ذمہ دارانہ بیان بازی سے یورپین اتحادیوں میں کئی ایک خدشات جنم لے چکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود فرانسیسی صدر میکرون اور برطانوی پرائم منسٹر کیر اسٹارمرنے وائٹ ہاؤس میں اپنی ملاقاتوں کے دوران کوئی زیادہ لگی لپٹی نہیں رکھی۔ تمامتر امریکی اثرورسوخ اور ٹرمپ دبدبے کے باوجود انہوں نے نہ صرف یوکرین کے حوالے سے ٹرمپ کو یہ احساس دلانے کی کاوش کی کہ وہ یوکرین کے معاملے میں پیوٹن کی خوشنودی کیلئے بڑی بےانصافی کی طرف نہ جائیں جنگ بندی ضرور ہونی چاہئے لیکن اس جنگ میں جارح یوکرینی صدر زیلنسکی نہیں روسی صدر پیوٹن ہیں۔
اب ٹرمپ کی بیان بازیوں نے یورپین اتحادیوں کے سامنے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں یہ کہ کیا انہیں اپنے وسائل بدستور عوامی بہبود پر خرچ کرنے کی بجائے اسلحہ بارود کی آگ میں بھسم کردینے چاہئیں؟ چائنہ کی مخالفت میں ٹرمپ جس طرح روس سے قربتیں بڑھانا چاہتے ہیں۔ کیا یورپین اتحادیوں کو بھی ٹٹ فار ٹیٹ کے تحت چائنہ کیلئے اسی طرح کا نرم گوشہ دکھانا چاہئے؟ کیا یورپین طاقتوں کو اپنی قومی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں ازسرِنو تشکیل دینا ہوگا؟ امریکا کے یہ یورپی اتحادی یوکرین کو انصاف دلوانےکیلئےٹرمپ پر کس حد تک اثرانداز ہوسکیں گے؟ امریکی صدر اپنے سابقہ و حالیہ امداد و تعاون کے بدلے یوکرین سے معدنیات نکالنے کا مفاداتی معاہدہ کرینگے تو اسے روس اور یورپ میں کیسے دیکھا جائیگا؟درویش کی نظروں میں ٹرمپ کی بھڑکاؤ پالیسیوں یا بیانات سے جتنا بھی ارتعاش پیدا ہو رہا ہے اور بظاہر جتنی بھی خلیج امریکا و یورپ کے درمیان بڑھتی دکھتی ہے اسکی حیثیت دائمی نہیں ہنگامی ہے۔ ٹرمپ کا نعرہ ”فرسٹ امریکا“ کسی بھی طرح عالمی حوالے سے امریکا کے وسیع تر مفاد میں نہیں ۔ کوئی بھی عالمی طاقت گریٹر بنتی ہی تب ہے جب وہ دوسروں کو خودسے کاٹتی نہیں جوڑتی ہے اور اس کیلئے اُسے کچھ لینا نہیں دینا اولیت ہوتی ہے بڑاوہی کہلاتا ہے جو قربانی دے اور خرچ کرے، ہاں البتہ ان ہر دو اپروچوں میں ایک نوع کا توازن ضروری ہے۔ ٹرمپ کی صلاحیتوں کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو نہ صرف یہ کہ کس طرح ساتھ لے کر چلتے ہیں بلکہ ان کا دائرہ کتنا وسیع کرتے ہیں۔ یورپ کے علاوہ آسٹریلیا، انڈیا، جنوبی کوریا، ویتنام جاپان اور بالخصوص تائیوان کے حاصل تعاون کو وہ کس حد تک مؤثر بناپاتے ہیں۔ اس کے بین بین مڈل ایسٹ کے متعلق ان کی پالیسی کیسی ثابت ہوتی ہے؟
کیا وہ یہاں امریکی و اسرائیلی مفاد میں کوئی بڑا ڈینٹ ڈالنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں یا لفظی شعلے اگلتے رخصت ہوجاتے ہیں، درویش کی نظر میں وہ ادھر جتنا گرجیں گے اتنا برسیں گے نہیں البتہ یہ کوشش ضرور کریں گے کہ کسی بھی طرح ایران اور اس کی پراکسیوں کو اوپر نہ اٹھنے دیں اور وہ اس لیے کہ یہ پراکسیاں اب پہلے جیسی منظم ،متحرک اور موثر نہ رہ پائیں ۔رہ گیا غزہ کامستقبل ،اس پر بحث اگلے کالم میں۔
واپس کریں