دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاک ہند تعلقات میں بہتری کیسے؟‎
افضال ریحان
افضال ریحان
محترم شامی صاحب اور جناب سہیل وڑائچ صاحب کے ہمراہ گزشتہ روزمقامی ہوٹل میں سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری کی افطاری میں شرکت کا موقع ملا تو وہاں اپنے صحافی بھائیوں اور دانشوروں کی ایک بہار تھی۔ قصوری صاحب نے اپنے ادارے انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کنیکٹوٹی کے زیراہتمام اپنے انڈین دوست اشیش رے کے اعزاز میں یہ افطار ڈنر منعقد کیا اس میں خود ان کی اور مہمان گرامی کی تقاریر انہماک اور دلچسپی سے سنی جا رہی تھیں سوالات کی بھی طویل نشست ہوئی۔‎ سابق وزیر خارجہ اپنے میلان اور وژن کے مطابق پاک بھارت بہتر تعلقات کیلئے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی پروگرام ترتیب دیتے رہتے ہیں جن میں ملک کی نامور شخصیات شرکت فرماتی ہیں۔‎آئی پیک کے چیئرمین جناب خورشید محمود قصوری نے انڈوپاک تعلقات پر سیرحاصل گفتگو کی اور حالاتِ حاضرہ کا بھی خوب جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں صدر ٹرمپ کی جیت کے بعد پوری دنیا میں خواہ وہ امریکا کے دوست ہیں یا دشمن ایک نوع کا ارتعاش یا طوفان آیا ہوا ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ یہ دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ بدلتے جیوپولیٹکل حقائق پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی دونوں ممالک کیلئے خطرہ ہے اور کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق سیکرٹری خارجہ شیام سرن کے ایک حالیہ مضمون کا حوالہ دیا ساتھ ہی انڈوپاک تعلقات کے نشیب و فراز کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اپنے انڈین مہمان جناب اشیش رے کا تفصیلی تعارف کروایا یہ بھی کہا کہ ہمارا خطہ ترقی کے میدان میں چین جاپان اور آسیان ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے دونوں ممالک کیلئے لازم ہے کہ وہ باہم لڑنے کی بجائے اپنے خطے میں موجود غربت سے لڑیں، عوامی پسماندگی دور کریں۔ ‎انڈین صحافی، مصنف اور تجزیہ کار اشیش رے سی این این ساؤتھ ایشیا کے بیوروچیف رہے ہیں اور پاک ہند پیس ایکٹیوسٹ کی پہچان کے حامل ہیں۔ سیمینار کے بعد اشیش رے سے انکے کمرے میں تفصیلی تبادلۂ خیالات اور انٹرویو کا موقع میسر آیا تو سب سے پہلا سوال یہ پوچھا کہ آپ کے بزرگ سبھاش چندربوش بلاشبہ آزادئ ہند کے ہیرو مانے جاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی جدوجہد کا جو راستہ اپنایا وہ ایک نوع کی ملیٹینسی یا تشدد کے جواب میں تشدد کا تھا جبکہ جدید ہند کے باپو مہاتماگاندھی اول و آخر عدم تشدد Non violence کے علمبردار تھے آپ ان دونوں کی بالمقابل راہوں کے حوالےسے کیا کہیں گے؟ ‎سبھاش چندربوس سے اپنی نسبت یا رشتہ داری کے باوجود وہ مہاتما گاندھی کی عظمت اور عدم تشدد کی پاسداری پر کھل کر بولے مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے آدرشوں سے ہی نہ صرف یہ کہ ہندوستان آزاد ہوا بلکہ وہ دونوں جدید ہند کے معمار ہیں۔ انگریز دشمنی میں بوس نے جس طرح ہٹلر اور اس کی ہمنوا طاقتوں سے تعلقات استوار کیے، اشیش رے کے جواب سے ایسے چبھتے سوالات کی نوبت ہی نہ آئی البتہ آئین سازی کے حوالے سے انہوں نے انڈین آئین کا تقابل پاکستان سے کرتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ انڈین آئین میں کسی نوع کی مذہبیت نہیں ہے پنڈت جواہر لعل نہرو تو ویسے ہی اتھیسٹ تھے اور کسی مخصوص مذہب پر یقین نہیں رکھتے تھے جبکہ مہاتما گاندھی انڈین سوسائٹی اور زمینی حقائق کی مطابقت میں تمام مذاہب کے احترام پر ایمان رکھتے تھے اور کسی ایک مذہب کو دوسرے پر حاوی کرنے کیخلاف تھے۔ جدید انڈیا کی بنیادیں انہی آدرشوں پر استوار ہیں اس سب کے باوجود پرائم منسٹر مودی اور انکی بی جے پی کے دور میں مذہبی تنگناؤں کی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اگرچہ یہ حکومتی سطح پر نہیں ہوتیں مگر ان کی پارٹی کے لوگ اس نوع کے تعصبات سے ہوگزرتے ہیں۔ انڈین مصنف اور صحافی کا استدلال تھا کہ ہمیں اپنا تقابل کسی دوسرے ہمسایہ سے کرنے کی بجائے اپنا معیار بلند تر کرنے کا سوچنا چاہیے۔ دوسروں پر تنقید کرنا سب سے آسان ہوتا ہے۔ ہم سب کو اپنی درستی کیلئے فکر مند ہونا چاہئے۔ درویش کے اس سوال پر کہ آپ مودی حکومت کو کیا کہنا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان سے کس نوع کا معاملہ کریں، جناب اشیش رے کا کہنا تھا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کیلئے بہتری اسی میں ہے کہ وہ فی الوقت کشمیر اور ٹیررازم کے ایشوز کو کم از کم وقتی طور پر کارنر کرتے ہوئے عوامی مفاد یا بہبود کے دیگر جتنے بھی معاملات ہیں انہیں زیرِ بحث لائیں،تجارتی تعلقات استوار کریں، تعلقات بڑھانے میں اس وقت کرکٹ کی بڑی اہمیت ہے۔ دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیمیں بجائے دبئی میں کھیلنے کے ہر دو ممالک میں آئیں اور کھیلیں، فلم میکرز اور موسیقاروں کے وفود دونوں ممالک میں آئیں جائیں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں۔ ہمارے اس سوال پر کہ کیا اس سے پہلے یہ لازم نہیں ہے کہ دونوں ممالک اپنے ہائی کمشنرز کی بحالی کرتے ہوئے سفارتی تعلقات کو بہتر بنائیں۔ جناب اشیش رے بولے اس حوالےسے تو کوئی تاخیر ہونی ہی نہیں چاہیے۔ پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم کہیں کسی دوسرے ملک میں بھی اگر باہم ملیں تو ان کا فوری فیصلہ یہی ہونا چاہئے اس وقت دونوں ممالک کے شہریوں کو ویزوں کے حصول میں جو دشواریاں درپیش ہیں ان کا حل اسی طرح نکلے گا۔ کتنے لوگ ہیں جو ہمارے ان دونوں دیشوں میں آنا جانا چاہتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ ان پر یہ بندشیں کیوں ہیں؟ پاکستان سے کتنے لوگ ہیں جو علاج معالجے یا کڈنی ٹرانس پلانٹ کیلئے انڈیا آیا کرتے تھے دونوں اطراف کے نیتاؤں کو عام جنتا کی بھلائی اور دکھوں سے مکتی کا سوچنا چاہئے۔
واپس کریں