
ہمارے خطے میں ایک بار پھر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کو حملے کی دھمکی دے دی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام بند کرے اور امریکہ کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرے ورنہ سنگین نتائج بھگتے گا۔ دوسری جانب ایرانی حکومت نے کہا کہ امریکہ کی بات ماننا تو دور، وہ امریکہ سے براہ راست مذاکرات بھی نہیں کریں گے۔ یمن پر حالیہ امریکی حملہ "maximum pressure" پالیسی کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں ایران کے اردگرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی یے۔ 2015 میں اوبامہ کے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی پروگرام کے حوالے سے معاہدہ طے پایا تھا جس کی اقوام متحدہ کے مطابق ایران نے مکمل پاسداری کی تھی۔ لیکن 2018 میں ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور ایران پر خوفناک اقتصادی پابندیاں لگوادیں اور اب معاہدے کو ہی بنیاد بنا کر ایران ہر حملے کی تیاری کی جارہی یے۔ اس سب کھیل میں امریکہ اور اسرائیل کے کیا مقاصد ہیں؟
اس سوال کا جواب تاریخی پس منظر میں ڈھونڈنا ہوگا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایران کا رول مشرقی وسطی میم خلیجی ریاستوں کی طرح کا ہی تھا۔ ایک تو یہ خطے میں سوویت یونین اور دیگر سوشلسٹ قوتوں کے خلاف امریکی اڈے کے طور پر کام کرتا تھا۔ دوسری طرف مغرب کی کوشش تھی کہ مشرقی وسطی کا تیل خطے کی اندرونی معیشیت کو بہتر کرنے کے بجائے امریکی اور برطانوی کمپنیوں کے زیر تسلط رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران میں محمد مصدق کی حکومت 1951 میں منتخب ہوئی اور اس نے تیل کی کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کی جرات کی تو ان کمپنیوں نے سی آئی اے اور MI6 کے ساتھ مل کر 1953 میں مصدق کا تختہ الٹا دیا۔ اس کے بعد شاہ کی آمریت قائم ہوئی۔ افسوس ہے کہ کچھ لبرل آج اس آمریت کا دفاع کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ امریکہ کے زیر تسلط ایک بدترین دور تھا جس میں دانشوروں سے لے کر طلبہ، خواتین، کسان اور مزدور رہنماوں پر "سوشلسٹ" ہونے کا الزام لگاکر ہزاروں لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ شاہ اور امریکہ کے خلاف وسیع پیمانے پر نفرت کی نتیجے میں ہی 1979 میں آئیت اللہ خمینی حکومتی تختہ الٹنے میں کامیاب ہوئے۔
یہ امریکہ کے لئے ایک بڑا دھچکا تھا اور اس کا جواب تشدد کے ذریعے دیا گیا۔ 1980 میں عراق میں صدام حسین کو استعمال کرکے ایران پر حملہ کروایا گیا اور امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ عراق کو خلیجی ریاستوں کی حمایت بھی دلوائی گئی۔ صدام حسین اپنے وقت کا زیلینسکی تھا جس کو امریکہ نے خطے میں تباہی کے لئے استعمال کرنے کے لئے کیمیائی ہتھیار تک دیئے لیکن 1990 میں اسی "ہیرو" پر بدترین اقتصادی پابندیاں لگا دیں جن کی وجہ سے ہزاروں عراقی بچے مارے گئے۔ لیکن عراق کے برعکس جنگوں اور پابندیوں کے باوجود ایران کمزور نہیں ہوا اور 90 کی دہائی میں اس نے اپنے لئے متبادل تجارتی مواقع ڈھونڈے جن میں چین، روس، لاطینی امریکہ اور چند یورپی ممالک سرفہرست تھے۔ آہستہ آہستہ ایران کی بڑھتی اقتصادی اور عسکری طاقت خطے میں امریکہ نواز خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے لئے پریشانی کا باعث بننا شروع ہوگئی۔
9/11 کے بعد امریکہ نے افغانستان کے علاوہ عراق، ایران اور شمالی کوریا کو axis of evil کا لقب دیا۔ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار موجود تھے اس لئے ان ہر حملہ کرنے کا امریکہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ کیا جائے لیکن جارج بش کی ٹیم کا خیال تھا کہ عراق پر حملہ کرکے امریکہ ایران کو بھی کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ لیکن حقیقت میں اس کے بلکل برعکس ہوا۔ 2003 کے عراق پر حملے کے بعد امریکی قبضے کے دوران ایران نواز گروہ، جن کو صدام ہلنے نہیں دیتا تھا، وہ امریکہ مخالف مزاحمت کا بھی حصہ بنے اور عراقی حکومت کو بھی کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی دوران ایران کی مدد سے حزب اللہ نے اپنی عسکری طاقت مظبوط کرلی اور 2006 میں پہلی بار لبنان کے اندر اسرائیلی جارحیت کو تاریخی شکست دی۔ اسی سال فلسطین میں ایران کی حمایت یافتہ حماس نے الیکشن جیت لئے جبکہ اس دوران کیوبا کے فیڈل کاسترو، وینیزویلا کے ہوگو چاویز اور تسیری دنیا کے وہ تمام لیڈران جن کا امریکہ کے ساتھ تضاد بڑھ رہا تھا، ایران کے قریب ہونا شروع ہوگئے۔ اس کی بنیاد نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ عملی سیاست کے تقاضے تھے جو امریکہ مخالف کیمپ کو جڑنے پر مجبور کررہے تھے۔
2006 میں حماس پر پابندیاں، غزہ پر مسلسل بمباری اور نسل کشی، شام پر پابندیاں اور بمباری، لیبیا ہر بمباری، لبنان پر بمباری، یمن پر بمباری، عراق پر قبضہ، مصر اور بحرین میں آمریت، اور اسرائیلی توسیع پسندی اس تمام کھیل کا حصہ ہے جس میں کسی بھی متبادل قوت کو جو امریکی اور اسرائیلی مفادات چیلنج کرے کچل دیا جائے گا۔ میں پہلے کئی بار لکھ چکا ہوں کہ امریکہ کی اب نہ خواہش ہے اور نہ ہی وہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ کسی ملک کو ترقی دلواسکے۔ یوکرائن سے لے کر افغانستان اور مشرقی وسطی سے لاطینی امریکہ تک وہ صرف عسکری قوت کے ذریعے ان ریاستوں اور گروہوں کو تباہ کرسکتا ہے جو اس کے راستے میں رکاوٹ بنیں۔ یعنی یہ پالیسی destruction without reconstruction ہے جس میں عسکری طاقت کے ذریعے تیسری دنیا کے معاشروں کی اجتماعی محنت کو تباہ کردیا جائے گا جیسے لیبیا اور شام میں کیا گیا جن کو آج تباہ کرکے 1950 کے development indicators تک پہنچا دیا گیا یے، یعنی پچھلے 75 سالوں کی ان کی محنت ضائع کردی گئی ہے۔ یہی معاملہ اب ایران کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں جس کو کبھی جمہوریت اور کبھی "عورتوں کے حقوق" کے لبادے میں اوڑھ کر مغربی میڈیا میں بیچا جائے گا۔ اور اس ہولناک پالیسی کا آخری ہدف چین کی تباہی ہوگا تاکہ کوئی متبادل سامنے نہ آسکے۔
اس سب کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟ سب سے پہلے تو وہ رجحان آج بھی موجود ہے جو جنگوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اگر پاکستان کو ایک بار پھر پراکسی بنایا گیا تو ڈالروں کی بھرمار ہوگی اور جنگی کاروبار مزید مستحکم ہوگا۔ دوسری جانب بلوچستان کے حالات مزید پیچیدہ ہوں گے کیونکہ اس جنگ کا سب سے زیادہ اثر پاکستان ایران بارڈر پر پڑے گا جس کی وجہ سے عسکری لڑائی میں شدت آنے کا خدشہ ہے۔ کیونکہ آخری ہدف چین ہے، تو اس کے ساتھ خیبر پختونخواہ میں جہاد کا ڈرامہ پھر رچایا جاسکتا ہے جس کے زریعے افغانستان اور سنٹرل ایشیا میں سنکیانگ کی "قومی آزادی" کے لئے بین الاقوامی جہاد کیا جائے جس کا بندوبست ابھی سے سی آئی آئے کررہی ہے۔ اس کے ساتھ پنجاب اور گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا جس سے خون خرابہ بھی بڑھے گا اور عوامی یکجہتی بھی مشکل ہوجائے گی۔
ہمارے لئے ضروری ہے کہ ملک میں جنگ مخالف محاز بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی صورتحال پر لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ اسے کوئی فرقہ وارانہ ایشو نہ بنایا جائے بلکہ امریکہ کی اس خطے میں پچھلے 80 کی پالیسی کا تسلسل اور اس کے بحران کے طور پر دیکھا جائے۔ ساتھ یہ بھی ضروری یے کہ چھوٹی شناختوں میں بٹ کر مزاحمت ہمیں نہ صرف غیر موثر کردے گی بلکہ بدلتی ہوئی دنیا میں لاشعوری طور پر اغیار کا نمائندہ بنادے گی۔ اگر اندرونی اور بیرونی عسکریت پسندوں سے مقابلہ کرنا ہے تو یہ وسیع اتحاد اور وسیع سوچ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تاریخی پس منظر میں اس خطے میں امریکی جنگوں کی مخالفت اور ان کے خلاف جدوجہد ہی آج ہمارا اولین تاریخی فریضہ ہے۔
امریکہ نے ہمارے خطے کے لئے ایک جنگ زدہ اور تباہ حال مستقبل کا نقشہ کھینچ لیا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان موت کے سوداگروں سے کیسے مقابلے کرتے ہیں۔ تاریخ اس مقام پر ہمیں لے آئی ہے کہ ہم اب نیوٹرل نہیں رہ سکتے۔ امن یا بربریت، ترقی یا جنگ، یکجہتی یا نفرت، یہی آپشن موجود ہیں۔
واپس کریں