دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عمران خان کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اسٹیبلشمنٹ سے دوبارہ ’رابطہ‘ قائم کرنے کی ہدایت
No image پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے اعلیٰ حلقوں میں بڑھتے ہوئے اختلافات کے درمیان، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور ان کے ساتھی نے بدھ کے روز جیل میں بند پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے اندرونی اختلافات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی پنجاب کے صدر حماد اظہر نے بھی اسی روز پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
وزیراعلیٰ کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف نے ’ڈان‘ سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان نے مبینہ طور پر وزیراعلیٰ گنڈاپور سے کہا کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ رابطے میں رہیں۔
ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکام کے مطابق وہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کیے بغیر چلے گئے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات سابق وزیر اعظم سواتی اور عمران خان کے درمیان منگل کو ہونے والی ملاقات کا تسلسل ہے۔
منگل کے روز پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجا اور دیگر اڈیالہ جیل پہنچے اور سلمان اکرم نے حکام کو ان افراد کی فہرست فراہم کی، جنہیں عمران خان سے ملاقات کرنی تھی، تاہم سلمان اکرم راجا کوہی اندر جانے سے روک دیا گیا، جب کہ اعظم سواتی کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دی گئی، جیل ذرائع نے دعویٰ کیا کہ عمران خان سلمان اکرم راجا سے ملنے کو تیار نہیں تھے۔
بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارٹی کے بانی سلمان اکرم راجا سے ملنے کو تیار نہیں تھے، اعظم سواتی نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کو یقین دلایا کہ سلمان اکرم راجا پارٹی کے ساتھ مخلص ہیں اور اصولوں پر قائم ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان کے ساتھ بات چیت کی بنیاد پر کے پی حکومت میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور عمران خان کے درمیان ملاقات کے دوران سیاسی اور سیکیورٹی سمیت کے پی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسٹیبلشمنٹ سے دوبارہ رابطہ
ڈان سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے کہا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ رابطے میں رہیں۔
انہوں نے کہا کہ خان صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مسائل کی وجہ سے ملک اور پاکستان کے عوام مشکلات کا شکار ہیں، اور ان کی جماعت واحد وفاقی جماعت ہے، جس کی جڑیں تمام صوبوں میں ہیں اور ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کو حل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سابق وزیراعظم سے کے پی کی صورتحال، دہشت گردی اور پارٹی کے اندرونی معاملات سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا، اس طرح کچھ بھی نیا نہیں تھا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین نے وزیراعلیٰ کو ملک کی بھلائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ منسلک ہونے کی اجازت دی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی اعتماد کا فقدان ہے اور بامعنی مذاکرات کے لیے درجہ حرارت کو معقول سطح پر لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بیرسٹر سیف نے پارٹی کو بیرون ملک کچھ یوٹیوبرز سے دور رکھا، جو پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں، انہوں نے دلیل دی کہ ہمارا ان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، ہم نے ان سے کسی بھی تعلق سے انکار کر دیا ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پارٹی سربراہ نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے کوئی شرائط رکھی ہیں؟ بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ کوئی بھی بات چیت آئین اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہ کر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور وزیراعلیٰ نے انہیں اس سلسلے میں افغان طالبان تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کی اجازت کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا، لیکن وفاقی حکومت اس درخواست پر کوئ جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ پارٹی امور، بالخصوص اعظم سواتی اور اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی کے درمیان اختلافات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ بانی نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ وہ قائدانہ کردار ادا کریں اور دونوں پارٹی شخصیات کے درمیان اختلافات کو حل کریں۔
حماد اظہر کا استعفیٰ
واضح رہے کہ حماد اظہر 9 مئی 2023 سے عوام کی نظروں سے دور تھے، اور انہوں نے پی ٹی آئی پنجاب چیپٹر کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
حماد اظہر نے ایکس پر ایک پیغام میں اپنے استعفے کا اعلان کیا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ اعظم سواتی نے عمران خان سے شکایت کی تھی کہ وہ پارٹی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے عالیہ حمزہ سے بات کی اور پوچھا کہ کیا وہ ان کی پارٹی کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تو انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی رکاوٹ محسوس نہیں ہوئی‘۔
حماد اظہر نے کہا کہ وہ پارٹی کارکن کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔
جیل کے باہر کوئی کیمپ نہیں
پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
تاہم پارٹی رہنماؤں کے دعوؤں کے باوجود پی ٹی آئی عید کے دنوں میں جیل کے باہر احتجاجی کیمپ نہیں لگا سکی۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے پی کے سربراہ جنید اکبر نے رمضان المبارک کے دوران اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکن جیل کے باہر احتجاجی کیمپ لگائیں گے، تاکہ جیل کے بانی چیئرمین سے اظہار یکجہتی کیا جاسکے، تاہم مرکزی قیادت نے اس بیان سے خود کو الگ کر لیا تھا۔
عید کے دوسرے اور تیسرے روز پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ، اعظم سواتی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، بیرسٹر سیف اور دیگر جیل پہنچے لیکن مقصد احتجاج کرنے کے بجائے عمران خان سے ملاقات کرنا تھا۔
بشکریہ۔ڈان نیوز
واپس کریں