دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
فتنہ عمرانیہ کیسے ختم ہو؟
No image صوبہ پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع میں چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع ہیں، ٹوٹی سڑکوں کی مرمت، فلائی اوورز اور انڈر پاسزز بنائے جا رہے ہیں، ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا جا رہا ہے، سرکاری اداروں، اسپتالوں اور پولیسنگ کا نظام بہتر ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہے۔باالفاظِ دیگر صوبہ پنجاب کی حکومت دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
خاکسار پہلے بھی بار ہا عرض کرتا رہا ہے کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف جو ملک گیر فتنہ بن چکا ہے کا مقابلہ سیاسی سطح پر کرنا ہے تو یہی ایک راستہ اور طریقہ سے جس پر چل کر پاکستان مسلم لیگ ن سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔26 ویں آئینی ترمیم ہو،پیکا ایکٹ یا پھر کوئی اور قانون جس کے سہارے پی ٹی آئی یا اس کے سوشل میڈیا فتنہ کو کچلنا مقصود ہو تو اس کا کوئی فائدہ کم از کم ابھی تک دیکھنے میں نہیں آیا۔گوڈ گورنس،تعمیر و ترقی اور عوامی ریلیف ہی وہ واحد راستہ ہے جس کو اپنا کر پی ٹی آئی کے عام ورکر یا ووٹر کو راہِ راست پر لایا جا سکتا ہے۔
جہاں تک بیرونِ ممالک میں بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی سوشل میڈیا فتنہ کا تعلق ہے تو اس ضمن میں حکومت کو سنجیدہ توجہ دینا ہو گی یعنی بیرونِ ممالک میں پاکستان مسلم لیگ ن کی تنظیموں کو فعال کرنا ہو گا اور ان کے زریئے اپنے سوشل میڈیا کو حرکت میں لانا ہو گا۔
اندرون ملک اور خاص طور پر بیرون ِ ممالک میں موجود پی ٹی آئی کے پاس سوشل میڈیا ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس کے زریعے وہ ریاست کے خلاف جنگ میں مصروفِ عمل ہے،حکومت اور ریاست کو بھی اسی ہتھیار کے ساتھ فتنہ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے چاہے اس کے لیئے سرمایہ کاری ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ پی ٹی آئی کے جھوٹ اور فتنہ کے جواب میں حکومت یا ریاست کی جانب سے محض الزام سازی یا بیان بازی سے مذکورہ فتنہ کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔اس کے لیئے عملی طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو اوپر بیان کیئے جا چکے ہیں اور ساتھ میں ریاست اور حکومت کو اپنے سوشل میڈیا سیلز کو بھی فعال بنانے کی ضرورت ہے تا کہ پی ٹی آئی کے جھوٹے پراپوگنڈے کا بھر پور مقابلہ کیا جا سکے۔
لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے،محض بیان بازی یا مذمت کرنے سے پی ٹی آئی کا فتنہ ختم نہیں ہونے والا۔
واپس کریں