دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کاٹلنگ میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور ماضی کے آپریشنز کی روداد
No image (خصوصی رپورٹ ۔ خالد خان)ضلع مردان کے تحصیل کاٹلنگ کا پہاڑی سلسلہ خیبر پختونخوا میں ایک ایسے مرکزی مقام پر واقع ہے جو صوابی، سوات اور بونیر کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ ہزارہ اور گلگت بلتستان تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ پہاڑ جو 3500 سے 4000 فٹ تک بلند ہیں، کھڑی چٹانوں، گہرے غاروں اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہیں۔ کاٹلنگ کا پہاڑی حصہ قریبی آبادی سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جب کہ دیگر مقامی آبادیوں تک اس کا اوسط فاصلہ 9 کلومیٹر بنتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ کبھی بھی مقامی آبادی کے لیے دلچسپی کا باعث نہیں رہا ہے کیونکہ اس کی قدرتی پیداواری صلاحیتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ غیر قانونی طریقے سے قیمتی پتھر اور نوادرات نکالنے کے لیے یہاں مختلف سمگلرز مقامی سہولت کاروں کے ساتھ کھدائی اور کان کنی میں مصروف رہتے ہیں۔ ان سمگلرز گروپوں کا جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد گروپوں کے ساتھ بھی تعلقات ہوتے ہیں۔ ایسے گروپوں کو متعلقہ سرکاری محکموں اور مقامی پولیس کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے۔
مردان کے تحصیل کاٹلنگ کے پہاڑوں میں ابتدائی انسانی تاریخ کی غاریں موجود ہیں۔ یہ غاریں انتہائی مہارت کے ساتھ تراشی اور بنائی گئی ہیں جو قدیم انسانوں کے فن تعمیر کے اعلی نمونے ہیں۔ روشنی اور ہوا کے بہترین انتظامات کے علاوہ موسمی حالات سے موافقت بھی ان غاروں کا وصف ہے۔ ان غاروں کی تعمیر میں زندگی گزارنے کی مکمل ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے۔ تعمیر کے وقت ان غاروں کے محل وقوع کا خاص خیال رکھا گیا ہے جو انسانی حملوں اور درندوں کے یلغار کے وقت نہ صرف یہ کہ مضبوط دفاعی حصار فراہم کرتی ہیں بلکہ پسپائی کی صورت میں دشمن کے نرغے سے نکلنے کے لیے ان غاروں میں محفوظ گزرگاہیں بھی بنی ہوئی ہیں۔ یہ غاریں اور پہاڑیں قانونی طور پر محکمہ آثار قدیمہ اور معدنیات کی ملکیت ہیں اور ان کا تحفظ اور رکھوالی متعلقہ وزارتوں کی ذمہ داری ہے، جو ادا نہیں کی جارہی ہے۔ یہ پہاڑیں شاملاتی اراضی گردانی جاتی ہیں اور مختلف پشتون ذیلی قبیلوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ کوئی ایک ملکیتی دعویدار نہ ہونے کی وجہ سے یہ پہاڑی سلسلے تقریبا متروکہ جائداد کا عملی نمونہ ہیں۔ شروع سے یہ پہاڑی سلسلے اور غاریں جرائم پیشہ افراد کے محفوظ ٹھکانے تھے لیکن دہشت گردی کے آغاز کے ساتھ ہی یہ پہاڑیں اور غار دہشت گردوں کے تصرف میں بلا شرکت غیرے چلی گئیں۔ ان علاقوں سے وقتاً فوقتاً دہشت گرد کاروائیاں ہوتی رہی ہیں اور متعدد پولیس مقابلے بھی ہوچکے ہیں، جس میں زیادہ تر دہشت گردوں نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ڈی ایس پی فرید بنگش کی دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں شہادت سے لے کر ایس پی اعجاز خان کی شہادت تک پولیس نے بھاری جانی نقصانات اٹھائے ہیں۔ ڈی ایس پی فاروق بھی اسی علاقے میں دہشت گردوں سے مقابلے میں شدید زخمی ہوچکے تھے۔ پولیس کے علاوہ وقتاً فوقتاً یہاں پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے بھی دہشت گردوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی تھیں جس میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں ہوئیں۔
ان تمام ناکام آپریشنز کا ایک اجمالی جائزہ اس پیچیدہ علاقے کی مکمل تصویر شاید بہتر انداز میں پیش کر سکے۔
اگست 2019 میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران مخبری کی وجہ سے میجر سمیت تین جوان زخمی ہوئے، جس کے بعد ایک بریگیڈ آپریشن کیا گیا، مگر دہشت گرد پہلے ہی فرار ہو چکے تھے۔ 27 فروری 2024 کو پولیس کے ایک آپریشن میں ایس پی اعجاز خان شہید اور تین جوان زخمی ہوئے، مگر اس کارروائی میں دہشت گرد محسن قادر، جس کے سر پر 7 ملین کا انعام مقرر تھا، اور عباس، جس کے لیے 5 ملین کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا، مارے گئے۔ 4 اگست 2024 کو سی ٹی ڈی کے ایک آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ 29 مارچ 2025 کو ایک ڈرون حملے میں 16 سے 18 دہشت گرد مارے گئے، جن کی لاشیں زندہ بچ کر بھاگنے والے دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے۔ تاہم سیکیورٹی اداروں کو مارے گئے 14 دہشت گردوں کی شناختی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس کارروائی میں سوات سے تعلق رکھنے والے 9 چراواہے بھی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔ ان چرواہوں کے بارے میں متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ چرواہا خاندان دہشت گردوں کا سہولت کار تھا جو معصوم بچوں اور خواتین کا آڑ لیے ہوئے تھا۔ مقامی لوگ سیکیورٹی اداروں کے اس موقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں معصوم شہری قرار دے رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے جن کی تعداد ہزاروں میں تھی، ان میتوں کو سوات ایکسپریس ہائی وے پر رکھتے ہوئے ہر طرح کے ٹریفک کو معطل کر دیا تھا۔ احتجاجی مظاہرین نے حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی بھی کی تھی۔
اس واقعے کے بعد جہاں مقامی لوگوں نے احتجاج کیا تھا، وہاں سوشل میڈیا پر بھی ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے حق اور مخالفت میں بیانات اور خبریں چھپتی رہیں۔ دونوں جانب سے غیر مدلل خبروں کے ساتھ اس انتہائی حساس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان پہاڑوں میں دہشت گرد موجود تھے اور ان کے خلاف کامیاب کارروائی کی گئی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایک درجن کے قریب عام باشندے بھی اس کارروائی میں لقمہ اجل بن گئے۔ تاہم یہ بات ابھی تک تصدیق طلب ہے کہ مارے جانے والے عام شہری آیا واقعی عام شہری تھے یا دہشت گردوں کے سہولت کار تھے۔ یہ کارروائی اگرچہ صوبائی حکومت کی اجازت سے ہوئی ہے، لیکن حسب روایت پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کارروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا اعلان تو کیا، مگر اس تحقیقاتی ذمہ داران کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ایک غیر مبہم بیان میں اگرچہ قدرے سیکیورٹی اداروں کے موقف کی تائید میں بیان دیا، مگر ساتھ ہی مختلف صوبائی وزراء نے بالکل جانبدارانہ موقف اختیار کرتے ہوئے اس کارروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ اگرچہ تمام سیاسی جماعتوں نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے اس کارروائی پر بات کرنے سے اجتناب کیا، مگر جماعت اسلامی کے سابق سینٹر مشتاق احمد خان نے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پارٹی پالیسی کے خلاف جانبدارانہ بیانات دیے۔ سینٹر مشتاق نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی ایک وضاحتی بیان پر انہیں مناظرے تک کا چیلنج دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی مصلحت آمیز خاموشی اور خود کو اس سارے واقعے سے دور رکھنے کی پالیسی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ قومی وطن پارٹی کے رہنما آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کاٹلنگ کے واقعے پر "غگ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اسے جہاں قابل افسوس قرار دیا، وہاں یہ بھی تسلیم کیا کہ جنگ میں اجتماعی نقصانات کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا کہ حکومت پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ڈرون کے استعمال سے اجتناب برتا جائے کیونکہ اس سے شہری نقصانات کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر تمام دستیاب آپشنز کے استعمال کے بعد بھی اگر ڈرون حملہ ناگزیر ہو تو انٹیلیجنس معلومات اور حملے کی منصوبہ بندی میں حد درجہ احتیاط برتنا چاہیے۔ "غگ" نے آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے موقف پر جب سیکیورٹی ادارے کے ایک ذمہ دار اہلکار سے وضاحت مانگی تو ان کا کہنا تھا کہ کاٹلنگ میں متعدد زمینی آپریشنز کیے گئے جو مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی سہولت کاری اور دہشت گردوں کی مقامی مخبری کی نیٹ ورک کی وجہ سے وہ ہمیشہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے رہے۔ انہی زمینی حقائق کے پیش نظر ڈرون حملے کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا تھا، جس کے مثبت نتائج بھی حاصل ہوئے۔ سیکیورٹی ایشوز سے باخبر ایک صحافی کی رائے جب پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ کوئی بھی غلطی اگر ہو جاتی ہے تو اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور جنگ کے دوران بسا اوقات غلطی بھی ہو جاتی ہے جو قابل معافی ہوتی ہے کیونکہ غلطی کو دانستہ عمل نہیں قرار دیا جا سکتا۔ غلطی کا اعتراف یا حقائق پیش کرنے سے منفی پروپیگنڈے کا قلع قمع ہو جاتا ہے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بڑھتا ہے۔
واپس کریں