مہنگائی میں مسلسل کمی اور تجارتی خسارہ بھی 15.25فی صد کم ہوا ہے

پچھلے برسوں میں پاکستانی عوام کیلئے ہمہ گیر مہنگائی سب سے پریشان کن مسئلہ بنی رہی لیکن خدا کے فضل سے موجودہ حکومت کی اقتصادی حکمت عملی دیگر معاشی اشاریوں میں بہتری کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں کمی کا سبب بھی بن رہی ہے ۔ ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی رفتار پانچ ماہ سے مسلسل کم ہورہی ہے کیونکہ ایندھن کی قیمتیں کم ہوئی ہیں نیزآٹے، چینی اور سبزیوں سمیت غذائی اشیاء کی سپلائی نئی فصلوں اور پیداوار میں اضافے کی وجہ سے بڑھی ہے۔ مئی میں روز مرہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار 11.76فی صد رہی جو تقریباً ڈھائی سال کی سب سے کم سطح ہے جبکہ بلومبرگ نے اس شرح کے 13.7فی صد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ مہنگائی میں کمی کے باعث مرکزی بینک پالیسی ریٹ میں بھی کمی کا فیصلہ کرسکتا ہے جس نے گزشتہ جون سے قیمتوں اور طلب کو کنٹرول کرنے کیلئے سود کی شرح کو 22 فی صد کی ریکارڈ سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے۔ بینک کی جانب سے10 جون کو مانیٹری پالیسی کا جائزہ لیا جائے گا اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی ریٹ میں سو سے ڈیڑھ سو بنیادی پوائنٹس کی کمی کی جاسکتی ہے جبکہ اگلے سال کے آخر تک مہنگائی کو پانچ سے سات فی صد تک لے آئے جانے کی کوشش ہے۔ تجارتی خسارہ بھی گیارہ ماہ میں 15.25فی صد کم ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں ٹیکس دہندگان کا دائرہ بڑھانے اور تمام شعبوں کو اس میں شامل کرنے کیلئے ہر قسم کی ادائیگیاں ڈیجیٹل طریق کار کے تحت کیے جانے کے اقدامات بھی حکومت کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان اسباب کے نتیجے میں معاشی بہتری کے عمل میں تسلسل متوقع ہے۔ تاہم ملک میں سیاسی بے یقینی کا جاری رہنا بہرحال تشویشناک ہے۔ سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اس پر قابو پایا جانا لازمی ہے لہٰذا حکومت و اپوزیشن اور ریاستی اداروں کے درمیان بات چیت کے ذریعے پائیدار مفاہمت کا راستہ تلاش کیا جانا ضروری ہے۔
واپس کریں