کھربوں کے خزانے پہاڑوں کے اندر موجود ہیں، دہشتگرد ان وسائل سے فائدہ اٹھانے سے روکنا چاہتے ہیں

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قدرت نے پاکستان کو معدنیات کی دولت سے نوازا ہے، کھربوں ڈالر کے خزانے ملک کے پہاڑوں کے اندر موجود ہیں، دہشت گرد پاکستان کو ان وسائل سے فائدہ اٹھانے سے روکنا چاہتے ہیں۔
اسلام آباد میں رب ذوالجلال کا احسان پاکستان تقریب سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ پاکستان رب العزت کا عظیم تحفہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان میں یہ تحفہ عطا کیا، قیام پاکستان ہمارے لیے کسی معجزے سے کم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم تقاضہ کررہی ہےکہ ہم متحد ہوجائیں، دہشتگردی کےخاتمے کےلیےافواج پاکستان قربانیاں دے رہی ہیں، ملک میں تفریق، مذہبی منافرت ہے تو یہ ان اعظیم قربانیوں کےساتھ بےوفائی ہے، ملک کے وقار وعزت کو داؤ پر لگایا جارہاہے، آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔
ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کےلیے ہم اپنےذاتی مفادات اور انا کوپاکستان کے تابع کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھاکہ قدرت نے پاکستان کو معدنیات کی دولت سے نوازا ہے، کھربوں ڈالر کے خزانے ملک کے پہاڑوں کے اندر موجود ہیں اور دہشتگردی کا ایک مقصد پاکستان کو ان وسائل سے استفادہ کرنےسے روکنا ہے، دہشت گردوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان قدرت کے دیے ہوئے خزانے سے فیض یاب نہ ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ ایسےعناصر کو پاکستان کی ترقی و خوشحالی گوارا نہیں، وہ پاکستان کےدشمن ہیں جن کو ملک کی ترقی و خوشحالی گوارہ نہیں، بخوبی جانتے ہیں دہشتگردوں کو مالی معاونت کہاں سے مل رہی ہے، دہشت گردی کےتانے بانے دور تک ملتے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھاکہ ہماری افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکی تحفظ کے لیے بڑی قربانیاں دے رہے ہیں، ذاتی اختلاف بھلا کر قومی یکجہتی اور اتفاق ترقی کا واحد راستہ ہے اور اتحاد و اتفاق سے ہی پاکستان دنیا میں اپنا مقام حاصل کرسکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی، معاشی مسائل اور ملک کے اندر موجود تفریق کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی خواہشات کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی سوچ قربانیوں سے بے وفائی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھ کر پاکستان کے معاشی، معاشرتی اور دہشت گردی کے مسائل حل کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مرتبہ پھر افواج پاکستان قربانیاں دی رہی ہیں، اس کے باوجود ملک کے اندر تفریق ہے، مذہبی منافرت ہے، لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے، ذاتی خواہشات آگے لانے کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی جو سوچ ہے وہ بے وفائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عظیم ملک پاکستان کے لیے ہم نے قربانیاں دیں آج وہاں پر ترقی اور خوش حالی کے مناظر کے بجائے تفریق ہے اور اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے ملکی استحکام، عزت اور وقار کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج بھی موقع ہے کہ فیصلہ کریں کہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر اپنی تمام ذاتی خواہشات اور انا کو پاکستان کے تابع کریں، اس سے بڑی پاکستان کی خدمت نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ مملکت خداداد پاکستان کو اللہ نے جوہری قوت سے نوازا ہے، لیکن خدائے بزرگ برتر کا جتنا شکر کریں کم ہے، جس کی کمال مہربانی سے پاکستان 1998ء میں ایٹمی قوت بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی ازلی دشمن ہو یا کوئی قریبی دشمن ہو تو اللہ نے اس قوم کو بہادر فوج کے علاوہ جوہری طاقت عطا فرمائی ہے، دشمن اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کرے تو یہ قوم اسے روند ڈالے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم قوم کی ترقی، یک جہتی اور اتفاق کے لیے اپنے ذاتی اختلافات دفن کریں، ذاتی خواہشات قربان کریں، یہی وہ واحد راستہ ہے، جس سے پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس لیے معرض وجود میں نہیں آیا تھا کہ ہم قرضے لیتے رہیں اور قرض کی زندگی بسر کریں، جب تک ہم پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط قلعہ نہیں بنالیں اس وقت تک ہمیں بھرپور خیال رکھنا ہوگا کہ معاشی آزادی کے حصول تک سیاسی آزادی خواب ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دستور میں کہا گیا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزار سکیں، پاکستان میں کوئی قانون اور ضابطہ قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بن سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسی طرح واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے اگر ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے اور پاکستان کو معاشی طاقت بنانا ہے تو اس دشوار گزار راستے سے گزرنا پڑے گا، جس سے تمام کامیاب ملک گزر چکے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہم مل کر آگے چلیں گے تو یہ ملک چند برس میں نہ صرف خطے کے اندر جو ہمارے ہمسایے ہیں انہیں پیچھے چھوڑے گا بلکہ ہم قائداعظم کے خواب کو ضرور شرمندہ تعبیر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے بھائیوں، بہنوں اور بچوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں جو قابض اور ظالم افواج کے ظلم و جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کا وحشیانہ سلسلہ ایک بار پھر شروع کردیا ہے، 50 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، یہ سراسر ظلم ہے جو انسانی کی برداشت سے باہر ہوچکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی تک ان کی بھر پور حمایت ہم سب پاکستان کے 24 کروڑ عوام کرتے رہیں گے، دعا ہے مقبوضہ خطوں کے مظلوم مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو اللہ تعالیٰ آزادی عطا فرمائے۔
واپس کریں