
مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی) کے دھرنے کے قریب دھماکہ ہوا جس میں پانچ افراد معمولی زخمی ہوئے، البتہ پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور دیگر سیاسی قیادت محفوظ رہی۔ اس حوالے سے سردار اختر مینگل نے بتایا کہ روکے جانے کے باعث خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھرنے سے چار سو گز کے فاصلے پر اڑا دیا۔ ہمیں کسی تنظیم سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہمیں اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ سرکار سے ہے۔ حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنا چاہتی ہے لیکن ہمارا احتجاج پر امن طور پر جاری رہے گا۔ دوسری جانب، بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر رات میں سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی شاہراہوں پر شام 6 سے صبح 6 بجے تک سفر کی اجازت نہیں ہو گی۔ سبی شاہراہ، ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ، کوسٹل ہائی وے پر رات کو سفر کی اجازت نہیں ہو گی۔ کوئٹہ تفتان شاہراہ، لورالائی، ڈیرہ غازی خان شاہراہ پر بھی رات کا سفر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی سے سب سے زیادہ صوبہ بلوچستان متاثر ہو رہا ہے جہاں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار آسانی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں جبکہ ان دہشت گردوں کو پاکستان کے دونوں دشمن پڑوسی ملک بھارت اور افغانستان کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔ بے شک عساکر پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور دہشت گردی کے تدارک کے لیے ہر ممکن اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے خوف سے بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر مسافروں کی آمدورفت بند کرنا دراصل دہشت گردوں کی طاقت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے، اس اقدام سے جہاں یہ تاثر پختہ ہوگا کہ حکومتی مشینری دہشت گردوں کے آگے بے بس ہو چکی ہے، وہیں دہشت گرد اسے اپنی کامیابی تصور کریں گے اور ان کے حوصلے مزید بلند ہوں گے جبکہ عوام بھی اپنے سکیورٹی سسٹم پر اعتماد کھو بیٹھیں گے۔ اس لیے بہتر ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کے لیے مؤثر اور ٹھوس لائحہ عمل طے کیا جائے اور عید کے موقع پر بلوچستان سمیت ملک بھر میں سفری سہولیات کو محفوظ بنایا جائے تاکہ دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوں اور تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں گھروں سے دور بیٹھے لوگ بلاخوف و خطر اپنے آبائی علاقوں اور شہروں میں عید منانے جا سکیں۔
واپس کریں