
ہمارا مذہب اسلام ایک جامع اور مکمل دستور حیات ہے جو زندگی کے ہر ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے خوشی و مسرت کا لمحہ ہو یا رنج و الم کا مرحلہ اسکا دامن ہدایت سے خالی نہیں اور اسلام تو خوشیوں کا مذہب ہے یہ خوشی کے لمحات میں مسرت کے اظہار پر کوئی قدغن نہیں لگاتا مگر اتنا ضرور ہے کہ خوشی و شادمانی کے حوالے سے اسکا اپنا اک خاص زاویہ نظر ہے اسلام ایسی خوشی کو قطعا پسند نہیں کرتا جس سے اللہ اور اس کے محبوب پاکﷺ کی نافرمانی لازم آئے نخوت وغرور کی بو آئے تکبر کی جھلک نمایاں ہو خوشی کی آڑ میں اخلاقی قدریں پامال ہوں اور شرعی حدود کو کراس کیا جائے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ ترجمہ!تکبر سے لبریز خوشی مت کر بے شک اللہ ایسی خوشی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا (القصص آیت ۶۷)مگر جو خوشی و مسرت تشکر و عاجزی سے بھر پور ہو اللہ و رسول کریمﷺ کی رضا کے لئے اور شرعی تقاضوں کے عین مطابق ہو اسلام ایسی خوشی کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے محبوب فرما دیجیے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے (تو اس پر مسلمانوں کو خوشی کا اظہار کرنا چاہیے) تو فرمان خداوندی سے یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ اللہ کے فضل و رحمت و احسان و انعام پر خوشی کاخوب مظاہرہ کرنا چاہیے اور جہاں تک رمضان المبارک کا تعلق ہے یہ پورا ماہ منور ہمارے لئے اللہ کا عظیم اور خصوصی فضل و انعام ہے اور اس ماہ مقدس میں کلام الہیٰ قرآن مجید جیسی عظیم اور انقلابی کتاب کا نزول ہوا جو مومنین کے لئے سراسر رحمت ہے سرچشمہ ہدایت ہے اور کامل دستور حیات بھی ہے کہ جس کی بدولت بے شمار انسانیت کی فلاح و نجات ہوئی تو اللہ کے خصوصی فضل و احسان جو ماہ رمضان کی صورت میں امت مسلمہ کی بخشش کا ذریعہ بنا کے شکرانے کے لئے ہم پر خود خدا نے عید الفطر کا یہ بابرکت اور مقدس خوشیوں کو یوم سعید امت رسول ﷺ کو تحفہ رمضان کی صورت میں عطا فرمایا عید الفطر اسی ماہ کامران رمضان کے انعامات میں سے ایک نعمت اختتام ماہ کے بعد پہلا دن عید ہے دراصل عید کا یہ مقدس دن بارگاہ الہیٰ میں سجدہ شکر بجا لانے کا یوم ہے کہ اللہ نے ہمیں رمضان المبارک عطا فرمایا جس کے صدقے میں آجکا یہ حقیقی خوشیوں سے بھر ا دن عید الفطر نصیب ہو رہا ہے ہم نے رمضان المبارک کی عظیم ساعتوں میں رحمتوں برکتوں سے اپنی جھولیاں بھریں تو اللہ نے اپنی ان نعمتوں پر شکر اور خوشی ظاہر کرنے کے لئے مسلمانوں کو یہ عید کا پر مسرت یوم عطا کیا ہے اور ہمارا رب تو یہ چاہتا ہے اور یہ پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے اس کی نعمتوں کے ملنے کے ایام کے بعد آپس میں اظہار مسرت کریں اور اس کی نعمتوں کا کثرت سے شکریہ اداکریں اس لئے تو روزوں کی فرضیت اور احکام بیان کرنے کے بعد آخر میں فرمایا کہ تاکہ تم اللہ کی تکبیر کہو اس پر کہ اسُ نے تم کو ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو یعنی جب رمضان کے دن پورے ہو جائیں تو اللہ کی طرف سے رمضان کے احکام کی پابندی ہدایت کرنے اور اس کا شکرادا کرنے پر تم تکبیر کہو اور تکبیر والی نماز پڑھو ایسی نماز جس میں تمام نمازوں سے زیادہ تکبیریں ہیں غرض رمضان میں عطا کی جانے والی نعمتوں کے شکرانے کو ہم عید الفطر کا دن کہتے ہیں اس دن مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کو مبارک دینا اور باہمی محبت و الفت کو ظاہر کرنا چاہیے خدا کو اپنے بندوں کی یہ ادا بڑی پیاری لگتی ہے کہ اس کے بندے اس کی رضا کے لئے آپس میں پیار و محبت کریں اکٹھے ہوں اور سب مل کر خوشیاں منائیں اور اس کی نعمتوں کا شکرادا کریں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ سال میں دو دن تہوار مناتے تھے جن میں وہ کھیل تماشے لہب و لہو کیا کرتے سرکار دوعالم ﷺ نے ان سے پوچھا تم یہ جو دو دن بطور تہوار مناتے ہو ان کی کوئی حقیقت اور حیثیت بھی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم عہد جاہلیت میں یہ دو دن کا تہواراسی طرح مناتے تھے تو سرکار دوعالم ﷺ نے اپنے غلاموں سے فرمایا کہ اللہ کریم نے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمھارے لئے ان سے بہتر دو دن مقرر فرمادئیے ہیں عید الفطر اور عید الاضحی کا یوم۔ عید کے دن حجامت بنوانا،ناخن تراشنا،غسل کرنا،مسواک کرنا،خشبو لگانا،اچھے صاف ستھرے کپڑے پہننا،عید گاہ راستہ بدل کر جا نا نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ عید الفطر کی رات کو اللہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والوں کو اجر عطا فرماتا ہے۔ابن عباس کی روایت میں ہے کہ عید الفطر کی رات کو لیلتہ الجائزہ کہا جاتا ہے اس رات کی صبح فرشتوں کو زمین پر اترنے کا حکم ہوتا ہے اور وہ گلیوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک ایسی آواز سے پکارتے ہیں کہ جسکو جن و انس کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور فرشتے کہہ رہے ہوتے ہیں اے غلامان مصطفیﷺ آؤ اپنے رب کی طرف جو کریم ہے اس کی عطا کثیر ہے وہ بڑے گناہ معاف فرماتا ہے جب وہ عید گاہوں کی طرف چلتے ہیں تو اللہ کریم فرشتوں سے فرماتا ہے کہ جو وہ دعا کرتے ہیں اللہ قبول فرماتا ہے جس کی مغفرت طلب کرتے ہیں اسکو بخش دیا جاتا ہے اور جب یہ گھر لوٹتے ہیں تو بخشے ہو ئے ہوتے ہیں لفظ عید کے تین معنی ہیں عید بمعنی واپس آنا،توجہ کرنا،مسرت ہونا یہ عود سے نکلا ہے عود یعنی واپس آنا چونکہ عید کے انعامات اکرامات اعزازت اور خوشیاں ہر سال لوٹ کر آتی ہیں اس لئے اس دن کو عید کہا جاتاہے لفظ عید یاد دلاتا ہے کہ آج کی تاریخ کی وہ خوشیاں جو گزشتہ برس آئی تھیں وہ واپس آگئی ہیں ان کو دوبارہ حاصل کر لو لفظ عید یہ سبق دیتا ہے کہ یہ دن ایک سال کے بعد پھر واپس لوٹے گا لہذا اپنے آپ کو پھر حصول انعامات کے اہل بناؤ آج عید کا یوم سعید ہے ماہ صیام کے اختتام پر مسلمانوں کا یہ عظیم مذہبی تہوار در حقیقت اسلام کا ایک مقدس شعار ہے اس روز کروڑوں فرزندان توحیدرمضان المبارک میں عبادت ریاضت توفیق عطا ہونے پر اللہ کریم کا شکر بجا لاتے ہیں نماز عید الفطر کے بڑے بڑے اجتماعات میں لوگوں کے ایک ساتھ جمع ہونے سے معاشرے میں اتحادویکجہتی اور محبت و روداری کا احساس اجاگر ہوتا ہے اس عظیم الشان موقع پر باہمی روابط بڑھنے سے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کے جذبات فروغ پاتے ہیں اور یہ عید کا پرمسرت یوم امیر غریب،افسر و ماتحت،تاجر و مزدور سب کے لئے ایک جگہ جمع ہونے کا موجب بنتا ہے یوں مساوات اور یگانگت کے ولولہ انگیز مظاہرے کے ذریعے مسلمانوں کی ملی شناخت آشکار ہوتی ہے دیگر اقوام ومذاہب سے وابستہ لوگ اسلام کے درس اخوت ومحبت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں جس سے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب ہونے کا موقع ملتا ہے نماز پنجگانہ،جمعہ،اور نماز عیدین کے اجتماعات کا ایک مقصود یہ بھی ہوتا ہے کہ دنیا کی دیگر تہذیبوں کو اسلام کی عظمت و رفعت باور کرائی جائے اور انھیں یہ بتایا جائے کہ اسلام نے حسب نسب،رنگ ونسل اور مال و دولت کے تمام امتیازات کو مٹاتے ہوئے تمام انسانیت کو برابری کا درس دیا ہے اور اسلام کے ہاں عزت و برتری کا معیار تقویٰ وخشیت الہی ہے عید کا دن فرزندان اسلام کے لئے مسرت و شادمانی کا دن ہے یہ بچوں،بوڑھوں،نوجوانوں اور عورتوں کے لئے اظہار مسرت کا دن ہے عید الفطر دراصل تشکر و امتنان،انعام واکرام اور ضیافت خداوندی کا دن ہے عید الفطر روحانی سکون کا یوم سعید ہے اس دن کی فضیلت ہے ہے کہ روز مسلمان پانچ مرتبہ جماعت نماز کی صورت میں اللہ کے گھر سجدہ کرنے جاتے ہیں اس دن پانچ کی بجائے مسلمان چھے نمازیں ادا کرتے ہیں یہ چھٹی نماز عید ہوتی ہے جو شکرانہ کے طور پر ادا کی جاتی ہے حقیقت میں عید اس کی نہیں جس نے نئے کپڑے زیب تن کئے نئے جوتے پہنے بلکہ عید تو اس کی ہے جس نے رمضان المبارک میں اپنے رب کا حکم پورا کرتے ہوئے روزے رکھے تقویٰ و پرہیزگاری کی عید کے اس دن ہمیں اپنی خوشیوں میں غرباء مساکین کا بھی خیال رکھنا چاہیے جو ہماری ہمدردی اور توجہ کے بہت زیادہ مستحق ہیں اس لئے صدقہ فطر مقرر کیا گیا ہے اس کی ادائیگی کا حکم اسی لئے تو نماز عید سے قبل کا ہے تاکہ غرباء و مساکین بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں ہمیں بیماروں اور معذورں و بھی عید کی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے ان یتیموں کے سروں پر ہاتھ پھیرنا جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ان بے وواؤں کو سہارا دینا چاہیے جن کا کوئی سہارا نہیں ہے یہی عید کا اصل پیغام ہے ور مسلمانوں کا شیوہ ہے اور ہماری اخلاقی و مذہبی ذمہ داری بھی ہے آج کا دن دعا کا بھی دن ہے ہمیں اپنے وطن عزیز کی ترقی خوشحالی اور امن و استحکام کے لئے خصوصی دعا کرنی ہے اللہ سب کو عید کی سچی خوشیاں نصیب کرے اور زندگی میں ہزار بار رمضان المبارک،جمعتہ الوداع اور عید الفطر کی عظیم ساعتیں عطا فرمائے آمین
تحریر!صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی
zeeshanmasoomi@yahoo.com
واپس کریں