دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہیلتھ مافیا کا مجرمانہ کاروبار: جدید طبی نظام، کتاب "بلائنڈ سپاٹ" اور خیبر پختونخوا کا برباد ہوتا ہوا صحت کا شعبہ
No image (رپورٹ خالد خان) معالج، جنہیں عام طور پر "مسیحا" کہا جاتا ہے، آج کے مادی دور میں موت کے سوداگر بن چکے ہیں۔ امریکہ، جو جمہوریت، ترقی، پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور قانون کی حکمرانی کا دعویدار ہے، وہاں صحت عامہ کے نام پر بدترین لوٹ مار جاری ہے۔ یہ صورتحال صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں صحت کے شعبے سے وابستہ مافیا مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ ہسپتالوں کے چمکتے دمکتے راہداریوں کے پیچھے ایک تاریک دنیا چھپی ہے، جہاں جدید ترین طبی سہولیات کے باوجود ہسپتال ایک کاروباری منڈی بن چکے ہیں، جہاں زندگیاں بچانے سے زیادہ منافع کمانا مقصد بن چکا ہے۔
اس موضوع پر ڈاکٹر مارٹی مکاری، جو جانز ہاپکنز ہسپتال، امریکہ میں سرجن ہیں، نے اپنی کتاب "Blind Spot: The Global Rise of Unnecessary Healthcare and What We Can Do About It" میں طبی مافیا کی اصل حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ کتاب امریکی صحت کے نظام پر محض تنقید نہیں بلکہ ایک عالمی بحران کی پردہ کشائی ہےامریکہ جیسے ملک میں صحت کے اس بحران میں غیر ضروری تشخیص ،علاج اور سرجریز، مالی مفادات کی بنیاد پر کیے جارہے ہیں۔ تمام طبی فیصلے ذاتی فائدے میں کیئے جاتے ہیں جو وسائل کے بے دریغ ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر مکاری کے مطابق، امریکہ میں ہونے والی نصف سے زیادہ سرجریز غیر ضروری ہیں۔ اگر ایک ترقی یافتہ ملک میں ایسا ہو سکتا ہے، تو پھر باقی دنیا کی کیا حالت ہوگی؟
کتاب میں یہ لرزہ خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ طبی غلطیاں امریکہ میں اموات کی تیسری سب سے بڑی وجہ ہیں، جو دل کی بیماریوں اور کینسر کے بعد سب سے زیادہ جانیں لے رہی ہیں۔ ہر سال تقریباً ایک کھرب ڈالر غیر ضروری علاج، مہنگے ٹیسٹ اور فضول انتظامی اخراجات میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہ سب مریضوں کی لاعلمی اور ڈاکٹرز کی مالی منفعت کی دوڑ کے باعث ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر مکاری نے خاص طور پر "فیس فار سروس" ماڈل پر تنقید کی ہے، جس میں جتنا زیادہ علاج ہوگا، اتنا زیادہ پیسہ کمایا جائے گا۔ اس ماڈل کی وجہ سے دنیا بھر میں مریضوں کو غیر ضروری سرجریز اور مہنگے علاج میں جھونکا جا رہا ہے۔
کتاب میں پروسٹیٹ کینسر، تھائرائیڈ کینسر، سی سیکشن، اینٹی بایوٹکس کے بے دریغ استعمال، اور انتہائی نگہداشت کے مریضوں کے استحصال جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔ امریکہ میں ہر تین میں سے ایک بچہ سی سیکشن کے ذریعے پیدا ہو رہا ہے، حالانکہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ زیادہ تر کیسز میں نارمل ڈیلیوری زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔ اسی طرح، معمولی اور بے ضرر رسولیوں کو جان لیوا ظاہر کر کے مریضوں کو مہنگے علاج پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہسپتال اپنی طبی پیچیدگیوں کے اعداد و شمار کو چھپاتے ہیں تاکہ عوام کے سامنے خود کو زیادہ محفوظ ثابت کر سکیں۔
یہی تباہی آج پاکستان، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے صحت کے نظام میں بھی نظر آ رہی ہے۔ یہاں گزشتہ گیارہ سال سے عمران خان کی پارٹی برسر اقتدار ہے۔ ان کے کزن ڈاکٹر برکی، جو امریکہ میں مقیم ہیں، نے خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں "اصلاحات" کے نام پر امریکی طرز کا نظام متعارف کروایا، جس میں ہیلتھ کارڈ جیسے منصوبے شامل ہیں۔ لیکن یہ "اصلاحات" عوام کو فائدہ دینے کے بجائے صحت کے شعبے میں کرپشن، لوٹ مار اور تباہی کا باعث بن گئیں۔
خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں غیر ضروری ٹیسٹس، سرجریز، اور جھوٹے میڈیکل رپورٹس کا دھندہ عروج پر ہے۔ سی سیکشن کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، کینسر اور دیگر بیماریوں کے غلط یا غیر ضروری تشخیصی ٹیسٹس کا رجحان بڑھ چکا ہے، اور ہسپتالوں میں نجی کمپنیوں کو نوازنے کے لیے مصنوعی ڈیٹا بنایا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے غریب عوام کے نام پر اربوں روپے لوٹے جا چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کو علاج کم اور منافع زیادہ کمانے کے مواقع دیئے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں کی نجکاری کے بعد مریضوں کو ہر چھوٹی بیماری کے لیے بڑے اور مہنگے علاج کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں صحت کا شعبہ زوال پذیر ہے۔ مریضوں کے لیے علاج مہنگا، غیر معیاری اور خطرناک ہو چکا ہے۔ صحت کے شعبے کی نجکاری کے باعث سرکاری ہسپتال نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں، جہاں پیسے کے بغیر علاج ممکن نہیں رہا۔ غریب عوام، جنہیں ہیلتھ کارڈ کا جھانسہ دیا گیا تھا، آج دوائیوں اور علاج کے لیے دربدر بھٹک رہے ہیں۔
ڈاکٹر مکاری کی کتاب ہمیں یہ سمجھنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ بحران صرف امریکہ یا خیبر پختونخوا کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ صحت کو کاروبار بنا کر انسانیت کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ اگر صحت کے شعبے میں اصلاحات نہ کی گئیں تو مریضوں کی صحت اور ان کا اعتماد دونوں داؤ پر لگے رہیں گے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ عوام بیدار ہو، سوال کرے، اور اس کاروباری مافیا کا پردہ چاک کرے۔ صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے، جسے منافع کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔
واپس کریں