
عالمی سطح پر پانی بچانے کے لیے 22 مارچ کو عالمی یومِ آب کے موقع پر خصوصی اقدامات کا اعادہ کیا گیا لیکن ہر سال کی طرح پاکستان امسال بھی صاف پانی کی بڑی مقدار بچانے میں ناکام رہا۔ ارسا کے مطابق، پاکستان سالانہ 1 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع کرتا ہے جبکہ واپڈا کے زیر انتظام پاکستان میں پانی سٹور کرنے کے چار بڑے منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ ان منصوبوں میں دیامیر، بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے بڑے پراجیکٹس شامل ہیں جو نہ صرف پانی کو سٹور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے اور آبپاشی کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے پچاس فیصد سے زائد شہری پینے کے صاف پانی جیسے حق سے بھی محروم ہیں۔ اس مرتبہ عالمی یومِ آب کا عنوان ’گلیشیئرز کو بچانا‘ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پوری دنیا میں جس تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں ان کی وجہ سے کرۂ ارض پر پانی کی قلت کے خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ پاکستان تو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے زیراثر ہے اور متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے۔ اسی تناظر میں عالمی سطح پر پانی کی قلت روکنے اور گلیشیئرز کو بچانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے پانی پر بھی سیاست کی جا رہی ہے۔ چولستان نہری منصوبہ گرین پاکستان کا اہم ترین منصوبہ ہے جس کی سب سے زیادہ مخالفت سندھ کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ کالاباغ ڈیم کی فائل کو سندھ کی طرف سے ہمیشہ کے لیے دفن کردیا گیا جس کا فخریہ کریڈٹ بھی لیا جارہا ہے۔ پاکستان میں نہ نئے ڈیمز بنائے جا رہے ہیں، نہ پونڈز تعمیر کیے جا رہے ہیں، جو ڈیم موجود ہیں وہ بھی اپنی عمریں پوری کرتے نظر آرہے ہیں۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت پہلے ہی پاکستان کو بے آب و گیاہ کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہاہے، اس ایجنڈے کے تحت ہی وہ ستلج، بیاس اور راوی کا پانی ہڑپ کر چکا ہے، اب اس کی نظربد دریائے سندھ اور جہلم پر بھی جمی ہوئی ہے۔ اگر ہمارے ہاں پانی پر منفی سیاست کی جاتی رہی تو اس سے بھارتی ایجنڈے کو ہی تقویت ملے گی۔ اس لیے تمام صوبوں کی قیادت کو افہام و تفہیم کے ساتھ ملکی مفاد میں پانی کے تحفظ اور چولستان نہری منصوبے سمیت آبپاشی کے تمام منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا چاہیے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ملک بھر میں چھوٹے بڑے ڈیمز اور پونڈز کی تعمیر ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنی چاہیے۔
واپس کریں