دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کشمیرکے سرپھرےہیرو ۔کالم نگار۔ آ صف اشرف
No image آج جب علی گیلانی مرحوم کی نواسی اور حریت لیڈر الطاف شاہ شہید کی بیٹی اور اسی طرح شبیر شاہ کی بیٹی نے الگ الگ مگر ایک جیسے اعلان کیے ہیں کہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں ساتھ بھارت سے وفاداری کا اعلان کیا ہے تو مجھے 24مارچ 1996 اور 30مارچ کے 90اور 96کے دن یاد آ تے ہیں جب بھارت کی اسی مکاری کا بروقت ادراک کرنے والے سری نگر سرائے بالا اور حضرت بل کے مقام پر تاریخ رقم کر گے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مارچ کا آخری ہفتہ کوئی عام ہفتوں جیسا نہیں ویسا ہی اس کے دو ایام ہیں جیسے گیارہ فروری کے بعد کا تاریخی دن جیسے شیخ عبدالحمید کا یوم شہادت انیس نومبر گیارہ فروری کے بعد چوبیس مارچ تیس مارچ اور یکم اپریل کشمیر کے سب سے بڑےتاریخی دن ہیں یکم اپریل کو ڈاکٹر عبدالاحد گورو نے شہادت کا جام پیا اس سے قبل 30مارچ جب تیسرے رمضان جمعہ کے روز کشمیر کی تاریخ کا پہلا فدائی حملہ کر کے بھارتی فورسز کو واصل جہنم کرتے اشفاق مجید وانی اپنی دیرینہ خواہش روزے کی حالت اور جمعہ کا دن ہونے کو نہ صرف پورا کر بھیٹا بلکہ کسی عسکری تنظیم کا پہلا چیف کمانڈر بھی قرار پایا جو میدان کار زار میں امر ہوا اس کی راہ پر چلتے چھ سال بعد تیس مارچ کو ہی شبیر صدیقی اپنے کارواں سمیت درگاہ حضرت بل کے مقدس مقام کو مقبولی غسل دے چلے اور تاریخ میں کشمیر کے امام حسین ٹھرے شہید صداقت قرار پانے والے شبیر صدیقی شیخ حمید کے بعد جے کے ایل ایف کے دوسرے سیاسی سربراہ تھے جہنوں نے اپنے چیف شہید جرات جنرل بشارت رضا کے ہاتھ سے گری بندوق اٹھائی اور تاریخ رقم کر دی مقبول بٹ کی لہو رنگ تحریک کو سرخرو کرنے میں اشفاق مجید وانی حمید شیخ کے ساتھ ڈاکٹر عبدالاحدگرو بھی آج سے ایک روز بعد جان قربان کر ہیرو بن چلے مقبول بٹ کے ساتھ اشفاق مجید وانی حمید شیخ ڈاکٹر گورو شبیر صدیقی کے ساتھ جو سنہری حروف سے لکھا جانے والا نام ہے وہ جنرل بشارت رضا کا ہے جو چوبیس مارچ کو اٹھائیس سال قبل معرکہ کربلا کی تقلید کرتے سری نگر میں تاریخ رقم کر کے امر ہوا گاندربل کے علاقہ تیل بل سے تعلق رکھنے والے جنرل بشارت رضا نے باباے قوم مقبول بٹ کے بٹ خاندان میں جنم لیا گھر والوں نے نثار بٹ نام رکھا مادروطن پر نثار ہونے والے اس جنگجو نے بشارت رضا کا تعارفی نام رکھا مجاہدین نے جنرل بشارت رضا کا نام مشہور کر ڈالا 1993میں جب جے کے ایل ایف کے ہیڈ کوارٹر حضرت بل کو بھارتی فورسز نے ایک طویل دورانیے کے محاصرے میں لیا تب ادریس خان شہید اس محاصرے کے پناہ گزینوں کے ترجمان بنے تو ناہب ترجمان بشارت رضا بنے پہلی بار بشارت رضا کا نام سامنے آ یا جنگی جنون رکھنے والے بشارت رضا سیاست کار ی سے الگ ہی رہے جب یاسین ملک سے بھارت کے سیانے سیز فائر کا معاہدہ کروانے کامیاب ہوئے تب جے کے ایل ایف کے عسکریت پسند باغی ہو گے ان باغیوں نے جنرل بشارت رضا کو اپنا نیا چیف کمانڈر مقرر کر کے اس سر نو عسکری کاروائیاں شروع کر دیں بشارت رضا اور ان کے ساتھیوں نے تنظیمی ہیڈ کوارٹر بھی اپنے ماتحت رکھ لیا یاسین ملک اور ان کے ہم خیال برسوں سے قائم ہیڈ کوارٹر خالی کر کے الگ جگہ منتقل ہو گے بشارت رضا کی عسکریت پسند وں نے دستار بندی کی حضرت بل کے علاقہ میں بندوق برداروں نے ریلی نکال کر نو منتخب کمانڈر انچیف جنرل بشارت رضا کی دستار بندی کے ساتھ قائد تحریک امان للہ خان صاحب کی تصویر کو سلامی دی کشمیر میں پہلی مرتبہ کسی عسکریت پسند باغی کو یوں سر عام سلامی دی گئی تو بھارت کے پالیسی ساز ہل گئے حضرت بل کے تاریخی پس منظر کے باعث دوست اور دشمن ہم خیال بن گے کہ حضرت بل پر بشارت رضا کا قبضہ کیسے ختم ہو نماز جمعہ اور دیگر مزہبی اجتماعات میں لوگ شبیر صدیقی اور ان کے کارواں کے موقف کو سن کر ایک انقلاب برپا کرنے نکلے خاموش لوگ فعال ہو گے جموں سے کا کا حسین جیسے بانی بھی بشارت رضا کے پشت بان بن چلے فاروق ڈار بٹہ کراٹے منظور صوفی منظور الاسلام مبارک حسنی جیسے جیلوں سے خط لکھ کر وفاداری سامنے لائے کشتواڈ میں جب ہزار وں جب لوگ شبیر صدیقی کی آ واز میں آ واز ملا کر نوے کی تحریک زندہ کر گئے تو پھر کربلا سری نگر سجانے کی صف بندی ہوئی کوفے والے بھی ملے اور بھاری بھر اسلحہ کے ساتھ درگاہ حضرت بل پر حملہ کر دیا بشارت رضا کا عہد تھا کہ وہ اشفاق مجید وانی اور حمید شیخ کا جانشین ہے اس نے خود میدان میں مورچے سنبھال لیے قابضین اور منافقین ایک ہوئے دن بھر جھڑپیں جاری رہئیں شام کو بی بی سی اور وائس آ ف امریکہ نے ایک جیسی خبر دی کہ چھ برس بعد کشمیر میں طویل جھڑپ ہوئی جو دن بھر جاری رہئی جس میں کمانڈر انچیف جنرل بشارت رضا ملٹری ایڈوائزر سلمان یاور نکہ بھائے سمیت گیارہ سنیئر کمانڈر شہید ہوئے مگر اٹیمی طاقت بھارت پھر بھی درگاہ حضرت بل پر قابض نہ ہو سکا جے کے ایل ایف کی تاریخ میں اشفاق مجید وانی اور حمید شیخ کے بعد تیسرا چیف کمانڈر میدان کارزار میں شہید ہوا اس کی جگہ اس کے قائد شبیر صدیقی نے بندوق اٹھائی بھارت ان کے سامنے مقابلہ نہ کر سکا اور ایک ہفتہ محاصرے کے بعد جہاز سے گن شپ پاوڈر چھڑک کر حضرت بل کے ہیڈ کوارٹر کو خاکستر کر گیا وقت کا حسین شبیر صدیقی ساری قیادت کے ساتھ کربلا والوں کی طرح شہید ہو گے آ ج تیس سال بعد مجھے بشارت رضا سرخرو نظر آ تا ہے مگر حیرت بھی ہوتی ہے بشارت رضا جو بھارتی فورسز کے ساتھ مقابلہ میں شہید ہوا جس کو بھاری بھر قوت کے ساتھ کمانڈر انچیف بنایا گیا وہ کیوں نا پسند ہے۔۔۔۔اگر کمانڈر انچیف غلط تھا تو شبیر صدیقی صدر کیسے حق پر تھے شبیر صدیقی کو تو امان للہ خان صاحب سے بشارت رضا نے صدر بنوایا شوکت شاہ جو صرف یاسین ملک کے دوست تھے اور ایک مزہبی تنظیم کے سربراہ تھے جے کے ایل ایف کے پلیٹ فارم سے ان کو تحریکی ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے مگر اپنے ہیرو جنرل بشارت رضا کا نام لینا گناہ جانا جاتا ہے درگاہ حضرت بل کے سارے شہید چاہیے چوبیس مارچ کو بشارت رضا کے ساتھ شہید ہوئے یا ایک ہفتہ بعد شبیر صدیقی کے ساتھ ایک ہی جدوجہد کا تسلسل ہیں شبیر صدیقی اور بشارت رضا یک جان دو قالب تھے پھر ان میں تخصیص چہ معنی دار۔۔۔۔میں دعوے سے لکھتا ہوں کہ اگر بشارت رضا یاسین ملک کے خلاف بغاوت نہ کرتے تو شبیر صدیقی کھبی بھی ایسا نہ کرتے مگر جب بشارت رضا نے ایسا کردیا تو شبیر صدیقی نے اس کو کامیاب بنا نے کو ایمان کا حصہ بنا لیا شبیر صدیقی کو بشارت رضا سے اتنی محبت تھی کہ جب بشارت رضا شہید ہوئے شبیر صدیقی نے بندوق خود اٹھالی پہلی بار کسی تنظیم کے سربراہ اور وہ بھی اعلی تعلیم یافتہ دینی سکالر نے بندوق اٹھا کر اپنی وفا کا ثبوت دیا پھر مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ جے کے ایل ایف شبیر صدیقی کو تو خراج پیش کرتا ہے مگر بشارت رضا کا نام بھی نہیں لیا جا رہا اگر کہیں لیا اور لکھا بھی جائے تو سب سے آخر لکھا جاتا ہے کمانڈر انچیف کو محض کمانڈر جتلانے والے کیا جانیں تاریخ نے بشارت رضا کو کتنا سرخرو کر رکھا ہے جلیل اندرابی نعیم بٹ کی قربانی بھی تاریخ کا حصہ مگر جس طرح سارا جہاں افضل گرو بن جائے وہ مقبول بٹ کا حشر اشیر نہیں اسی طرح اشفاق مجید وانی حمید شیخ ڈاکٹر عبدالاحدگرو شبیر صدیقی کے بعد اگر کسی کا مرتبہ اور مقام ہے وہ جنرل بشارت رضا کا ہے حسد بغض زاتی پسند نا پسند پر اس کو تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا اس کا مقابلہ صرف ایک صورت میں کیا جا سکتا ہے اس سے بڑی قربانی دی جائے میں دعوے سے مگر چیلنج کر کے لکھ رہا ہوں کہ اب کشمیر کی تاریخ میں جس طرح دوسرا مقبول بٹ جنم نہیں لے سکتا اسی طرح اور کوئی اشفاق مجید وانی حمید شیخ ڈاکٹر عبدالاحدگرو شبیر صدیقی اور بشارت رضا بھی نہ پیدا ہو سکتا ہے نہ ویسا بن سکتا ہے اب جتنی بڑی قربانی بھی دی جائے تاریخ ان ناموں کے بعد ہی اور مقام دے گی۔۔۔۔۔۔میرا محبت بھرا سلام بشارت رضا اور اس کے ساتھی شہداء سے لیکر شبیر صدیقی اور ان کے کارواں کے لیے۔۔۔۔بشارت رضاء اس لیے عظیم ترین ہے کہ وہ بابائے قوم مقبول بٹ کے نام لیوا کمانڈروں میں سے آخری چیف کمانڈر تھا جس نے مقبول بٹ کی طرح بندوق اٹھائی تو مرتے ہوئے بھی بندوق اس کے ہاتھ میں تھی خود مر رہا تھا اور دشمن کو مار رہا تھا۔بقول شاعر یہ بلند رتبہ جس کو ملنا تھا مل گیا۔ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں
واپس کریں