
حکومت کے معاشی اصلاحات ایجنڈے کے تحت نقصان میں جانے والےاداروں اور محکموں کی نجکاری یاان کا بندش پروگرام سامنے رکھتے ہوئے جمعہ کے روز یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی ملک بھر میں قائم لگ بھگ چار ہزار میں سے 1700شاخیں بند کردی گئیں۔اس اقدام کی روسے ادارے کے 5ہزار مستقل ملازمین سرپلس پول بھیجے جائیں گے۔سردست متذکرہ 1700شاخوں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین فارغ ہوں گے۔جمعہ کے روز اسلام آباد میں وزارت صنعت وپیداوار کے اجلاس کو بتایا گیا کہ ادارے کا دوسالہ آڈٹ نہ ہونے سےیوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی نجکاری کا عمل متاثر ہوا ہے،جو اگست2025میںمکمل ہو گا۔بریفنگ مطابق ادارے کا ماہانہ خرچہ ایک ارب دو کروڑ روپے تھا،جو ،اب52کروڑ روپے رہ گیا ہے۔درپیش معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ بے روز گار ہونے والے ملازمین کودوسرے محکموں میں کھپایا جائے۔یوٹیلٹی اسٹورز کا قیام جولائی1971میں 21شاخوں کی صورت میں عمل میں آیا تھا ،جس کی ایک طرف اپ گریڈیشن ہوتی رہی تو دوسری طرف گزشتہ کم وبیش تین دہائیوں سے سیاسی مداخلت کی وجہ سے یہ ادارہ اتار چڑھائو سے دوچار چلاآرہاہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی شاخیں اس وقت6000سے متجاوز ہیں ،جن میں 13000سے زیادہ ملازمین ہیں۔ادارہ ہذا کے قیام کا مقصد کم آمدنی والے طبقے کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ریلیف دینا تھا تاہم اس کے اخراجات کا تخمینہ آمدنی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکا ہے۔دوسری طرف ادارے میں بے ضابطگیوں کی بھی وقتاً فوقتاً نشاندہی ہوتی آئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آڈٹ کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ماضی میںاٹھائے جانے والے معاملات کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور نقصانات کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
واپس کریں