
خیبر ضلع کی تحصیل باڑہ میں دہشت گردوں کی بھتہ خوری مہم شدت اختیار کر چکی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آکا خیل، شلوبر-قمبر خیل کے صاحب حیثیت افراد کو مختلف دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے افغانستان کے موبائل نمبرز سے بھتہ کی دھمکی آمیز کالز موصول ہو رہی ہیں۔ گزشتہ چار ماہ سے جاری اس مہم کے دوران درجنوں کاروباری افراد کو خطیر رقوم ادا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ بھتہ کی کم از کم رقم 15 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے، اور انکار کی صورت میں حجروں اور رہائشی مکانات پر دستی بم حملے کیے جا رہے ہیں۔ اب تک آٹھ ایسے حملے ہو چکے ہیں، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تقریباً 35 کلومیٹر پر محیط اس علاقے میں ہزاروں مختلف آفریدی قبائل آباد ہیں، جن میں سے 15 فیصد کاروباری طبقہ نشانہ بن چکا ہے۔ بھتہ کی کالز وصول ہونے کے بعد اکثر متاثرین خاموشی سے رقم ادا کر کے اپنی جان بچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو لوگ مزاحمت کرتے ہیں، ان کے حجروں پر حملے کیے جاتے ہیں، جو ممکنہ طور پر وارننگ کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔
باوجود اس کے کہ دہشت گرد کھلے عام حملے کر رہے ہیں، اب تک کسی متاثرہ فرد نے پولیس یا دیگر متعلقہ اداروں کو کوئی تحریری یا زبانی شکایت درج نہیں کروائی۔ پولیس نے ہر دھماکے کے بعد جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور تفصیلات جمع کیں، مگر کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
تحصیل باڑہ میں دن کے وقت پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی محدود موجودگی دیکھی جاتی ہے، جبکہ سورج غروب ہوتے ہی وہ مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، شام کے بعد دہشت گردوں کی حکمرانی ہوتی ہے اور وہ کھلے عام نقل و حرکت کرتے ہیں۔ سابقہ دہشت گردی کی لہر کے مقابلے میں، اس بار عوام زیادہ خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ نہ کوئی کھل کر بات کر رہا ہے اور نہ ہی امن کمیٹیوں یا قبائلی لشکروں کی تشکیل کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد اس حد تک متزلزل ہو چکا ہے کہ متاثرین دہشت گردوں کے خلاف رسمی شکایت درج کروانے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ خیبر کے کاروباری طبقے کی معیشت پہلے ہی تباہ حالی کا شکار ہے، کیونکہ ان کا زیادہ تر انحصار افغان تجارت پر ہے، جو سرحدی بندشوں اور تجارتی راستوں کی مسلسل رکاوٹوں کے باعث مفلوج ہو چکی ہے۔ ان نامساعد حالات میں دہشت گردوں کی بھتہ خوری نے مقامی تاجروں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے باوجود، پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت، دیگر سیاسی جماعتیں، اور مذہبی قیادت تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ نہ تو عوام کو متحرک کرنے کی کوئی کوشش کی جا رہی ہے، اور نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف مؤثر حکمت عملی بنائی گئی ہے۔
دوسری جانب، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی بدستور جاری ہیں، جس سے خوف و ہراس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ باڑہ کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے، کیونکہ پشاور کا امن براہ راست خیبر کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ تحصیل باڑہ اور جمرود، جو پشاور سے متصل ہیں، ہمیشہ حساس علاقے رہے ہیں۔ ان علاقوں میں بدامنی کا اثر براہ راست صوبائی دارالحکومت پر پڑتا ہے، جہاں سے خیبر پختونخوا کی حکومت چلائی جاتی ہے۔
اگر اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو نہ صرف باڑہ میں بدامنی مزید بڑھے گی، بلکہ پشاور کی سلامتی بھی سنگین خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔
واپس کریں