
گلوبل ٹیررزم انڈیکس 2025ء کے مطابق، پاکستان دہشت گردی سے متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار 2011ء سے 2024ء کے درمیان کے ہیں اور 2025ء کے آغاز سے ہی حالیہ دہشت گردی کی نئی لہر نے اس پہ مہر ثبت کرنا شروع کر دی ہے۔ مذکورہ عرصے کے دوران 1099 واقعات میں ایک ہزار سے زائد افراد جان سے گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق، دہشت گردی میں اضافہ طالبان کے افغانستان میں حکومت سنبھالنے کے بعد سے زیادہ ہوا اور بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے تحت جاری ہونے والے اعداد و شمار پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو نقصان پاکستان نے اٹھایا، وہ شاید ہی کسی اور ملک نے اٹھایا ہو۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ملک دشمن عناصر پاکستان میں دوبارہ انتشار پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تیار ہیں؟ اس سوال کا جواب اگر اثبات میں ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہو گا۔ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات سے الگ رکھا جائے۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔ یہ وقت کسی بھی سیاسی انتشار یا مصلحت کا نہیں بلکہ یکجہتی اور قومی سوچ اپنانے کا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جبکہ وہ اپنی کٹھ پتلی کابل انتظامہ کی بھی سر پرستی کر رہا ہے جو اس کے ایما پر پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔ بھارت صرف پاکستان میں ہی دہشت گردی نہیں پھیلا رہا بلکہ یہ دہشت گرد ملک پوری دنیا میں شرانگیزیاں کر رہا ہے جس کے ٹھوس شواہد عالمی میڈیا کے پاس بھی ہیں۔ جب تک اسے نکیل نہیں ڈالی جاتی امن کی ضمانت دینا ممکن نہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی ہے لیکن حالیہ دہشت گرد حملے ہمارے سکیورٹی نظام میں کمزوریوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے اس رِستے ہوئے ناسور کا علاج ہم نے آج ہی کرنا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی کمزوریوں پر قابو نہ پایا تو کل ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
واپس کریں