
دنیا ہمیشہ سے محبت، تعلق، جذبے اور قربت کے فطری تقاضوں کے گرد گھومتی آئی ہے، مگر جب یہی فطری میلانات بازار میں بِکنے لگیں، تو وہ محض تعلق نہیں رہتے، صنعت بن جاتے ہیں— ایک ایسی صنعت جو جذبات کو خریدتی، بیچتی اور نوچتی ہے۔ آج کی دنیا میں ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حجم تقریباً 70 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، یعنی ایک ایسا کاروبار جو ترقی پذیر ممالک کے مجموعی بجٹ سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس کے دائرے میں پورن فلم انڈسٹری، جسم فروشی، آن لائن سروسز، اور جنسی سیاحت سب شامل ہیں۔ لیکن اس صنعت کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ یہ وجود رکھتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا اصل ایندھن کون ہے، اور فائدہ کون اٹھاتا ہے۔
محتاط اندازوں کے مطابق، اس وقت دنیا میں 60 سے 100 ملین افراد اس دھندے میں براہ راست ملوث ہیں، جن میں سے 98 فیصد عورتیں ہیں۔ مگر وہ اصل مالکان نہیں، بس پراڈکٹ ہیں۔ دلالوں، ہوٹل مالکان، سیکیورٹی گارڈز، ٹریول ایجنٹس، اور بارڈر کراسنگ کے نیٹ ورکس سے لے کر ان سیاستدانوں تک، جو خاموشی سے اس کاروبار کو پنپنے دیتے ہیں، سب اس کا نفع سمیٹتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس انڈسٹری سے کمائے گئے 90 فیصد پیسے ان مردوں کے ہاتھ میں جاتے ہیں جو اس دھندے کو چلاتے ہیں، جبکہ عورت کو بمشکل 10 فیصد ہی مل پاتا ہے، اور وہ بھی عموماً زخموں، تلخیوں اور غلامی کے داغوں کے ساتھ۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ کاروبار کیوں اتنا وسیع ہو چکا ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے: مرد کی جنسی ناآسودگی۔ تاریخی طور پر، مرد کبھی بھی "مونوگیمس" یعنی یک زوجگی کے لیے موزوں نہیں سمجھا گیا۔ قدیم قبائل، بادشاہتیں اور سماجی ڈھانچے ہمیشہ مرد کی جنسی بھوک کے مطابق ترتیب دیے گئے، جہاں حرم، داشتائیں، باندیاں اور رقص و سرور کی محفلیں اس بھوک کی تسکین کا سامان فراہم کرتی رہیں۔اسلام میں چار شادیوں کی اجازت اور سنت بھی اسی انسانی جبلت اور فطرت کو دیکھتے ہوئے دی گئی ہے۔ مگر صنعتی انقلاب کے بعد، جب معیشت نے خاندان کے ادارے کو مرکزی حیثیت دی، تو مرد کو قانونی طور پر ایک ہی عورت تک محدود رکھنے کا چلن عام ہوا۔ اس کے باوجود، مرد کی جبلتیں وہی رہیں، فرق بس اتنا آیا کہ اب اس ناآسودگی نے ایک پوری مارکیٹ کو جنم دے دیا۔
دنیا میں ہر 10 میں سے ایک مرد مانتا ہے کہ اس نے زندگی میں کبھی نہ کبھی جنسی خدمات کے لیے پیسے ادا کیے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان میں سے بھی 99 فیصد کسی نہ کسی طرح آن لائن پورن یا جنسی مواد کا استعمال کر چکے ہیں۔ اس صنعت میں سالانہ اتنی بڑی رقم گردش کر رہی ہے کہ اگر اس سے ہسپتال، سکول یا فلاحی منصوبے بنائے جائیں، تو کئی ترقی پذیر ممالک کی قسمت بدل سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سرمایہ دوبارہ اسی دھندے میں جھونک دیا جاتا ہے، کیونکہ مرد کے جذباتی سکون سے زیادہ اس کی "نا آسودگی" کا کاروباری استعمال ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سی عورتیں خود کو اس نظام کا حصہ بننے پر مجبور پاتی ہیں۔ کچھ معصوم بچیوں کو ٹریفکنگ مافیا کے ہاتھوں بیچ دیا جاتا ہے، کچھ کو غربت اور بے بسی دھکیل دیتی ہے، اور کچھ اس دھندے کو آزادی کا نام دے کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آج کی جدید دنیا میں جہاں "عورت کی آزادی" کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، وہیں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی یہ آزادی ہے، یا ایک نئی شکل کی غلامی؟
یہ مسئلہ صرف عورتوں کے استحصال تک محدود نہیں، بلکہ پورے سماج کے فکری دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے۔ جب تک مرد کی ناآسودگی کو مصنوعی ذرائع سے پورا کرنے کے بجائے صحیح جذباتی اور نفسیاتی تسکین کا نظام نہیں بنایا جاتا، یہ کاروبار چلتا رہے گا۔ ہمیں سماجی سطح پر ایسی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے جو رشتوں کی بنیاد محبت، عزت اور احساس پر رکھے، نہ کہ ہوس، پیسے اور خرید و فروخت پر۔ ورنہ یہ "ایڈلٹ صنعتی انقلاب" یونہی نسل در نسل اپنی جڑیں گہری کرتا رہے گا، اور اس کی قیمت وہی ادا کرے گا جو صدیوں سے کرتا آ رہا ہے— عورت!
واپس کریں