
(تحریر!صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی)رمضان المبارک کا پورا ماہ منور برکتوں اور رحمتوں سے بھرا ہوا ہے اس میں گناہگاروں کی مغفرت و معافی عام ہوتی ہے گویا یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے اس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات ہے اس ماہ کامران میں مومن کا رزق فراخ کر دیا جاتا ہے نیکیوں کے اجر کو سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے اس کی سحری میں برکت اور افطا ر میں قبولیت دعا ہے اسے لسان نبوت نے شہر المواساۃ یعنی ہمدردی کا مہینہ قرار دیا ہے اس ماہ کے روزوں کو اللہ نے فرض کر کے اپنے لئے خاص فرمایا اور اس ماہ کے روزوشب کو صیام اور قیام سے منسلک کر کے بھرپور تربیتی نصاب بنایا گیا ہے اس ماہ نفل کا درجہ بڑھا کر فرض اور ایک فرض کو ۰۷ فرائض کے برابر بنایا گیا ہے رب کریم نے اپنے بندوں اور اپنے پیارے محبوب پاکﷺکی لاڈلی امت کو یہ ماہ غفران تحفہ میں عطا فرماکر ان پر بے حد و حساب احسان فرمایا ہے جس کا شکر ہم کبھی بھی ادا نہیں کر سکتے غرض یوں تو پورا رمضان ہی باعث شفاعت و نجات ہے لیکن لیلتہ القدر جو صرف سرکار کونین ﷺ کے صدقے میں آپ ہی کی امت کے حصہ میں آئی ہے اس کی تو شان ہی نرالی و منفرد ہے یہ جب آتی ہے تو اپنے جلو میں بے پناہ رحمتیں برکتیں لے کر آتی ہے اس شب کی عبادت کو ہزار ماہ کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا ہے اور ہزار ماہ تقریبا ۳۸ برس ۴ماہ بنتے ہیں ۶گویا کہ جو خوش نصیب اس میں رات بھر عبادت میں مصروف رہتا ہے وہ تراسی برس چار ماہ کی عبادت سے کہیں زیادہ اجر و ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے لیلتہ القدر کی عظمت و فضلیت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس ضمن میں قرآن کریم کی پوری سورۃ نازل ہوئی ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ ترجمہ!بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں اتارا اور آپ کیا سمجھے شب قدر کیا ہے شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور جبرائیل اپنے پروردگار کے حکم سے ہر کام کے لئے اترتے ہیں وہ رات سلامتی ہے فجر طلوع ہونے تک (سورہ القدر،پ۰۳)قدر کے ایک معنی شرف و منزلت کے ہیں چنانچہ علامہ قرطبی اس معنی کے لحاظ سے اس رات کو لیلتہ القدر تعبیر کرنے کی وجہ سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک بڑی قدر و منزلت والی کتاب (قرآن مجید) بڑی قدر و منزلت والے رسول اللہ ﷺ پر اور بڑی قدرو منزلت والی امت کے لئے آسمان دنیا پر لوح محفوظ سے نازل فرمایا اور پھر اسے ۳۲ برس کی مدت میں مکمل فرمایا علامہ زہری لکھتے ہیں بایں وجہ اس کو لیلتہ القدر کہتے ہیں کہ اس میں نیک بندوں اور عبادت گزاروں کی اللہ تعالیٰ اور عالم بالا کے ساکنان کے نزدیک بری قدرو منزلت ہوتی ہے بلکہ اہل صفا جن کا ظاہر و باطن آیئنہ کی طرح صاف و شفاف ہوتا ہے سے مصافحہ بھی کرتے ہیں اور عام ایمانداروں کو بھی چھوتے ہیں جو مصروف عبادت ہوتے ہیں گو ان کو چھونے میں دقت محسوس نہ ہو مگر اس چھونے کا اثر رقت قلبی،گریہ و زاری، گناہوں پر نادم ہونے، آنسو بہانے اور دعا و اسغفار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اس رات میں ان کے اعمال صالحہ کی قدر ومنزلت باقی راتوں کے مقابلہ میں ہزار درجہ زیادہ ہوتی ہے قدر کا معنی تنگی بھی آتا ہے اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اسی معنی میں استعمال ہوا ہے اس معنی کے اعتبار سے اسے لیلتہ القدر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس رات آسمان سے فرش زمین پر اتنی کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ زمین باوجود بے پناہ وسعتوں کے تنگ ہو جاتی ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ چونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سال کی تقدیر و فیصلے کا قلمدان فرشتوں کو سونپا جاتا ہے اس وجہ سے بھی اسے لیلتہ القدر کہتے ہیں امام ابو راق فرماتے ہیں کہ یہ رات عبادت میں مصروف بندے کو چونکہ صاحب قدر بنا دیتی ہے اگرچہ وہ پہلے اس لائق نہ تھا اس لئے بھی اس کو شب قدر کہتے ہیں اس رات کو فرشتوں کی پیدائش ہوئی بنی اسرائیل کی توبہ اس رات کو قبول ہوئی جنت میں درخت بھی اس رات لگائے گئے اور یہ نزول قرآن پاک کی شب اور قیام پاکستان کی شب ہے اس رات حضرت جبرئیل ؑ امین فرشتوں کی ٹولیوں کے ہمراہ نازل ہو کر عبادت میں مصروف بندگان خدا کو سلام اور مصافحہ کرتے ہیں اس رات کا ہر ہر لمحہ قیمتی ہے اور سلامتی ہے حتیٰ کہ اس شب سانپ،بچھو اور دیگر آفات و بلیات اور شیاطین سرکش جنات سے بھی ہم محفوظ کر لیے جاتے ہیں ایک روز سرکار مدینہ ﷺ اپنے حجرہ مبارک سے جلوہ گر ہوئے تو لوگوں کو مناجات میں مشغول پایا ارشاد فرمایا میں تمھارے پاس اس ارادہ سے آیا تھا کہ تم کو شب قدر کی اطلاع کروں مگر مجھ کو خوف ہے کہ تم اسکو ضبط نہ کر سکو گے تم اسے رمضان کے آخری عشرہ کی جبکہ ۹ راتیں باقی رہ جائیں تلاش کیا کرو حقیقت تو یہ ہے کہ اس رات کے ملنے میں حضور پاک ﷺ کی رحمت تمام اور اپنی امت پر شفقت و غمخواری کا بڑا دخل ہے جس کی نشاندھی مختلف احادیث سے ثابت ہے یعنی بلاشب یہ چب قدر اللہ کا امت رسول ﷺ پر ایک عظیم انعام عطا جزیل ہے جو فقط امت رسول ﷺ کی ہی خصوصیت ہے کسی اور امت کو یہ عطا نہیں ہوئی جب رسول کریم ﷺ کو سابقہ لوگوں کی عمروں پر آگاہ کیا گیا تو آپ نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو دیکھتے ہوئے یہ خیا ل فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی مختصر عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کر سکیں گے جب اللہ نے آپ ﷺ کے مقدس دل کو اس معاملہ میں ملول و پریشان دیکھا تو آپ ﷺ کو لیلتہ القدر عطا فرما دی جو صدقہ میرے آقا کریم کا ہے دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ بارگاہ رسالت ﷺ میں بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں جہاد میں مصروف رہا تو حضور پاک ﷺ نے اس پر تعجب فرمایا اور اپنی امت کے لئے آرزو کرتے ہوئے جب یہ دعا کہ اے میرے اللہ! میری امت کے لوگوں کی عمریں کم ہونے کی وجہ سے نیک اعمال بھی کم ہوں گے تو اس پر اللہ نے یہ شب قدر عنایت فرمائی ایک روایت یہ بھی ہے کہ ایک بار حضور اکرم ﷺ کے سامنے مختلف شخصیات حضرت ایوبؑ حضرت زکریاؑ حضرت حزقیلؑ حضرت یوشعؑ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حضرات نے اسی اسی سال متواتر اللہ کی عبادت کی ہے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی صحابہ کرام ؓ کو ان برگزیدہ ہستیوں پر رشک آیا تو اسی وقت جبرائیل ؑ حضور کی پاک بارگاہ عالیہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کی امت کے افراد ان سابقہ لوگوں کی اسی اسی سالہ عبادت پر رشک کر رہے ہیں تو آپ کے رب نے آپ ﷺ کو اس سے بہتر عطا فرمادیا ہے اور پھر سورۃ القدر کی تلاوت کی اس پر رسول خداﷺ کا چہرہ اقدس فرچ مسرت سے چمک اٹھا گویا لیلتہ القدر امت رسول کو خدائی تحفہ ملا جو حضور پاک ﷺ کا صدقہ ہے اس رات کی بہت فضلیت ہے اللہ کے بنی پاک ﷺ نے فرمایا حضرت ابو ہریرہؓ مروی ہیں کہ جس شخص نے ایمان اور احتساب کے ساتھ شب قدر میں عبادت کے لئے قیام فرمایا اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک بار رسول خداﷺ نے فرمایا کہ یہ جو ماہ تم پر جلوہ فگن ہوا ہے اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی محروم رہ سکتا ہے جو واقعتہ محروم ہو یعنی اضلی بد بخت ہو حضرت سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا شب قدر کو جبرائیل ؑ امین فرشتوں کے جھرمٹ میں فرش زمین پر اترتے ہیں اور ہر اس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے یا بیٹھے اللہ تعالیٰ کو یاد کر رہا ہو بلکہ متعدد مقامات پر آیا ہے کہ جب فرشتے عبادت کرنے والوں سے مصافحہ کرتے ہیں تو اس عبادت میں مصروف بندے کو روحانی کیف و سرور ملتا ہے اور دلوں پر عجب رقت آمیز کیفیت طاری ہوتی ہے اور عبادت مزید پر لطف ہو جاتی ہے اب سوال یہ ہے کہ اس رات کو اخفاء رکھنے میں کیا حکمتیں تھیں یا اس رات کو پردہ اخفاء میں کیوں رکھا گیا؟اس ضمن میں بھی ارباب علم حکمت نے متعد د حکمتیں بیان کی ہیں وہ یہ کہ اللہ نے دیگر اہم مخفی امور مثلا اسم اعظم،جمعہ کے روز قبولیت کی دعا کی گھڑی کو اخفا میں رکھا ایسے ہی اس رات کو بھی پوشیدہ رکھا تاکہ اسم اعظم اور قبولیت دعا کی ساعت کے حصول کی طرح اس رات کے پانے میں بھی زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے اس رات کو اس لئے نہیں متعین کیا گیا تاکہ فرزندان اسلام اک کی تلاش و جستجو میں زیادہ نہیں تو کم از کم پانچ طاق راتیں اللہ کے ذکر و عبادت میں گزاریں اگر اسے مخفی نہ رکھا جاتا اور متعین کر دیا جاتا تو عمل کی راہ مسدود ہو جاتی اور لوگ صرف اسی رات کو ہی جاگتے چنانچہ ذوق عبادت میں دوام کی خاطر اس کو عیاں نہیں کیا گیا دوسرا اگر اس رات کو عیاں کر دیا جاتا تو اس صورت مین جب کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی انسان اس کی عبادت سے رہ جاتا تو شاید اس صدمے کا ازالہ ممکن نہ ہوتا اس رات کو اگر مقرر کر دیا جاتا تو اسے ذکر و عبادت سے گزارنے والے تو اجر عظیم کے مستحق قرار پاتے لیکن اسے گناہوں میں صرف کرنے والے بھی سنگین سزا میں مبتلا کئے جاتے کیونکہ انھوں نے شب قدر پہچانتے ہوئے اسے خدا کی نافرمانی میں ضائع کیا اور اس لئے بھی اس رات کو مستور رکھا گیا تاکہ جس قدر راتیں اس کی طلب و تلاش میں خرچ ہوں ان سب کا مستقل اور علیحدہ ثواب ملے اس رات کے تعین کے بارے میں تقریبا پچاس اقوال ملتے ہیں جن میں سے چند قارئین کی نظر کرتا ہوں حضرت عائشہ صدیقہؓ ام المومنین سے روایت ہے کہ حضور نبی پاکﷺ نے فرمایا لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو یعنی یہ شب ۱۲،۳۲،۵۲،۷۲،۹۲ویں شب میں سے کوئی ایک رات ہے یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کے لئے اعتکاف کو آخری عشرہ میں سنت قرار دیا گیا تاکہ معتکف اس کو آسانی سے پا لے نبی پاک ﷺ بھی اس رات کے لئے تا دم وصال آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے جب کہ پہلے آپ پورا ماہ رمضان اعتکاف بیٹھا کرتے اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ ستائیسویں رات شب قدر ہے حضرت ابی بن کعبؓ تو قسم کھایا کرتے تھے کہ ۷۲ کی رات ہی لیلتہ القدر کی ہے اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی بھی یہی رائے ہے اور وہ اس کے تعین میں تین دلیلیں بیان کرتے تھے ۱۔لیلتہ القدر کے الفاظ ۹ حروف پر مشتمل ہیں اور یہ الفاظ اس سورۃ میں تین بار استعمال ہوئے ہیں جن کا مجموعہ ستائیس بن جاتا ہے سورۃ قدر کے کل ۰۳ الفاظ ہیں جن کے ذریعہ شب قدر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے لیکن اس سورۃ میں جس لفظ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ ھی ضمیر ہے اور یہ لفظ اس سورۃ کا ۷۲ واں لفظ ہے اسی طرح امام اعظم حضرت نعمان بن ثابتؓ کا قول ہے کہ شب قدر ۷۲ ویں رمضان ہے امام شافعی ؓ امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک شب قدر آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک ہے امام الاولیاء غوث الاعظم شیخ حضرت عبد القادر جیلانیؓ الحسنی والحسینی کے نزدیک بھی ۷۲ ویں شب شب قدر ہے اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی بھی فرماتے ہیں کہ ۷۲ ویں رات شب قدر ہے اس رات کی علامات اور آثار میں یہ ہے کہ یہ رات کھلی ہوئی چمکدار نہایت ہی صاف و شفاف ہوتی ہے نہ زیادہ گرم اور نہ ہی زیادہ سرد بلکہ معتدل ہوتی ہے گویا کہ اس میں چاند کھلا ہوا ہوتا ہے اس میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے نیز اس کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی صبح کو آفتاب بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے ایسا بالک ہموار ٹکیہ کی طرح ہوتا ہے جیسا کہ چودھویں رات کا چاند جناب ابی لبابہؓ فرماتے ہیں کہ مین نے رمضان کی ستائیسویں رات کو سمندر کا پانی چکھا تو بالکل میٹھا تھا مشائخ عظام فرماتے ہیں کہ اس رات ہر چیز سجدہ کرتی ہے حتیٰ کہ درخت زمین پر گر جاتے ہیں اور پھر اپنی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں مگر ان امور کا مشاہدہ ہرکس و ناکس کو نصیب نہیں ہوتا چنانچہ یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ شب قدر اپنے جلو میں بے پناہ برکتیں رحمتیں اور سعادتیں لے کر آتی ہے ان تمام سعادتوں سے وہی بازیاب اور نفع اندوز ہو سکتا ہے جو خلوص دل سے اور رضائے الہیٰ کی خاطر اس شب کو بیداری کا اہتمام کرے ساری رات عبادت،تلاوت،نعت خوانی ذکر و درودوسلام اور کژت سے توبہ اسغفار میں گزارے کیوں کہ یہ رات تو گناہگاروں کی مغفرت اور مجرموں کی جہنم سے نجات کی رات ہے یہ رات کثرت نوافل،صدقات،خیرات،عجزوانکساری اور احتساب عمل کی شب ہے اس رات جو اعمال بزرگان دین سے منسوب ہیں ان میں سے بعض درج ذیل ہیں ۱۔ چار رکعت نماز نوافل پڑھیں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ القدر اور سورۃ اخلاص ۵،۵مرتبہ پڑھیں ۲۔بارہ رکعت نوافل میں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ قدر ۳بار اور سورۃ اخلاص ۰۱ بار پڑھ کر نماز ختم کریں صلوۃ اتسبیح کا اہتمام کریں نیز آداب دعا کا لحاظ رکھتے ہوئے محبوبان خدا کے وسیلہ سے خصوصی دعا کریں اپنے لئے مانگیں اپنے والدین عزیز و اقارب دوست احباب کے لئے بیماروں پریشاں حال لوگوں اور اپنے پاک پاکستان جو اسی شب کے طفیل بنا تھا اور یہ دعا ضرور کریں کہ اللہ ہمیں یہ شب جمعتہ الوداع زندگی میں بار بار نصیب فرمائے اور ہمارے ملک میں سے دھشت گردی کو مکمل ختم فرما کر دھشت گردوں کو نیست وبابود فرمائے آمین
واپس کریں