دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہر کشمیری کے دل میں پاکستان کی محبت لہو بن کر دوڑتی ہے
No image تحریر سمعیہ ساجد مرکزی چیئرپرسن مسلم کانفرنس خواتین ونگ / چیئرپرسن کشمیرویمن الرٹ فورم (کواف)
23 مارچ 1940 کا دن برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی موڑ تھا، جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ پاکستان منظور کی گئی۔ یہ وہ عہد تھا جس نے قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کی اور مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کے قیام کے لیے متحد کر دیا۔ آج بھی، یہ دن ہمیں نہ صرف پاکستان کے قیام کی جدوجہد بلکہ کشمیر کی آزادی کے لیے جاری قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور کشمیری عوام اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس نظریے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
19 جولائی 1947: قراردادِ الحاقِ پاکستان
جب برصغیر میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی، تب 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے ایک تاریخی فیصلہ کیا اور متفقہ طور پر“قراردادِ الحاقِ پاکستان”منظور کی۔ یہ قرارداد کشمیری عوام کی اس دلی خواہش کی عکاسی تھی کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں، کیونکہ ان کی مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور تاریخی وابستگی پاکستان سے تھی۔یہی وہ قرارداد تھی جس نے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو مزید تقویت بخشی اور کشمیری عوام نے اپنے خون سے اس عہد کی تجدید کی کہ“کشمیر بنے گا پاکستان”۔
مجاہدِ اول اور کشمیر بنے گا پاکستان
تحریکِ آزادیِ کشمیر میں“مجاہدِ اول”سردار محمدعبدالقیوم خان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے 1947 میں کشمیر کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے نہ صرف تحریکِ آزادی کو منظم کیا بلکہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد کو بھی تقویت بخشی۔ ان کا نعرہ“کشمیر بنے گا پاکستان”کشمیری عوام کی امنگوں کا حقیقی ترجمان بن گیا، جو آج بھی وادی میں گونج رہا ہے۔
سید علی گیلانی: تحریکِ آزادی کا عظیم رہنما
کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، اور اس محبت کا سب سے بڑا مظہر ممتاز حریت رہنما سید علی گیلانی کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت میں گزاری اور ہمیشہ واضح اور دوٹوک موقف اپنایا کہ“ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔بھارتی جبر کے باوجود سید علی گیلانی کا دل ہمیشہ پاکستان کے لیے دھڑکتا رہا۔ انہیں کئی دہائیوں تک نظر بند رکھا گیا، لیکن وہ آخری دم تک اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔ ان کی زندگی قربانی، صبر اور استقلال کی علامت تھی۔ وہ کشمیری عوام کے دلوں میں امید کی کرن تھے، جنہوں نے ہر فورم پر کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے الحاق کی بات کی۔جب 2021 میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے، تو بھارتی حکومت نے ان کے جنازے کو پاکستانی پرچم میں لپیٹنے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن کشمیری عوام نے ان کی آخری خواہش پوری کی اور انہیں سبز ہلالی پرچم میں دفن کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سید علی گیلانی کی جدوجہد آج بھی کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے نوجوان اور پاکستان سے محبت
بھارتی مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کی پاکستان سے والہانہ محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارتی ظلم و جبر، پیلٹ گنز، گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل کے باوجود کشمیری نوجوان ہرپاکستان کے قومی دن کے موقع پرسبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، پاکستان کے قومی ترانے گاتے ہیں، اور ہر عالمی فورم پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔سری نگر، پلوامہ، بارہ مولہ اور دیگر علاقوں میں بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود کشمیری نوجوان پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرتے ہیں۔ وہ شہادت کو اپنی منزل سمجھتے ہیں اور پاکستانی پرچم میں لپٹ کر دفن ہونا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی کشمیری نوجوان شہید ہوتا ہے، اس کے جنازے میں پاکستان کے پرچم کو لپیٹ کر اسے الوداع کیا جاتا ہے۔ یہ جذبہ ثابت کرتا ہے کہ“ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”صرف سید علی گیلانی کا نعرہ نہیں بلکہ ہر کشمیری نوجوان کے دل کی آواز ہے۔
افواجِ پاکستان: کشمیریوں کے محافظ
پاکستان کی مسلح افواج ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہیں۔ بھارت کے ظالمانہ تسلط اور کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف پاکستان کی فوج ہر فورم پر آواز بلند کرتی ہے۔ افواجِ پاکستان نہ صرف ملک کی سرحدوں کی محافظ ہیں بلکہ کشمیری عوام کے دلوں میں امید اور حوصلے کی علامت بھی ہیں۔ہر بار جب بھارتی فوج کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتی ہے، تب افواجِ پاکستان کا ایک سپاہی اپنے دل میں شہادت کی خواہش لیے وطن کی حفاظت کے لیے سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کی فوج کو اپنی آزادی کی جدوجہد میں ایک مضبوط سہارا سمجھتے ہیں۔
23 مارچ صرف پاکستان کے قیام کا دن نہیں، بلکہ ہمیں ہماری قومی ذمہ داریوں کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔ ہمیں پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی میں ان کا ساتھ دینا ہے۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا، اور سید علی گیلانی کا خواب حقیقت میں بدلے گا۔
پاکستان زندہ باد! کشمیر پائندہ باد!
کشمیر بنے گاپاکستان!
واپس کریں